ڈونلڈ ٹرمپ جدید عالمی سیاست کی اُن شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے غیر روایتی انداز، جارحانہ بیانات اور متنازع طرزِ عمل کے ذریعے دنیا بھر میں شدید بحث کو جنم دیا۔ ان کے حامی انہیں ایک دلیر، بے خوف اور غیر روایتی رہنما سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک ان کی شخصیت میں ایسے نفسیاتی رجحانات موجود ہیں جو ذہنی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امریکی جامعات، ماہرینِ نفسیات اور سیاسی مبصرین کے درمیان یہ سوال بار بار زیرِ بحث آیا کہ آیا ٹرمپ کے رویّے محض سیاسی حکمتِ عملی ہیں یا ان کے پس منظر میں کوئی نفسیاتی مسئلہ بھی موجود ہو سکتا ہے۔
اس بحث کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب متعدد امریکی ماہرینِ نفسیات نے کھل کر ٹرمپ کی شخصیت پر تشویش کا اظہار کیا۔ 2022ء میں جسٹن ٹی پکورَیلی اور آر۔ میک گریگر کاولی کی تحقیق
“The Case of Donald Trump and the Goldwater Rule: Politics and Professional Ethics Intertwined”
میں اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ٹرمپ کے طرزِ گفتگو اور سیاسی رویّوں نے نفسیاتی حلقوں میں غیر معمولی بے چینی پیدا کی۔ تحقیق کے مطابق ان کی شخصیت میں شدید خود پسندی، مسلسل توجہ حاصل کرنے کی خواہش، مخالفین کے خلاف جارحانہ زبان اور حقائق کو اپنے مؤقف کے مطابق پیش کرنے کا رجحان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ محققین نے اگرچہ براہِ راست ذہنی بیماری کی تشخیص نہیں کی، مگر یہ ضرور کہا کہ ان کے رویّے کئی نفسیاتی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
اسی طرح معروف امریکی ماہرینِ نفسیات اسکاٹ لِلینفیلڈ، جوشوا ملر اور ڈونلڈ لائنم نے اپنی تحقیق
“The Goldwater Rule: Perspectives From, and Implications for, Psychological Science”
میں اس معاملے کا سائنسی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی شخصیت میں بعض ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو “نرگسیت پسند شخصیت” (Narcissistic Personality Traits) سے مشابہت رکھتی ہیں۔ اپنی ذات کو غیر معمولی ثابت کرنے کی مسلسل کوشش، تنقید برداشت نہ کرنا، جذباتی ردِعمل اور مخالفین کی تضحیک ایسے عوامل ہیں جنہیں نفسیات میں غیر معمولی شخصیت کی علامات سمجھا جاتا ہے۔
اس موضوع پر سب سے زیادہ توجہ اُس وقت حاصل ہوئی جب 37 امریکی ماہرینِ نفسیات نے مشترکہ طور پر کتاب
“The Dangerous Case of Donald Trump”
شائع کی۔ اس کتاب میں شامل مضامین میں مصنفین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ کی شخصیت میں موجود بعض رجحانات سیاسی اور سماجی سطح پر خطرناک اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ کتاب میں ان کے غیر متوقع فیصلوں، غصے، اور حقیقت کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنے کے انداز کو تشویش ناک قرار دیا گیا۔ اگرچہ ناقدین نے اس کتاب کو سیاسی جانبداری قرار دیا، لیکن یہ حقیقت اہم ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ماہرینِ نفسیات کا کسی ایک سیاسی شخصیت پر متفق ہونا غیر معمولی واقعہ تھا۔
ٹرمپ کے عوامی بیانات اور سیاسی طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو کئی سوالات سامنے آتے ہیں۔ وہ اکثر اپنی کامیابیوں کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں، میڈیا کو مسلسل “جھوٹا” قرار دیتے ہیں اور ہر قسم کی تنقید کو ذاتی حملہ تصور کرتے ہیں۔ نفسیات میں ایسی علامات بعض اوقات شخصیت کے شدید اضطراب یا غیر متوازن رجحانات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے فیصلوں میں فوری جذباتی ردِعمل اور غیر متوقع طرزِ عمل نمایاں دکھائی دیتا ہے، جو ایک عالمی طاقت کے سربراہ کے لیے فکری تشویش پیدا کرتا ہے۔
تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی فرد کو براہِ راست طبی معائنے کے بغیر ذہنی مریض قرار نہ دیا جائے۔ امریکی نفسیاتی تنظیم کا “Goldwater Rule” بھی اسی اصول پر زور دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین نے حتمی تشخیص کے بجائے صرف تشویش اور امکانات کی بات کی۔ لیکن اگر متعدد ماہرینِ نفسیات ایک ہی شخصیت کے رویّوں میں مسلسل غیر معمولی علامات محسوس کریں تو اس بحث کو مکمل طور پر سیاسی مخالفت کہہ کر مسترد کرنا بھی مناسب نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈونلوڈ ٹرمپ کی شخصیت آج بھی نفسیات، سیاست اور میڈیا کے لیے ایک پیچیدہ موضوع بنی ہوئی ہے۔ شدید خود اعتمادی، مسلسل توجہ کی خواہش، جذباتی بے اعتدالی اور سخت ردِعمل جیسے عوامل اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ ان کی شخصیت میں کسی نفسیاتی پیچیدگی کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ حتمی فیصلہ صرف طبی معائنہ ہی کر سکتا ہے، لیکن دستیاب تحقیقات اور ماہرین کی آراء یہ ضرور ثابت کرتی ہیں کہ اس سوال کو محض سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


