انسانی خصلت کے تین عناصر کا احاطہ/محمد کوکب جمیل ہاشمی

بنی نوع انسان میں اپنے باطنی اظہار آور مزاجی خواص کے اعتبار مختلف النوع جذبات موجزن ہوتے ہیں۔ ان میں دو طرح کی خصوصیات زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک اسکی طاقت و دہشت کی نمائش، اور دوسری بزدلی، ڈرپوک پن، پست حوصلگی اور ڈر خوف۔ یہ دونوں خواص منفی جذبات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص طاقت اور جبروت کا وہ استعمال جو انسانیت کش اور دہشت کی علامت ہو، سخت ناپسندیدہ قرارپاتا ہے۔ اس شیطانی کھیل میں دنیا کے کئی جابر و ظالم حکمرانوں کی مثال دی جاسکتی، جو اپنی ظالمانہ طاقت اور پر تشدد مزاج کے گھمنڈ میں آپے سے باہر ہو جانے میں اتنے معروف ہیں کہ ان کے نام لینے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اس کے برعکس ایک انسانی وصف ہے جس کے تحت وہ جرات، بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ انسانی کارناموں اور نیک نامی کی داستانیں رقم کرتا ہے۔

اولاد آدم کے اندر ہمت، جواں مردی، شجاعت، دلیری، جرات اور بے جگری سے لڑنے کی خواہش ہر مرد کا خاصہ نہیں ہوتی۔ اس میں ایمان کی حرارت، وطن سے محبت، اعلیٰ مقصد میں کامیابی اور راہ حق میں جان کی قربانی دینے کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ یہ جذبہ صرف اور صرف ایمان والوں اور حق شناس مسلمانوں میں بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن موت آنی ہے۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ جان دی، دی ہوئی اسی کی ہے۔ اس لئے وہ دشمن کے خلاف بے جگری سے مقابلہ کرتے ہیں، وہ جان کی پرواہ کرتے ہیں نہ موت سے ڈرتے ہیں، نہ میدان جنگ سے بھاگتے ہیں۔ وہ تعدادِ میں کم ہو کر بھی دشمنوں کے بڑے بڑے لشکروں کی صفوں کو چیر کر شجاعت کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جاتا ہے۔ وہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں، سر پہ کفن باندھ کر نکلتے ہیں اور شہادت کا رتبہ پاتے ہیں یا غازی بن کر لوٹتے ہیں۔ تاریخ ایسے غزوات کے ذکر سے بھری پڑی ہے جن میں اہل حق کی کم تعداد نے کئی گنا کثرت رکھنے والوں کو شکست فاش دی۔

گزشہ سال ہمارے ہمسایہ ملک نے ہم پر درجنوں طیاروں سے یلغار کرنے کی جو بزدلانہ کوشش کی تھی، اس کے جواب میں وطن عزیز کی پاک فضائیہ کے جن ہوا بازوں نے پامردی سے مقابلہ کرکے دیا، اورخوب دیا۔ اس معرکے میں ہماری دلیر فضائیہ نے دشمن کے سات طیاروں کو گرا دیا۔ موجودہ حکومت اور پاک فوج کے یہ کارنامے یقیناً سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔ پاکستان کی کامیاب جنگی حکمت عملی اور بہادری کی پوری دنیا میں ایسی دھاک بیٹھی کہ سارے عالم میں پاکستان کی جرات اور دلیری کی دھوم مچ گئی۔ یہ سب اللہ کی نصرت اورہماری افواج کے جذبہ ایمانی کی بدولت ہوا، جس نے پاکستان کی ساکھ اور نیک نامی میں اضافہ کیا۔

اب آئیے انسانوں کی ایسی کمزوری کی جانب، جس کا تعلق بزدلی، ڈر اور خوف سے ہوتا ہے۔ اس کے مارے ہوۓ میدان سے دم دبا کے بھاگ جاتے ہیں۔ ان پر لوگ ہنستے ہیں اور تفریح طبع کے لئے طعن و تشنیع بھی کرتے ہیں۔ جو لوگ جیدار اور بے خوف ہوتے ہیں وہ محض دعوے نہیں کرتے بلکہ عملاً اس کا قابل تقلید مظاہرہ کر کے ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن پر موت کا لرزہ طاری ہوتا ہے، وہ ذکر تو اپنی دلیری اور مردانگی کا کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت حوصلے اور ہمت سے عاری جسموں کو ضرب کاری سے محفوظ رکھنے کے جتن کرتے کرتے انکے قدم اکھڑ جاتے ہیں اور وہ فنا ہو جاتے ہیں۔

مسلمانوں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہمیشہ دشمنوں کی غالب اکثریت سے مرعوب ہوئے بغیر بے جگری سے لڑتے اور فتح یاب ہوتے ہیں۔ غزوہ بدر میں کفار کی ہزاروں کی تعداد میں لڑتی فوج کو فقط تین سو تیرہ مجاہدین کی قلیل تعداد نے شکست فاش دی اورجہاد میں سرخرو ہوۓ۔ اسی طرح 1965 اور1971 کی جنگوں میں بھی ہماری دلیر اور جری افواج نے خم ٹھونک کر دشمن کر مقابلہ کیا۔ ہمارے بہادر فوجیوں اور فضائیہ کی پائلٹس نے شہادت کا درجہ قبول کیا جس کے اعتراف میں انہیں نشان حیدر کے اعزازات سے نوازا گیا۔ امریکہ و اسرائیل کے خلاف ایران کی حالیہ جنگ میں بھی ایک طرف طاقت، وسائل اور حربی برتری کا شہرہ ہے اور دوسری طرف جذبہ ایمانی اور شہادت کے شوق نے اپنے سے بڑے دشمن کے ساتھ طویل مزاحمت کا جوش ہے، جس کی وجہ سے بڑے نقصانات کے باوجود بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جا رہا پے۔

اکثر لوگ اپنے نا مساعد حالات، نا ختم ہونے والی مشکلات، زندگی میں درپیش پیچیدہ مسائل، محبت، شادی، مقدمات اور امتحانات میں ناکامی سے تنگ آ کر خود کشی کر لیتے ہیں۔ اگرچہ خود کشی کرنا ایک نفسیاتی عمل قرار پاتا ہے لیکن اسے خوف، بزدلی اور ناگوار حالات سے فرار سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔۔ ہمارے دین میں خود کشی کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ انسان کو دی گئی جان اللہ کی طرف سے امانت ہوتی ہے۔ جس طرح کسی کی جان لینا حرام ہے، ما سوائے ان حالات کے جن میں ہمارا دین یا ملکی قانون جان لینے کا متقاضی ہوتا ہے، مثلاً عدالتی فیصلے وغیرہ۔ خود کشی کی کوشش کرنا کسی طور جائز نہیں بلکہ ماقبل معافی جرم ہے۔
ہم بات بات پہ ڈرتے ہیں۔ خوف زدہ ہو جاتے ہیں، یہ بھی اہل دین کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لئے ہمیں اس اعتقاد اور یقین کے ساتھ ہر تکلیف، مشکل اور افتاد کو یہ سوچ کر برداشت کرنا چاہئے کہ یہ قسمت کی لکھی ہوئی ہے جس کا ناصرف پامردی سے مقابلہ کرے اور اس سے نجات کی تدبیربھی کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں