کاہلی وجود کا جمود/ڈاکٹر اظہر وحید

ہم سمجھتے ہیں، شاید سستی، کاہلی اور ہمارے وجود کے جمود کی وجہ سے ہم اطاعت سے دور رہتے ہیں، اگر ہمارے اندر سستی کاہلی کا وجود نہ ہو تو ہم شائد اطاعت میں پیش پیش ہوں۔ یہ خیال درست نہیں۔ دراصل یہ اطاعت ہے جو ہمارے وجود سے کاہلی اور سستی کو کافور کر دیتی ہے اور ہمیں وجود کے جمود سے نجات دیتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں، شاید اطاعت ظاہری اعضا و جوارح کی حرکات و سکنات کا نام ہے، اگر ہمارے ظاہری اعمال درست ہو جائیں تو ممکن ہے ہمارے باطنی احوال بھی درست مقام پر جگہ پا لیں۔ یہ خیال بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اطاعت کا تعلق نیت کے درست ہونے کے ساتھ ہے۔ اطاعت کا تعلق ہمارے باطن کے ساتھ ہے۔ اگر باطن میں اطاعت کا جوہر جاگزیں ہو گا تو ظاہر میں از خود اعمالِ صالح سرزد ہونے لگیں گے۔ ظاہر باطن پر کتنا اثر ڈالتا ہے، اس کا تعین مشکل ہے۔ باطن کا اثر ظاہر پر مرتب ہونا ایک یقینی امر ہے۔ اگر کسی شخص کو تمام عمر مسجد و خانقاہ میں رکھا جائے تو لازم نہیں کہ وہ ایک تزکیہ شدہ انسان کی صورت میں باہر نکلے، لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ باطنی طور پر اصلاح شدہ شخص، مسجد ہو یا بازار، ہر جگہ بے ضرر رہے گا، عاجزی اور شکرگذاری میں پایا جائے گا۔
یہاں یہ اشکال بھی دور ہوا کہ ہم مزید علم کیوں حاصل کریں جب پہلے سے حاصل شدہ علم ہمیں عمل کی طرف نہیں لے کر جا سکا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ وہ عمل میں پیچھے رہ گئے ہیں اس لیے ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ مزید حصولِ علم کی طرف توجہ نہ دیں، مبادا مزید علم بھی بے عملی کی وجہ سے ان پر وبالِ مزید بن جائے۔ یہ خیال درست نہیں۔ علم اور عمل میں فاصلہ کوششِ محض سے کم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے کسی کشش کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی باعمل انسان کشش کا حامل ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسا انسان جو کسی کشش کے زیرِ اثر ہو، وہ دوسروں کے لیے باعثِ کشش ہو سکتا ہے۔
علم کا حصول و وصول ہر سانس میں جاری رہنا چاہیے۔ اگر کسی علمی عبارت کا کوئی ایک فقرہ بھی دل میں گھر جائے تو راہِ فقر آسان ہو جاتی ہے۔ بس! دل کے کان ہمہ وقت کھلے رہیں کسی بھی مبارک سمے کوئی سندیسہ ہجرت آ سکتا ہے کسی بھی لمحے کرم ہو سکتا ہے، کسی بھی شبھ ساعت ظاہر کے مکان سے باطن کے مدینے کی طرف ہجرت کا اذن مل سکتا ہے۔ یہ کرم بار بار ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی بدگمانی ہے کہ وہ اپنے اعمال کی تیرگی کے سبب یہ سمجھتا ہے کہ اب شائد صبحِ نور کبھی طلوع ہی نہ ہو۔ اس کا یہ خیال درست نہیں۔ علم اور صاحبِ علم کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہنا چاہیے۔ اس کی خدمت میں حاضر باش رہنا چاہیے اور محوِ انتظار رہنا چاہیے۔ انتظار کے آسن بیٹھنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔ نامراد وہ ہوتا ہے جو مایوس ہو کر اٹھ کھڑا ہو۔ واپسی کا راستہ سوچنے والا مایوس ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک مایوس مسافر دو منزلوں سے محروم ہوتا ہے۔ ایک وہ منزل جس کی اسے تلاش تھی اور دوسری وہ، جسے چھوڑ کر نکلا تھا۔ گویا، نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم! دین چھوڑ کر دنیا کی طرف دیکھنے والے کی دنیا بھی بدمزہ ہو جاتی ہے۔ اس کا کرب دیدنی ہوتا ہے۔ کبھی اس طالب علم کا تصور کریں جسے کسی یونیورسٹی سے اٹھا کر واپس سکول میں داخل کرا دیا جائے۔ ارد گرد کے لوگ اسے اپنا ہم جماعت سمجھیں گے، حالانکہ وہ اپنی جماعت سے الگ ہو چکا ہوتا ہے۔
القصہ! باطن نیک ہو جائے تو ظاہر کا نیک اور ایک ہونا لازم ہے۔ باطن کی نیکی کا نام نیت ہے۔ بخاری شریف کی پہلی حدیثِ پاک ہی اِس امر کی سند ہے۔ اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ وضو ظاہر ی عمل ہے، یہ ظاہری عمل اس وقت پاک کرتا ہے جب پاک ہونے کی نیت ہوتی ہے۔ گویا نظر نہ آنے والی ایک چیز نے نظر آنے والے ایک عمل کو اس لائق کر دیا کہ وہ پورے وجود کو پاک کر دے یہاں تک کہ وہ قبلہ رو ہو کر اپنے رب سے ہم کلامی کا شرف پا سکے! فقر کی نظر باطنی وجود کی پاکیزگی پر ہوتی ہے۔ یہ رسم سے صرفِ نظر کرتا ہے۔ اگر ایک انسان کا دل پاک ہے تو وہ فقیر کے لیے قابلِ احترام ہے، خواہ وہ ظاہر میں شاہ ہو یا گدا۔ تصوف کا نصاب کسی کرامت کا حصول یقینی نہیں بناتا بلکہ یہ وجود کی باطنی طہارت کے اسباق متعین کرتا ہے۔ ذکر ہو یا فکر مقصود دل کی طہارت اور لطافت ہے۔ دل لطیف ہو جائے تو یہ خود ہی کثافت میں نقب لگائے گا اور وجود کو اطاعت کے مصلے پر کھڑا کر دے گا۔
گرچہ دماغ کا قائل ہونا بھی ضروری ہے، لیکن دل کا گھائل ہونا اشد ضروری ہے۔ اسلام کے نظریے کا قائل لازم نہیں کہ اسلام کے اصولوں پر بھی کاربند ہو۔ اللہ کے بندے کی نظر سے گھائل دل ایک ہی کروٹ میں شقاوت سے نکل سعادت میں آ جاتا ہے بغاوت سے باغی ہو کر اطاعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ دل مطیع ہو جائے تو وجود کا تابع فرمان ہونا یقینی ہے۔ اس باب میں مسنون دعاو¿ں میں ایک دعا انتہائی مقبول ہے: یا مقلب القلوب، ثبت قلبی علی دینک ’اے دلوں کو پھیرنے والے، میرا دِل اپنے دین پر ثبت کر دے‘۔ قلب کا منقلب ہو جانا ہی اصل انقلاب ہے۔ منحرف قلب کا اپنی جگہ سے منقلب ہو جانا اور منقلب قلب کا قیام میں آ جانا۔ یہ فیض ہے۔
پس! دِل متحرک ہو جائے تو وجود بھی حرکت میں آ جاتا ہے۔ دل کبھی نہیں تھکتا اِس لیے دل کے زیرِ اثر متحرک وجود بھی کم ہی تھکن کا شکار ہوتا ہے۔ جب ہمارے عمل کا محرک کوئی عقلی دلیل یا مادی مفاد ہو تو ہم جلد تھک جاتے ہیں۔ ہمارا وجود بہت جلد جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے عمل کا محرکِ اولیٰ دل کی کوئی جنبش ہو تو ہماری چال دیدنی ہوتی ہے۔ جو اپنے اندر کی افتادِ طبع کے زیرِ اثر چلتا ہے، کبھی تھک کر نہیں گرتا۔ جو غیر کے لیے چلتا ہے، زمین پر آ رہتا ہے۔ دل اپنا ہوتا ہے، مفاد غیر ہوتا ہے ۔ مفاد ہماری اصل کا غیر ہے۔ ہماری اصل اخلاص ہے۔ دل جائے اخلاص ہے۔ دماغ جائے مفاد۔ دل اگر پُر دم ہے تو خطر افتاد نہیں!

اپنا تبصرہ لکھیں