جہانِ آشوب میں امریکہ کی گھن گرج اور چین کی خاموش یلغار/محمد فاروق نتکانی

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے افق پر آگ برسائی ہے، مگر یہ آگ صرف بارود کی نہیں، ایک زوال پذیر فکر کی بھی ہے۔ ہر گرتا ہوا بم دراصل اس غرور کی صدا ہے جو تاریخ کے سینے میں ہمیشہ دفن ہو جاتا ہے۔ شعلے جو اٹھ رہے ہیں، وہ صرف شہروں کو نہیں جلا رہے، بلکہ ایک عالمی نظام کی اخلاقی بنیادوں کو بھی راکھ کر رہے ہیں۔ یورپ کی بےچینی محض سیاسی نہیں، یہ اُس ضمیر کی بےقراری ہے جو طویل خاموشی کے بعد جاگ اٹھا ہو۔ ہندوستان کی توانائی کی بھوک کسی اژدھے کی مانند پھیل رہی ہے، اور دنیا ایک ایسے اضطراب میں گھری ہے جہاں خوشی اجنبی اور خوف ہمسفر بن چکا ہے۔

اور پھر مشرق کے افق پر ایک اور منظر ہے—خاموش، مگر فیصلہ کن۔

چائنہ نے ایک بھی گولی نہیں چلائی، مگر اس کی حکمت عملی توپ و تفنگ سے کہیں زیادہ کاری ہے۔ یہ وہ چال ہے جو میدانِ جنگ میں نہیں، وقت کے شطرنج پر کھیلی جاتی ہے۔ ایران کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے، سستے تیل کی خرید، اور پچیس برس پر محیط شراکت داری—یہ سب اس خاموش انقلاب کی نشانیاں ہیں جو بغیر شور کے دنیا کی سمت بدل رہا ہے۔ امریکہ کا ہر حملہ دراصل چائنہ اور ایران کے رشتے کو مزید فولاد بنا رہا ہے۔

ہر گزرتا ہوا تیل بردار جہاز، ہر یوآن میں ہونے والی ادائیگی، اور ہر بندرگاہ پر لہراتا ہوا نیا پرچم—یہ سب اعلان ہیں کہ طاقت اب صرف بارود کی محتاج نہیں رہی۔ SWIFT کی زنجیریں جن سے دنیا کو باندھا گیا تھا، اب CIPS کی صورت میں ٹوٹنے لگی ہیں۔ مالیاتی خودمختاری کا یہ نیا باب خاموشی سے لکھا جا رہا ہے، مگر اس کی گونج واشنگٹن کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے۔

پچھلے پندرہ برسوں میں چائنہ نے سڑکوں، بندرگاہوں، ریلوے لائنوں اور بجلی گھروں کے ذریعے ایک ایسا جال بُنا ہے جس میں ڈیڑھ سو ممالک الجھ چکے ہیں۔ سری لنکا کی بندرگاہ ہو یا افریقہ کے صحرا، ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی جا رہی ہے. قرض، تعمیر، اور پھر اثر و رسوخ۔

جب روس پر پابندیاں لگیں، تو چائنہ نے دروازہ کھولا۔ جب افغانستان سے امریکی افواج نکلیں، تو اگلے ہی لمحے مشرق کی چاپ سنائی دی۔ یہ وہ سیاست ہے جو لاشوں پر نہیں، مفادات پر کھڑی ہوتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ شور سے نہیں بدلتی، کبھی کبھی خاموشی بھی انقلاب لے آتی ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں بارود کے نشان چھوڑ رہا ہے، اور چائنہ انہی راکھوں پر اپنے معاہدوں کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ یہ دو فلسفوں کی جنگ ہے ایک، جو آگ سے راستہ بناتا ہے؛
اور دوسرا، جو خاموشی سے دنیا بدل دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں