9 مئی 2024 وہ دن تھا جب بھارت جیسی بڑی طاقت پر پاکستان کی غیر متوقع عسکری برتری ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ۔ اس واقعہ نے پاکستان کو عالمی افق پر ایک خودمختار اور دفاعی اعتبار سے مضبوط ملک کے طور پر نمایاں کیا اور امریکہ سمیت دنیا بھر کو حیرت میں ڈال دیا۔
آپریشن بنیان المرصوص صرف بھارت پر پاکستان کی فوجی برتری کا مظہر نہیں تھا بلکہ اس پیش رفت نے امریکہ جیسی سپر پاور کی عالمی حکمتِ عملی اور انٹیلیجنس صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ۔ اب یہ بات کسی حد تک کھلا راز بن چکی ہے کہ 9 مئی 2025 کو پاکستان پر بھارتی حملے کے پس منظر میں امریکی حمایت موجود تھی۔ امریکہ نے بھارت کو پاکستان کی عسکری اور معاشی صلاحیتوں کے حوالے سے تخمینے فراہم کیے، جن کی بنیاد پر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جسارت کی تھی۔ تاہم “آپریشن بنیان المرصوص” کی صورت میں پاکستان کے ردِعمل نے نہ صرف بھارت کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کے بارے میں امریکی معلومات کی کمزوریوں کو بھی آشکارہ کر دیا، جس سے واشنگٹن کے اندازے بری طرح متاثر ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک روز قبل جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا امریکہ پاک بھارت جنگ رکوانے میں کوئی کردار ادا کرے گا، تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے قدرے رعونت سے جواب دیا تھا کہ “یہ بھارت اور پاکستان کا دوطرفہ معاملہ ہے، ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔” مگر اس بیان کی بازگشت ابھی فضا میں تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی درخواست پر صدر ٹرمپ کو جنگ بندی کے لیے مداخلت کرنا پڑی، کیونکہ اس جنگ میں پاکستانی فضائیہ نے جدید جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
پاکستان کے چینی ساختہ جے ایف-10 طیاروں نے سیٹلائٹ گائیڈڈ حملوں کے ذریعے پہلے بھارتی جی پی ایس اور ریڈار سسٹمز کو متاثر کیا، پھر الفتح میزائلوں سے اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب پاکستانی سائبر ماہرین نے سائبر حملوں کے ذریعے دہلی تک بجلی کی فراہمی کے نظام کو متاثر کیا۔ اس طویل فضائی معرکے میں بھارت کے جدید رافیل طیاروں کی تباہی نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو بھارت کو مزید بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
حیران کن امر یہ تھا کہ پاکستان نے اس جنگ میں کوئی امریکی ساختہ طیارہ یا ہتھیار استعمال نہیں کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ امریکہ جیسی عالمی قوت پاکستان کے اندر ہونے والی دفاعی تبدیلیوں کا درست اندازہ نہ لگا سکی۔ امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کی غلطی اس حقیقت کی غماز تھی کہ پاکستان اب دفاعی اعتبار سے امریکہ اور مغرب پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ بڑی حد تک خودکفالت کی طرف بڑھ چکا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ، جنہیں بعض حلقے خفیہ طور پر بھارتی حملے کا محرک سمجھتے ہیں، جنگ بندی کے بعد پاکستان کی غیر معمولی تعریفیں کرتے اور بھارتی وزیرِاعظم کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے، گویا وہ اس شکست کے اثرات سے خود کو الگ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
امریکی مقتدرہ کا اندازہ تھا کہ ایک بڑی جنگ پاکستانی فوج کو سیاسی معاملات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتی ہے، مگر 9 مئی 2024 کی جنگ میں امریکی “تعاون” کے بغیر پاک فوج کی برتری نے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا بلکہ ایشیا میں امریکہ کے لیے ایک نئی اور غیر متوقع صورتحال پیدا کر دی۔ اسی جنگ کے نتیجے میں داخلی سطح پر بھی فوج کی گرفت مزید مضبوط ہوئی۔
