کیا دنیا بھر میں کسی ایسے ملک کا نام لیا جا سکتا ہے جہاں ایران نے خود کو اتنا محفوظ سمجھا ہو کہ وہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات وہاں کرے اور اسے پورا یقین ہو کہ اس کے وفود کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا؟ پاکستان نے جو حفاظتی اور سفارتی ماحول فراہم کیا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ بہت سے لوگ حیران ہیں کہ اسرائیل اپنی مہم جوئی سے باز کیوں رہا اور پاکستان نے اسے کیسے روک کر رکھا۔ یہ کہنا کہ ایرانی وفد کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا، علاقائی سیاست کے خطرناک حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
یہ دیکھنا بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والا ایک مخصوص گروہ، جو کہ پڑھا لکھا بھی ہے، وہ ان مذاکرات کی ناکامی کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے ریاست، حکومت اور فوج کے امیج کو نقصان پہنچانے کی خواہش نے انہیں وہی بیانیہ دہرانے پر مجبور کیا جو دشمن میڈیا کا خاصہ ہے۔ اپنے ہی شہریوں کو سیاسی مفاد کے لیے قومی پرچم کی ساکھ داؤ پر لگاتے دیکھنا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ایران پاکستان پر اتنا بھروسہ کیوں کر رہا ہے جبکہ پاکستان نے ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس کا جواب اس گہرے احترام میں چھپا ہے جو ایران پاکستان کے لیے رکھتا ہے۔ ماضی کے تنازعات کے باوجود، ایرانی پارلیمان میں پاکستان کے لیے “اسٹینڈنگ اوویشن” دی گئی اور شکریہ ادا کیا گیا۔ ایران اپنے مفادات کو نظر انداز کر کے میز پر نہیں آیا، بلکہ وہ پاکستان کی بطور ثالث حیثیت پر بھروسہ کرتا ہے۔ یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ جہاں ایران اتنا اعتماد دکھا رہا ہے، وہاں ہمارے اپنے سوشل میڈیا “وارئیرز” اپنے ایجنڈے بیچنے میں مصروف ہیں؛ ان کی حالت “مدعی سست، گواہ چست” جیسی ہے۔ ایران نے تو بھروسے کا انتخاب کیا، لیکن ان کی بورڈ ناقدین کے ہاتھ اپنے ناکام بیانیے کے سوا کچھ نہ آیا۔
اسرائیل ہماری طاقت کی حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ لبنان، لیبیا، شام، کویت یا عراق کے برعکس پاکستان ایک مستحکم ایٹمی قوت ہے۔ ہماری عسکری طاقت ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر اسرائیل ہماری تحویل میں موجود پاکستانی اثاثوں یا ایرانی وفد کو نشانہ بنانے کی جرات کرتا تو ہمارا جواب قطعی اور انتہائی تباہ کن ہوتا۔ ہماری خودمختاری کی ایسی کسی بھی خلاف ورزی پر ایسا شدید ردعمل دیا جاتا جو حملہ آور کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتا۔ پاکستان کا عزم محض ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک ایسی حتمی کارروائی ہے جو اسرائیل کو اس کی اس مہلک غلطی پر نسلوں تک پچھتانے پر مجبور کر دیتی۔ انہوں نے 1998 میں آپریشن سینٹینل کے وقت کوئی قدم اٹھانے کا خطرہ مول نہیں لیا تھا اور وہ اب بھی ہماری ریڈ لائنز کو عبور کرنے کی جرات نہیں کریں گے۔
مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو چکا ہے، اور اگرچہ ہم دعا گو ہیں کہ حتمی معاہدہ طے پا جائے، ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس معاملے کا حل نہ نکلنا خطے کے لیے تباہ کن ہوگا۔ حتمی نتیجے سے قطع نظر، یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی تزویراتی اور سفارتی فتح ہے۔ امریکہ اور ایران کی چالیس سالہ دشمنی میں کسی دوسرے ملک نے اس طرح آگے بڑھنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ تاریخ اس کوشش کو یاد رکھے گی اور پاکستان کی اس بہادری کو سراہے گی۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم ہی وہ واحد قوم ہیں جو ایسی شدید دشمنیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس نے پاکستان کو مسلم دنیا کے ایک مرکزی سفارتی ستون کے طور پر دوبارہ قائم کر دیا ہے۔ بھارت نے کبھی ہمیں تنہا کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج وہ خود تنہا کھڑا پاکستان کو ایک امن ساز کے طور پر مرکزی کردار ادا کرتے دیکھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ان حلقوں کے لیے جو اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں، یاد رکھیں کہ 26 فروری 2019 کے واقعات کے بعد بھی جب ہم نے پائلٹ واپس کیا تھا، تو تنہائی کے دعوے کیے گئے تھے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہٹ دھرمی سے آگے بڑھ کر یہ تسلیم کیا جائے کہ ریاست نے کب درست قدم اٹھایا ہے۔ ملک ہمیشہ پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ وہ لوگ جنہوں نے ایک غیر سنجیدہ اور منفی راستہ اپنایا، وہ آخر کار جان لیں گے کہ وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے۔
پاکستان زندہ باد


