پاکستان کی آئینی تاریخ میں 19 اپریل 2010 ایک یادگار دن ہے جب سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اٹھارویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے۔ یہ ترمیم نہ صرف آئین کی بحالی بلکہ جمہوری استحکام، پارلیمانی بالادستی اور وفاقی توازن کی طرف ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس نے ریاستی ڈھانچے کو ایک نئی جہت دی اور جمہوریت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔
1973 کا آئین، جو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تشکیل پایا، ایک متفقہ قومی معاہدہ تھا۔ تاہم بعد ازاں فوجی ادوار، خصوصاً پرویز مشرف کے دور میں آئین میں ایسی ترامیم کی گئیں جنہوں نے پارلیمانی نظام کو کمزور اور صدارتی اختیارات کو بڑھا دیا۔ آرٹیکل 58(2)(b) اسی عدم توازن کی واضح مثال تھا، جس کے باعث منتخب حکومتیں بارہا تحلیل کی گئیں اور جمہوری تسلسل متاثر ہوا۔
2008 کے انتخابات کے بعد جمہوری قوتیں ایک بار پھر متحد ہوئیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پارلیمنٹ نے آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کرنے کا عزم کیا۔ اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی نے قائدانہ کردار ادا کیا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی خودمختاری اور وفاقی توازن کے تصور کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا۔
اٹھارویں ترمیم کی ایک نمایاں اور تاریخی خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھا گیا۔ یہ تبدیلی محض نام کی حد تک نہیں تھی بلکہ اس نے پختون قوم کو ایک آئینی اور تاریخی شناخت فراہم کی، جس کا مطالبہ کئی دہائیوں سے کیا جا رہا تھا۔ اس اقدام نے وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس ترمیم کے ذریعے صدارتی اختیارات کم کیے گئے، پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا گیا اور صوبوں کو وسیع خودمختاری دی گئی۔ تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبے صوبوں کے حوالے کیے گئے، جبکہ عدلیہ کی آزادی کو مضبوط بنانے کے لیے ججوں کی تقرری کا نیا طریقہ کار متعارف کروایا گیا۔ یہ تمام اقدامات ایک مضبوط اور متوازن جمہوری نظام کی تشکیل کے لیے نہایت اہم تھے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اٹھارویں ترمیم ہر حلقے میں یکساں طور پر قبول نہیں کی گئی۔ بعض طاقتور حلقوں نے اسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ایک موقع پر اس بات کی نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں وسائل کی تقسیم پر اثر پڑا، اور ان کے بقول اس کا ایک پہلو دفاعی بجٹ پر بھی دباؤ کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ مؤقف اس وسیع بحث کا حصہ ہے جو آج بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے جاری ہے۔
تاہم ایک اہم اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگرچہ اٹھارویں ترمیم آئین کا باقاعدہ حصہ ہے، مگر اس پر مکمل اور حقیقی معنوں میں عملدرآمد اب تک نہیں ہو سکا۔ کئی شعبوں میں اختیارات کی منتقلی ادھوری ہے، جبکہ بعض وفاقی ادارے اب بھی صوبائی معاملات میں مداخلت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح وسائل کی منصفانہ تقسیم، مؤثر مقامی حکومتوں کا قیام اور پالیسی سازی میں صوبوں کی مکمل شمولیت جیسے پہلو اب بھی تشنہ تکمیل ہیں۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آئینی اصلاحات صرف کاغذی تبدیلیوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ان کے حقیقی اثرات کے لیے عملی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔ اگر اٹھارویں ترمیم کے مقاصد کو مکمل طور پر حاصل کرنا ہے تو ریاستی اداروں کو آئینی حدود کا احترام کرتے ہوئے اختیارات کی حقیقی منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم پاکستان کی جمہوری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جس نے نہ صرف جمہوریت کو تقویت دی بلکہ صوبائی شناخت اور خودمختاری کو بھی نئی زندگی بخشی۔ تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کس حد تک اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے۔ جب تک اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، تب تک اس کے ثمرات پوری طرح عوام تک نہیں پہنچ سکیں گے۔


