یہ تو سنا تھا کہ لوگ اپنے مفاد کے لئے جعلی پیر یا روحانی پیشوا کا روپ دھار لیتے ہیں ۔ لیکن اب ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ کہ لوگ یورپ یا برطانیہ کی مستقل رہائش اختیار کرنے کیلئے جعلی ملحد ، جعلی لامذہب اور جعلی دہریہ بھی بن جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ گندا ہے مگر دھندہ ہے ۔
اسی طرح کے ایک گندے اور مکروہ دھندے کا راز افشاء کیا ہے بی بی سی کی ایک حالیہ تفتیشی رپورٹ نے، جس میں اس چونکا دینے والے رجحان سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ برطانیہ میں کس طرح کچھ وکلاء مختلف پناہ گزینوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں اگر اپنی رہائش کو مستقل بنانا چاہتے ہیں تویا تو خو د کو ہم جنس پرست ظاہر کرو یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو ملحد یا دہریہ قرار دے دو ۔
اب سوال یہ ہے کہ خود کو لامذہب یا ملحد کہہ دینے سے کسی کی جان کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے ؟ پاکستان یا دیگر اسلامی ممالک میں بھی لوگ ایسے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔انہیں پھر ایک باقاعدہ مکروہ طریقہ اختیار کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ لوگوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اسلام یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کچھ متنازع مواد لکھیں تاکہ ردعمل میں جذباتی مسلمانوں کی جانب سے انہیں دھمکیاں اور گالیاں ملنا شروع ہوجائیں ۔ پھر وہ انہی دھمکیوں کو ثبوت بنا کراپنے پناہ کے کیس کو مضبوط بناتے ہیں
جب نظر آئے کی سوشل میڈیا پوسٹس بھی ناکافی ہیں تو پھر ایسی جعلی ویب سائیٹس قائم کی جاتی ہیں جن پر ایسے کالمز ، آرٹیکل یا مضامین شائع کئے جاتے ہیں جو جذبات کو بھڑکائیں یا مزید اشتعال انگیزی پیدا کریں ۔ جن کو لکھنا نہیں آتا انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اے آئی ٹولز استعمال کر لیں
مگر رکئے معاملہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا ۔ وکیل مشورہ دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور دیگر کالمز آجکل فیشن میں ہیں اس لئے شاید یہ ثبوت بھی ناکافی ہوں تو انہیں مزید مشورہ دیاجاتا ہے کہ اب ان نظریات کے عملی اظہار کیلئے بھی سامنے آؤ۔
برطانیہ میں سابق مسلم کی طرز کی باقاعدہ ایسی تنظیمات موجود ہیں جن کے ممبر اسلام چھوڑ چکے ہیں ۔ وکلاء مسلمان پناہ گزینوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ ان تنظیمات کے اجلاس یا مظاہروں میں جائیں اور وہاں کھڑے ہو کر اسلام کے خلاف تقاریر کریں تاکہ ویڈیو کی شکل میں بھی مزید ثبوت پیدا کئے جاسکے
اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد میرے ذہن میں ایک پرانے اٹکے ہوئے سوال کا جواب بھی سامنے آگیا ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ جن ملحد ،اگنوسٹک یا دہریہ لوگوں کو میں جانتا ہوں اور جن کے ساتھ یورپ میں میرا اتنا لمبا عرصہ گزرا ۔ و ہ لوگ تو مکالمے پر یقین رکھتے ہیں ۔ اختلاف کے باوجود دوسرو ں کے عقائد او رنظریات کا احترام کرتے تھے ۔ انہوں نے کبھی اسلام یا پیغمبر اسلام کے حوالے سے توہین آمیز رویہ نہیں اختیار کیا ۔ بلکہ یورپ میں جب بھی اسلاموفوبیا کی کوئی لہر اٹھی تو انہوں نے ہمارا ساتھ دیا ۔ کسی مظاہرے میں جب ہم اکٹھے جاتے تو انہیں سب سے بڑی ٹینشن یہ ہوتی تھی کہ ہمارے لئے حلال کھانا دستیا ب ہو ۔ انہی لوگوں کے ساتھ کئے گئے مکالموں کو میں نے اپنی آنے والی کتاب ” خدا کی تلاش میں ” کا موضوع بنایا ہے
تو پھر یہ کون لوگ ہیں جو ملحد ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اسلام پر تنقید نہیں بلکہ تنقیص کا رویہ اپناتے ہیں ، کیوں ان کا لہجہ مکالمے کی بجائے مخاصمت اور تصادم کا ہوتا ہے ۔ اس رپورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ اس کی وجہ نظریات نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں
یورپ آنے والے ان فیشنی ملحدوں کی بھی سمجھ آگئی ۔ جنہوں نے ساری زندگی پاکستان کے افسر شاہی نظام سے فائدہ اٹھایا،مراعات لیں ، پروٹوکول انجوائے کیا اور ریٹائر ہوکے یورپ پہنچے تو پاکستان کے نظام اور مذہب کو محض اس لئے کوسنا شروع کر دیا تاکہ یہاں پر اپنے امیگریشن سٹیٹس کو مستقل بنا سکیں ۔ ان کی مثال اس جانور جیسی ہے جو جس درخت یا کھمبے کے سائے میں سستاتے ہیں اس پر ہی اپنی ٹانگ کھڑی کر کے اپنی حاجت پوری کر لیتا ہے ۔ اگر وہ واقعی اس نظام کے باغی یا ریفامر ہوتے تو اسے اس وقت چھوڑتے جب وہ خوداس کا حصہ تھے ۔
اس رپورٹ سے یہ بات بھی سمجھ آئی کہ انسان کا سب سے بڑا مذہب اکثر اس کا مفاد بن جاتا ہے۔ پاپی پیٹ اور وقتی فائدہ لوگوں کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنے ضمیر، اپنے نظریات، حتیٰ کہ اپنے عقیدے تک کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
چند روز قبل ایک پولیس افسر سے گفتگو ہوئی جو کسی ٹریننگ کے لیے پاکستان سے برطانیہ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک دلچسپ مگر افسوسناک بات بتائی کہ دنیا بھر میں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ مرنے والا شخص جھوٹ نہیں بولتا، او ر اس کا بیان معتبر سمجھا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے مغربی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پاکستانیوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ موت کے وقت بھی اپنے مخالف کو پھنسانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں ۔ پتہ نہیں اس بات میں کتنی صداقت ہے مگر ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے ۔ آپ نے فرمایاں ہاں ، پوچھا گیا کہ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ پھر پوچھا گیا کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ ۔۔
میں بھی کتنا سادہ ہوں ان لوگوں کو حدیث سنا رہا ہوں جن کا دین دھرم ، دیر حرم سب کچھ پیسہ بن چکا ہے


