مایا جال میں قید انسان/سید مہدی بخاری

یہ بھی خدا کے بے شمار کرموں میں سے ایک کرم ہے کہ وہ انسان کو خود ہی منفی سوچ رکھنے والوں سے دور کر دیتا ہے۔ وقت ، سفر اور مشاہدات کے ساتھ بصیرت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ کون مذاق میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدگی میں مذاق کر رہا ہے، کون آپ کو محض برداشت کر رہا ہے اور کون دل سے آپ کی موجودگی سے خوش ہے۔

یہ دنیا ویسے ہی ملنے اور بچھڑنے کا نام تھی مگر سوشل میڈیا نے اس عمل کو کچھ زیادہ ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ اب ہر شخص ایک کھلی کتاب ہے۔اس کی زندگی، اس کا طرزِ حیات، اس کی سوچ، اس کے تعلقات، اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں سب کچھ لوگوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر لمحہ لوگوں کی نظروں سے سکین ہو رہا ہے۔ وہ کیا کھا رہا ہے، کیا پہن رہا ہے، کہاں جا رہا ہے۔ انسان ہر لمحہ دوسروں کی نظر میں قید ہے، ہر پل ایک خاموش عدالت میں زیرِ سماعت۔ لوگ جج بھی ہیں، جیوری بھی۔

اس “کلاؤڈ زندگی” نے ایک بڑا ظلم یہ کیا کہ لوگ بغیر ملے، بغیر جانے، بغیر پرکھے ہی ایک دوسرے کے ناقد، حاسد یا مداح بن گئے۔ اور اس سارے عمل میں انسان خود کو بھی کچھ زیادہ ہی اہم سمجھنے لگا۔“میں مقبول ہوں، میں سراہا جاتا ہوں، میں عظیم ہوں”۔یہ سوچ آہستہ آہستہ انسان کو اس کے اصل معیار سے گراتی جا رہی ہے۔ اب ہر انسان امیج بلڈنگ کی میراتھن کا کھلاڑی بنا ہوا ہے۔ وہ مزید مشہور ہونے کا خواہاں ہے۔

سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے سب لوگ فرشتہ صفت ہیں۔ ہر کوئی نیک، پارسا، راست گو اور بااصول۔ مگر حقیقت میں انسان ایسا نہیں ہوتا۔ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے۔وہ سنجیدہ بھی ہوتا ہے اور شوخ بھی، مہذب بھی اور بے ساختہ بھی، خوش بھی اور اداس بھی۔آدمی میں کج ادائی بھی ہے اور کھلنڈرا پن بھی۔ وہ نیک بھی ہے اور بد بھی۔ وہ کہیں ظالم بھی ہے اور کہیں مظلوم بھی۔اس میں کبھی صلہ رحمی ہے تو کبھی سنگدلی بھی۔ فرشتہ صرف فرشتہ ہوتا ہے، انسان نہیں۔اسی لیے جب کبھی کوئی اصلی انسان نظر آتا ہے، اپنی کمزوریوں اور سچائیوں کے ساتھ تو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا دراصل ایک مایا جال ہے۔ ایک ہوائی دنیا۔ یہاں لوگ ہر لمحہ ایک دوسرے کو جانچ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ آپ کی کامیابی سے خوش نہیں ہوتے، کچھ آپ سے پیچھے رہ جانے کا دکھ دل میں لیے بیٹھے ہوتے ہیں، اور کچھ صرف آپ کے شب و روز دیکھنے اور تبصرہ کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ زندگی میں ناکام رہنے والے، پروفیشنل گروتھ نہ کر سکنے والے، فنانشلی کمزور رہ جانے والے، آپ جیسا لائف سٹائل پانے کی چاہ رکھنے والے سب آپ کو جج کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی آپ کی پراگرس، اچیومنٹ، ترقی پر حقیقی خوش نہیں ہوتا۔سچی خوشی عموماً صرف انہی لوگوں کو ہوتی ہے جو آپ سے ذاتی طور پر جڑے ہوں۔

مگر اسی ہجوم میں کچھ انمول لوگ بھی ملتے ہیں۔ وہ جو مثبت سوچ رکھتے ہیں، وسیع النظر ہوتے ہیں، نرم مزاج اور وسیع المطالعہ ہوتے ہیں۔ جو حکم نہیں لگاتے، جو قطعیت سے گفتگو نہیں فرماتے، ایسے لوگ کم ہوتے ہیں مگر انہی کی وجہ سے یہ دنیا قابلِ برداشت بن جاتی ہے۔ انہی چند لوگوں کے لیے دل چاہتا ہے کہ لکھا جائے، بولا جائے، جڑا جائے۔میرے لیے سوشل میڈیا محض اظہارِ خیال کا ایک ذریعہ ہے۔ نہ یہاں کسی کو خوش کرنا مقصود ہے، نہ کسی کی ناراضی کا خوف ہے۔ جسے اچھا لگے، اس کا شکریہ، جسے نہ لگے، وہ بھی موج مارے۔ یہاں کونسا رشتے داریاں نبھاہنی ہیں۔ ایک باہمی عزت و احترام کا تعلق ہوتا ہے اور بس۔

البتہ ایک بات ضرور ہے۔ وقت کے ساتھ یہ بوجھ محسوس ہونے لگا ہے کہ لوگ قریب آنا چاہتے ہیں، بات کرنا چاہتے ہیں، ملنا چاہتے ہیں۔ اور یہ سب میری فطرت کے خلاف ہے۔جو مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ دوست عزیز جانتے ہیں کہ میں ایک شدید introvert انسان ہوں۔ اپنی ذات میں مگن، محدود دائرے میں مطمئن۔ مجھے ہجوم نہیں بھاتا، تعلقات کا پھیلاؤ نہیں چاہیے۔میں رونقِ محفل نہیں ہوں۔ صرف میری تحریریں مزاح میں لپٹی ہوتی ہیں، جس سے گمان ہوتا ہے یہ شخص محفل کی جان بھی ہوتا ہو گا۔ ایسا ہرگز نہیں۔ محفل میں میری موجودگی اگر ہو تو چپ چاپ ہوتی ہے۔

کبھی بہت جذباتی ہوا کرتا تھا۔ یا آر یا پار۔ یا تو انتہا کی محبتیں یا انتہا کی بیزاری۔ البتہ نفرت کسی سے نہیں پالی، بس جو دل سے اُتر گیا سو اُتر گیا، پھر کبھی دل اس سے ملا ہی نہیں۔ وقت کے ساتھ توازن برتنا سیکھا وگرنہ زندگی جذبات کے دھاروں پر بہتی کم ہے اس کے بوجھ سے ڈوبتی زیادہ ہے۔ کیا موافق شعر یاد آ گیا ہے

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے، کئی رویوں کی خاک چھانی

زندگی مختصر ہے، اور اسے انہی لوگوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ ہر خوشی، ہر غم، ہر اتار چڑھاؤ بانٹا جا سکے۔ تعلقات کی وسعت نہیں، گہرائی اہم ہے۔ چند لوگ اس دائرے میں شامل ہیں، وہی میرے لیے کافی ہیں۔ نے اپنی سماجی دنیا کو وسیع کر کے ڈی فوکس نہیں ہونا۔ تعلقات کا دائرہ اتنا ہی محدود رکھا جتنا میں ان سے ہر خوشی غمی، اونچ نیچ، میں نبھا سکوں۔ جوں جوں وقت بیتتا جاتا ہے انسان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ وقت کم ہے۔ وقت ہی اصل دولت ہے۔ اسے نان سینس کی نذر کر دینا کفر کے مترادف ہے۔ لایعنی بحثوں میں الجھنا ، مروت کی دوستیاں بنانا، سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی کے ہنگاموں میں خود کو کھپا دینا سراسر ضیاع ہے۔ عقل کا ضیاع، توانائی کا ضیاع اور وقت کا ضیاع۔نرا خالص خسارا۔ باقی سب کے خلوص، محبت اور دعوتوں کا دل سے شکر گزار ضرور رہتا ہوں۔ اور محبت دینے والو کو محبت ہی لوٹاتا ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں