یہ منظر، ہوا کے سینے پر تیرتا ہوا ایک طیارہ، مگر اس کے اندر خاموشی کا ایسا کرب جیسے تاریخ خود سانس روکے کھڑی ہو. کسی عام سفارتی سفر کا نہیں، ایک عہد کے احتساب کا استعارہ ہے۔ نشستوں پر بیٹھے ہوئے مسافر نہیں، بلکہ معصوم بچوں کی تصویریں ہیں؛ وہ بچے جن کی مسکراہٹوں کو بارود نے چُرا لیا، جن کے خوابوں کو سامراجی آہنی پرندوں نے روند ڈالا۔ اور ایک طرف ایک سنجیدہ چہرہ، سر جھکائے کھڑا—گویا اپنے ضمیر کے کٹہرے میں خود ہی گواہ بھی ہے اور منصف بھی۔
یہ کوئی معمولی وفد نہیں جو سرزمینِ پاکستان پر اترا ہے۔ یہ ان لوگوں کا قافلہ ہے جنہوں نے آگ کے دریا کو پار کیا، جنہوں نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر عزم کے چراغ جلائے، جنہوں نے بمباری کی گرج میں بھی استقلال کی صدا بلند رکھی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کل تک “دہشت گرد” کہہ کر دنیا کے ضمیر کو دھوکہ دیا جاتا تھا، مگر آج انہی کے در پر مذاکرات کی دہلیز سجائی جا رہی ہے۔ تاریخ کے اوراق پر یہ کیسا طنز رقم ہو رہا ہے کہ کل کا محکوم آج برابر کی سطح پر گفتگو کی شرط رکھ رہا ہے!
کاش قلم کو تلوار بنا سکتا، لفظوں کو بارود اور جملوں کو بغاوت کی صدا۔ سامراج کی رعونت ہمیشہ توپوں کے دہانے سے بولتی ہے، مگر جب اس کے سامنے عزمِ صادق کھڑا ہو جائے تو اس کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ چھ ہفتوں کی قیامت خیز بمباری، آگ اور خون کا طوفان، مگر نتیجہ؟ وہی ایران، وہی قیادت، وہی استقامت—بلکہ پہلے سے زیادہ سربلند!
یہ طیارہ دراصل ایک چلتا پھرتا نوحہ ہے مگر ایسا نوحہ جو شکست کا نہیں، مزاحمت کا استعارہ ہے۔ بچوں کی تصویریں محض یادگار نہیں، یہ عالمی ضمیر کے چہرے پر طمانچہ ہیں۔ یہ اعلان ہیں کہ ہم نے اپنے زخموں کو چھپایا نہیں، بلکہ انہیں دلیل بنا کر دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو نہ سفارتی آداب کی پابند ہے، نہ عالمی طاقتوں کی لغت میں قید… یہ مظلوم کی زبان ہے، اور مظلوم جب بولتا ہے تو تاریخ لرزتی ہے۔
اور دیکھو! وہی امریکہ، جس نے اپنے تکبر کے مینار آسمان تک اٹھا رکھے تھے، آج مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہے۔ اس کے نائب صدر کا وفد، گویا طاقت کے غرور کی پسپائی کا اعلان ہے۔ سامراج ہمیشہ طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اور ایران نے اسے وہی زبان سکھائی—میزائلوں کی گھن گرج میں، عوام کی استقامت میں، اور شہداء کے لہو کی خوشبو میں۔
یہ لمحہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں، بلکہ عالمی سیاست کے محور کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ چار صدیوں سے مغرب نے دنیا کے نقشے پر اپنی مرضی کے رنگ بھرے، قوموں کی تقدیریں تحریر کیں، اور کمزور ممالک کو کبھی خطوں، کبھی دھمکیوں اور کبھی پابندیوں کے ذریعے جھکایا۔ مگر اب وقت کی دھارا پلٹ رہی ہے۔ یہ ایک نئی دنیا کی تمہید ہے. جہاں فیصلے واشنگٹن یا لندن کے ایوانوں میں نہیں، بلکہ تہران، بیروت، غزہ اور اسلام آباد کی سرزمین پر ہوں گے۔
مگر یہ راستہ آسان نہیں۔ تاریخ کا پہیہ خون سے رنگے بغیر نہیں گھومتا۔ ایران، لبنان اور غزہ نے جو قیمت ادا کی ہے، وہ صرف جغرافیے کی نہیں، نظریے کی قیمت ہے۔ اگر اس نئے عہد کو حقیقت بنانا ہے تو قربانی کی یہی روایت آگے بڑھانی ہوگی۔ کیونکہ آزادی کبھی تحفے میں نہیں ملتی، اسے چھینا جاتا ہے اور چھیننے کے لیے حوصلہ، اتحاد اور استقامت درکار ہوتی ہے۔
پس یہ طیارہ محض ایک پرواز نہیں، یہ اعلان ہے کہ اب گھٹنے ٹیکنے کا زمانہ گزر چکا۔ مذاکرات ہوں گے، مگر برابری کی بنیاد پر۔ بات چیت ہوگی، مگر عزتِ نفس کے ساتھ۔ اور یہ جو بچوں کی تصویریں ہیں یہ اس بات کی ضمانت ہیں کہ اس بار تاریخ کو خاموش نہیں رہنے دیا جائے گا۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں افق بدل رہا ہے، جہاں زوال پذیر مغرب کے سائے سکڑ رہے ہیں اور مشرق کی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ اور شاید پہلی بار، طویل اندھیری رات کے بعد، ہمیں اپنی منزل کی دھندلی سی جھلک نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔


