جیک ڈیریڈا اور ساخت شکنی:حقیقت کیا ہے؟-محمد عامر حسینی

چونکہ “ڈیریڈا” (2002) ایک دستاویزی فلم ہے، اس لیے اس میں روایتی فکشن یا ڈرامائی پلاٹ موجود نہیں۔ اس کے برعکس، یہ فلم ژاک ڈیریڈا کی زندگی کے چند اہم برسوں کو اس انداز میں پیش کرتی ہے کہ ان کی ذاتی زندگی اور ان کے پیچیدہ فلسفے کے درمیان ایک گہرا ربط قائم ہو جاتا ہے۔

اگر اس دستاویزی فلم کے بیانیے کو ایک کہانی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ دراصل ایک ایسے سفر کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو ایک فلسفی کی نجی اور فکری دنیا کے درمیان مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔

فلم کا آغاز اس لمحے سے ہوتا ہے جب ہدایت کار کربی ڈک اور ایمی زیرنگ کیمرہ اٹھا کر ڈیریڈا کی نجی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ردِ تشکیل جیسے مشکل اور پیچیدہ فلسفے کو تخلیق کرنے والا شخص اپنی روزمرہ زندگی میں کیسا ہے۔ ابتدا میں ڈیریڈا کیمرے کی موجودگی سے کچھ جھجھک محسوس کرتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور ایک حد تک خود کو اس کے حوالے بھی کر دیتے ہیں۔

فلم کی سب سے دلکش جہت ڈیریڈا کی دو مختلف دنیاؤں کا تقابل ہے۔ ایک طرف ان کی نجی زندگی ہے جہاں وہ ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے بکھرے ہوئے کتب خانے میں کتابیں تلاش کرتے ہیں، سیلون جا کر بال کٹواتے ہیں، اپنی بیوی مارگریٹ کے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں اور کبھی اپنی چابیاں ڈھونڈتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف ان کی علمی زندگی ہے جہاں وہ دنیا کی بڑی جامعات میں ہزاروں طلبہ اور دانشوروں کے سامنے پیچیدہ خطبات دیتے ہیں اور ان کے ہر لفظ کو غیر معمولی توجہ سے سنا جاتا ہے۔ یہ تضاد فلم کو ایک خاص معنویت دیتا ہے، جیسے ایک ہی شخص دو مختلف جہانوں میں بیک وقت موجود ہو۔

فلم کے انٹرویوز بھی اس کی کہانی کا اہم حصہ ہیں۔ جب ایمی زیرنگ ان سے محبت، بچپن یا ذاتی زندگی کے بارے میں براہ راست سوالات کرتی ہیں تو ڈیریڈا ان سوالات کا سیدھا جواب دینے کے بجائے خود سوال کی ساخت پر غور کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس خیال کو چیلنج کرتے ہیں کہ کسی انسان کی مکمل سوانح عمری ممکن ہے۔ ان کے مطابق انسان خود کو بھی مکمل طور پر نہیں جان سکتا، تو کوئی دوسرا اس کی مکمل تصویر کیسے پیش کر سکتا ہے۔

فلم کا ایک یادگار اور قدرے مزاحیہ منظر وہ ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر انہیں ماضی کے عظیم فلسفیوں جیسے کانٹ، ہیگل یا ہائیڈیگر کے بارے میں کوئی ایسی بات جاننے کا موقع ملے جو ان کی کتابوں میں نہیں، تو وہ کیا جاننا چاہیں گے۔ ڈیریڈا مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ وہ ان کی نجی اور جنسی زندگی کے بارے میں جاننا چاہیں گے، کیونکہ یہ وہ پہلو ہے جسے ان فلسفیوں نے مکمل طور پر چھپا دیا تھا۔ اس جواب میں ایک طرح کی فکری شرارت بھی ہے اور ایک گہری تنقید بھی کہ فلسفہ اکثر انسان کو اس کی مکمل انسانیت کے ساتھ پیش نہیں کرتا۔

جیسے جیسے فلم آگے بڑھتی ہے، اس کا لہجہ زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ڈیریڈا بڑھتی عمر، موت، یادداشت اور معافی جیسے موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ ان کی آواز پس منظر میں ان کے اپنے متون کے اقتباسات کے ساتھ گونجتی ہے، جو زندگی کی ناپائیداری اور انسانی رشتوں کی نزاکت کو مزید گہرائی سے محسوس کراتی ہے۔

آخرکار، اس فلم کی اصل کہانی کسی پلاٹ میں نہیں بلکہ ایک ذہن کے اندر جھانکنے کے عمل میں پوشیدہ ہے۔ یہ ہمیں دکھاتی ہے کہ ایک عظیم فلسفی بھی اپنی بنیادی سطح پر ایک عام انسان ہی ہوتا ہے۔ وہ محبت کرتا ہے، وقت کے ساتھ بوڑھا ہوتا ہے، کیمرے کے سامنے جھجھکتا ہے اور اپنی یادوں کے سہارے زندگی کو معنی دیتا ہے۔ یہی سادگی اور پیچیدگی کا امتزاج اس دستاویزی فلم کو غیر معمولی بناتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں