شاعر ابن شاعر کم کم ہی ہوتے ہیں مگر شاعرہ ابن شاعر کی مثال ڈھونڈ کر لانا تو ناممکنات میں سے ہے۔اور اگر کوئی ایسی مثال مل بھی جائے تو وہ جون ایلیا اور اس کی بیٹی فینانہ فرنام طرح کی ہو گی۔اس کا اتنا ہی تعارف ہے کہ وہ جون کی بیٹی ہے۔ہندوستان کے مشہور شاعر جانثار اختر اور ان کے بیٹے جاوید اختر کی مثال بھی جون ایلیا اور ان کی بیٹی کی سی ہی ہے۔ناصر کاظمی کے دو بیٹے شاعری کرتے ہیں شاعری کیا کرتے ہیں والد کو بدنام کرتے ہیں۔لہذا بہتر ہے کہ علامہ کے صاحب زادے جاوید اقبال کی طرح صرف اولاد ہونے پر ہی اکتفا کیا جائے۔شاعری چیزے دیگرے ہے جو شاعروں کی اولاد کے ہاتھ کم کم ہی آتی ہے۔البتہ احمد ندیم قاسمی اور ان کی بیٹی ناہید قاسمی کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔یوں کہنا چاہیے نظم کے اسرار و رموز جس طرح ناہید قاسمی پر کھلے ہیں وہ شاید احمد ندیم پر بھی نہ کھلے ہوں۔میدانِ شعر لمبے سانس کی گیم ہے اور میرا تھن ریس ہے۔یہ سو دو سو میٹر کی دوڑ نہیں ہے۔اردو ادب میں شاعرہ ابن شاعر کی عمدہ مثال آفتاب احمد شاہ اور صائمہ آفتاب کی ہے۔جینوئن شاعر باپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہونہار صائمہ نے آفتاب کا لاحقہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ویسے سی ایس پیوں پر بھی شاعری ذرا نامہربان ہی رہی ہے۔سول سروس کا مسئلہ شاعری ہوتا ہی نہیں اور جواباً شعر کا سول سروس والے دردِ سر نہیں ہوتے۔ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے جینوئن شاعر دو ہی ہیں ایک مصطفیٰ زیدی اور دوسرے آفتاب احمد شاہ۔اول الذکر کو تسلیم کر لیا گیا ہے البتہ مقدم الذکر کا شعر ابھی انصاف طلب ہے۔دو سال قبل ان کا کلیات ” کوئے ملامت“ کے نام سے ظہور پذیر ہوا تھا اور اس سال ”عمر بھر کی بات“ کے نام سے خود صائمہ کا شعری مجموعہ سامنے آیا ہے۔
صائمہ آفتاب کا شعر عمدگی کی مثال تو ہے ہی اس نے بطور شاعرہ جس طرح باپ کا نام روشن کیا ہے اس کی داد نہ دینا بھی ادبی بددیانتی ہو گی۔صائمہ آفتاب کا کام دو عشروں پر مشتمل ہے اس عرصے کے دوران اس نے غزل اور نظم کو اپنے شعری اظہار کا ذریعہ بنایا۔
غزل کی موجودہ صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔نئے مضامین غزل کی لائف لائن ہیں مگر یہاں ابھی حسن و عشق کی گھتیاں سلجھائی جا رہی ہیں تو نیا مضمون کہاں سے آئے گا۔غزل گو فارسی غزل سے مستعار تراکیب کا اس درجہ دیوانہ ہے کہ وہی تراکیب استعمال کیے جا رہا ہے۔تراکیب سے گریز اور بصری تمثالیت کا حسن ہی غزل کو نیا خون دے سکتا ہے۔صائمہ آفتاب نے غیر شعوری یا شعوری طور پر اس نکتے کی اہمیت کو جانا ہے۔
سنہری نیند ہلکا زیر و بم آہستہ آہستہ/ درود ِتاج کا سینے پہ دم آہستہ آہستہ/ یہ آبِ تند رو پر جھولتے پل کی مسافت/ کنارے پر کھڑے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے/چہچہاتے رواں پرندے ہیں/ رونقِ دو جہاں پرندے پرندے ہیں/ کب وصل سے آگے بھی کوئی بات بڑھے گی/ کب ہو گی یہاں گفتگو آغاز ہماری/ سبھی توفیق بھر پہنچا رہے ہیں /یہ غم مسجد کا چندہ بن گیا ہے
صائمہ کی غزل مرد عورت کا تعلق بانداز ِدگر دیکھتی ہے۔یہاں خالی خولی لفظوں والی بغاوت کے مضامین نہیں یہاں زندگی اور حوصلہ پوری شان سے جلوہ گر ہوتے ہیں نہ زندگی کو مات ہوتی ہے نہ حوصلہ پیچھے رہتا ہے۔
یہاں ایک وقار، ایک تہذیب، ایک رکھ رکھاؤ اور شائستگی بھرا تعلق ہے اور اس کی شیرینی۔
تم مری زندگی سے جاؤ گے/ تم مری زندگی میں ہو ہی نہیں/ نظر آئی اسے اپنی حقیقت/ نشانے پر لگا پتھر ہمارا / غمِ حیات سے چھپ کر پناہ لی جس میں/ میں عافیت کے اسی گھر میں مار دی گئی ہوں/ بدلی نہیں اے گردش دوراں ترا بھلا / ہم بھی رواں دواں ہیں بہر حال روڈ پر۔
عصری اور معروضی صورت احوال اس غزل کا ایک اور اہم موضوع ہے۔
مسئلوں کی طویل لسٹ لیے/ جیسے بوتل سے جن نکل آیا/کیا بتاؤں کہ گام گام یہاں/ سہنا پڑتی ہے نظریاتی موت
/میں ایک یاد کا دوزخ بجھا نہیں سکتی / تری ہوس کا یہ تنور دیکھنے کے لیے۔
آفتاب احمد شاہ کے ہاں گھن گھرج اور کچھ کر گزرنے کا انداز فکر نمایاں ہے۔ ان کے سامنے جیسے اقبال کا یہ شعر رہا تھا۔گفتند جھان ما آیا بتو می سازد/گفتم کہ نمی سازد گفتند کہ برہم زن۔
وہ ایک نئی دنیا بنانے کے لیے موجود دنیا کو توڑ دنیا چاہتے تھے مگر صائمہ نے زندگی کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ان کے والد کہتے ہیں
داستاں پچھلے برس جیسی ہی عبرت ناک ہے اب کے برس/ کھیت میں فصلوں کے بدلے پھر خس و خاشاک ہے اب کے برس
مگر صائمہ کا کہنا ہے کہ میں اس زندگی کے داؤ پیچ ایک قیمت ادا کر کے سمجھی ہوں سو یہی گر اپنے بھائیوں تک بھی منتقل کروں گی۔یہ اندازِ فکر ان کی متوازن شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
جن شاعروں کی اولاد کا اوپر ذکر ہوا اصل میں انہیں اپنے باپ کے مقام کا احساس نہیں اگر ذرہ بھر بھی احساس ہوتا تو وہ یوں اسلاف کا برا نہ چاہتے۔صائمہ آفتاب نے باپ کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ ہم نے اسے باپ، خاندان اور علاقے کے توقیر میں اضافے کا موجب بننے میں مبارک باد دی تھی۔شاعر کی کوئی غزل یا غزل کا کوئی شعر مشہور ہو جانا خوش قسمتی کہلاتا ہے۔عمر بھر کی بات کے فنگشن کم و بیش سو کے قریب شعرا موجود تھے ان میں ایک آدھ شاعر کے علاوہ کسی کا کوئی شعر شاید ہی کسی کو یاد ہو۔جو ساری عمر کی ریاضت کے بعد بھی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے اور نہ اپنا نمائندہ شعر پیش کر سکتے ہیں انہیں اپنی شاعری کو دوبارہ وزٹ کرنا چاہیے۔
میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گر سکھاتی تھی
مرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں


