عورت و مرد :ظالم کون مظلوم کون۔ ایک جائزہ/قمرالدین نظامی

ہمارے پدر سری معاشرہ میں ہمیشہ مرد کو ظالم اور عورت کو مظلوم سمجھا اور ظاہر کیا جاتا ہے۔اور کسی حد تک یہ ایک حقیقت بھی ہے مگر ہمیشہ نہیں۔ اس مفروضہ کی ایک وجہ یہ قول بھی ہے کہ مرد کو عورت پر حاکم مقرر کیا گیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب غلط لیا جاتا ہے۔ حاکم کا مطب حکم چلانے والا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب منتظم ہے۔جس گھر میں یا ادارہ میں ایک سے زیادہ افراد ہوں گے وہاں کسی نہ کسی شخص کو ایک منتظم کی حیثیت سے کام کرنا پڑے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ ایک اچّھے منتظم کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی حاکمیت جتانے کے بجاۓ باہم مشورے سے اپنے گھر یا ادارہ کا نظم و نسق چلاتا ہے ۔ تاریخی طور پر ایک گھر یا خاندان میں مرد ہی منتظم کی حیثیت سے کام کرتا آیا ہے اور عورت کی حیثیت ایک نائب منتظم کی رہی ہے۔لیکن مردوں نے اپنی اس حیثیت کا نا جائز فائدہ اٹھانے ،عورت کو اپنا غلام بنانے اور اس پر اپنی حاکمیت جتانے کی کوشش کی ہے اور اس حقیقت میں کوئی دو راۓ نہیں ہوسکتی ۔ اس رویّہ اور برتاؤ کی وجوہات تعلیم کی کمی اور کم تر معاشی حیثیت اور صدیوں کی روایات ہیں۔جس میں عورت کو گھر میں مقیّد رکھا گیا ہے اور عورت اپنے رہن سہن خوراک کپڑوں وغیرہ کے لۓ مرد کی محتاج رہی ہے۔ اور مرد کو گھر سے باہر کے کام اور روزی کمانے کا ذمّہ دار قرار دیا گیا ہے۔اس طرح مرد کی حیثیت دینے والے ہاتھ کی اور عورت کی حیثیت لینے والے ہاتھ کی بن گئی ۔لینے والا ہاتھ ہمیشہ دینے والے ہاتھ سے نیچے ہوتا ہے اور لینے والے ہاتھ کو دینے والے ہاتھ کا احسان مند اور مرہون منّت ہونا اور اس کی باتیں سننا پڑتی ہیں۔ شاید اسی لۓ عورت ہمیشہ سے مرد سے دب کر رہی ہے اور اس کی ہر بات ماننے پر مجبور رہی ہے۔ لیکن اس رویّہ کے لۓ صرف مرد کو ہی مورد الزام ٹہرانا صحیح نہیں ہے بلکہ عورت بھی اس میں برابر کی شریک رہی ہے یہ بات بھی بڑی حد تک درست ہے کہ عورت کی مخالفت ایک عورت ہی کرتی آئی ہے۔اس کی مثال کی جھلک ساس بہو اور نند و بھاوج کے رشتوں میں ہر جگہ نظر آتی ہے اور ہر طبقہ فکر بشمول سماجی مالیاتی و خاندانی میں بغیر کسی تفریق کے دکھائی دیتی ہے۔ جس کی تفصیل بیان کرنا قطعی ضروری نہیں ہے کیوں کہ ہر کوئی اس تفریق سے واقف ہے۔ یہاں تک یہ ایک شخص کے دفتر میں کام کرنے والی عورت سے اس کی بیوی ہمیشہ بدزن رہتی ہے ان معاملات میں ملک قوم و مذہب کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔
اب یہ سوال کہ ظالم مرد ہے یا عورت۔ بظاہر یہ ہی نظر آتا ہے کہ ہر مرد عورت کو اپنے زیر نگیں اور ماتحت دیکھنا اور رکھنا چاہتا ہے چاہے وہ اس کی بیوی ہو یا ماں ، بہن اور بیٹی ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے گھر کی کوئی بھی عورت اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرے اور اس مقصد کے حصول کے لۓ وہ تشدّد سے بھی باز نہیں آتا۔ اور اس کی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتا ۔یہ صورت حال معاشی طور پر کمزور اور تعلیم سے بے بہرہ خاندانوں میں زیادہ نظر آتی ہے لیکن تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر مستحکم گھرانوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ میں نے وہ واقعات بھی دیکھے ہیں جس میں ایک خون بہتی ہوئی بیمار بیوی کو اس کا شوہر اسپتال لے جانے کو تیّار نہیں ہوتا کہ اس کے خاندان کی عورتیں اسپتال نہیں جاتیں اور وہ عورت گھر پر دم توڑ دیتی ہے۔یہ واقعات تو عام ہیں کہ ایک عورت نہ اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرسکتی ہے نہ اپنا جیون ساتھی چن سکتی ہے اور نہ ہی طلاق لے سکتی ہے اگر اس کا اپنے شوہر کے ساتھ گزارا نہ ہورہا ہو۔ایک طلاق یافتہ عورت کو جو طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کا اثر اس کی بہنوں پر بھی پڑتا ہے کہ ان کے رشتے نہیں ہو پاتے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ طعن و تشنیع کرنے والوں میں بھی اکثریت عورتوں کی ہوتی ہے۔
اب اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں نظر آئیگا کہ جن گھرانوں میں مرد خواتین کو ہر قسم کی آزادی دیتے ہیں اور دینی بھی چاہۓ وہاں عورتیں مردوں پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کی کوئی بات سننے اور ماننے کو تیّار نہیں ہوتیں۔ اگر ان کے گھر کے مرد انہیں کوئی مشورہ دیتے ہیں یا یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے کسی کام سے خود ان کو یا ان کے گھر کے دوسرے افراد کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو وہ سننے کو اور ماننے کو تیّار نہیں ہوتیں۔نہ صرف یہ بلکہ ان مشوروں کے خلاف کام کرتی ہیں۔والدین تو ان کے اس قسم کے رویّوں کو برداشت کر جاتے ہیں لیکن شوہروں کے لۓ بیویوں کے اس قسم کے رویّوں کو برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ ہر مرد مجنوں نہیں ہوتا کہ لیلی کے کتّوں سے بھی پیار کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یا تو بیوی سے بے پرواہ ہوجاتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ جو جی چاہے کرے اور خود نفسیاتی دباؤ یعنی ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر طلاق پر نوبت پہنچتی ہے۔ میں ایسے کئی افراد کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنی بیویوں کا ہر طرح سے خیال رکھا مگر بیویوں کے ان رویّوں کی وجہ سے بڑھاپے میں طلاق دےدی یا چپ سادھ لی اور خاموشی سے فزیکل علیحدگی اختیار کرلی ۔
اس کے علاوہ میں بذات خود ایسے افراد کو جانتا ہوں جو اپنی بیویوں کی موجودگی میں ٹیلی فون پر بھی اپنے بہن بھائیوں سے بات نہیں کرسکتے۔کیوں کہ ایسی صورت میں ان کی بیویاں آسمان سر پر اٹھالیتی ہیں۔ ان کے بہن بھائی ان کے گھر ملنے بھی نہیں آسکتے۔ان کے بچّوں نے اپنے ماموں خالہ کو کبھی دیکھا بھی نہیں بات چیت کرنا تو دور کی بات ہے ۔میں ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں جو بیوی کی ناراضگی سے بچنے کے لۓ عید کے دن بھی اپنے ماں باپ سے ملنے نہ گیا۔حالانکہ وہ چند قدم کے فاصلے پر رہتے تھے۔
یہاں میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مردوں کو مظلوم اور عورتوں کو ظالم نہیں سمجھا جاۓ گا۔جو عورتوں کی ہر خواہش کا احترام کریں اور اپنی بساط کے مطابق پورا کرنے اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کریں لیکن جب ان مردوں کی باری آۓ تو عورتیں ان کی پسند ، ناپسند کا خیال کرنا تو دور کی بات ہے ان کی پسند کے خلاف کریں اور آپ بھی نقصان اٹھائیں اور ان کو بھی نقصان پہنچائیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ایسا شاز و نادر ہوتا ہے تویہ بات صحیح نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے جوڑوں کی تعداد کم نہیں ہے جن میں مرد عورتوں کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں لیکن بدلے میں پیار محبّت کے بجاۓ انہیں بے رغبتی و بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ اس محاورے کی مثال بن کر رہ جاتے ہیں کہ نیکی کر کوئیں میں ڈال۔ ضرورت پڑے تب بھی مت نکال۔مجھے نہیں معلوم کہ مرد اور عورت دونوں کے تعلقات کے درمیان توازن کیوں نہیں پایا جاتا۔
اب اس مقدمہ کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہےکہ ظالم کون اور مظلوم کون۔

اپنا تبصرہ لکھیں