بھارت پر عسکری برتری کے بعد پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر ایک مضبوط ملک کے طور پر ابھرا بلکہ دنیا میں پاکستان کے بارے میں عمومی تاثر بھی تبدیل ہو گیا۔ گزشتہ 78 برسوں میں دنیا پاکستان کو زیادہ تر امریکہ کے اتحادی یا تابع ملک کے طور پر دیکھتی تھی، مگر اب پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ 2013 میں جب امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان سے انخلا کا فیصلہ کرتے ہوئے دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا تو اسی وقت پاکستان نے بھی امریکہ اور یورپ پر انحصار کرنے والے دفاعی ڈھانچے کے متوازی چین، روس اور ترکی کے ساتھ متبادل دفاعی تعاون پر کام شروع کر دیا تھا۔ اگست 2021 میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا تک پاکستان اس نئے دفاعی ڈھانچے کی بڑی حد تک تشکیل مکمل کر چکا تھا، صرف سیکیورٹی آرڈر کی تبدیلی باقی تھی۔
چنانچہ 9 مئی 2025 کو بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے اس موقع کو اپنے قومی سلامتی کے نئے پیراڈائم کی تشکیل کے طور پر استعمال کیا اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو امریکی انحصار سے الگ کر کے مغربی نفسیاتی برتری سے نجات حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔
آج جنوبی ایشیا میں پاکستان ایک ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور اسی پیش رفت نے مسلم و غیر مسلم ممالک کے رویّوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے غلبہ کے شکار مسلم ممالک اب پاکستان کو ایک نئی امید کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مصر، ایران، لیبیا، سوڈان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
ایران جنگ کے دوران پاکستان نے جس اعتماد کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو جنگ بندی تک پہنچانے کی کوشش کی، اس سے دنیا میں پاکستان کے ایک بااعتماد علاقائی کردار کا تاثر مزید مضبوط ہوا۔
بھارت پر پاکستان کی پہلی بڑی عسکری کامیابی کے بعد قوم میں فوج کی عزت اور اعتماد میں اضافہ ہوا اور بہت سے لوگوں کے نزدیک فوج پر “امریکی پراکسی” ہونے کا تاثر بھی کمزور پڑا ہے ، اب عوام کی ایک بڑی تعداد پاک فوج کو قومی دفاع کی حقیقی علامت کے طور پر دیکھتی ہے۔
اس کامیابی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد اور وقار میں اضافہ اور پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے قومی احساسِ فخر کو تقویت پہنچائی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ ماضی میں قوم نے جنرل ایوب، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف جیسے فوجی حکمرانوں کو کبھی قومی رہنما کے طور پر قبول نہیں کیا تھا، بلکہ قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان جیسے سیاسی رہنماؤں کو ہی قومی قائدین تسلیم کیا جاتا رہا ہے ۔
تاہم بھارت کے خلاف اس کامیابی کے بعد پہلی بار عوام کی ایک بڑی تعداد نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ایک مضبوط قومی رہنما کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ عوامی سوچ کی یہ تبدیلی ، سیاسی قیادت کی کم ہمتی ، مصلحت کوشی اور اخلاقی کمزوریوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے خلاء کو فوجی قیادت کے ذریعے پر کرنے کی طرف مائل ہو سکتی ہے ۔ لاریب ! گورننس کے بحران اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کے ماحول میں بھارت پر واضح عسکری برتری نے فوجی قیادت کو ایک نئے کردار میں سامنے آنے کا موقع دیا ہے، جسے عوام کے ایک بڑے طبقے نے قبول بھی کر لیا ہے۔
اب یہ ذمہ داری فوجی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی طرح صرف ادارہ جاتی مفادات تک محدود نہ رہے بلکہ قومی امنگوں کے مطابق مذہبی و سماجی ازادیوں اور عوامی فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے آگے بڑھے۔


