اور میں چپ رہا/محمد کوکب جمیل ہاشمی

میں اس وقت پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کلاس میں میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ اس لئے روزانہ اسکول میں چپ چپ رہتا تھا اور چھٹی ہونے پر خاموشی سے گھر آ جاتا۔ ایک روز میرے بستے میں سے کسی نے میری ایک کتاب چرا لی۔ میں سناٹے میں آ گیا۔ ماسٹر صاحب کو کتاب کی گمشدگی کے بارے میں بتایا تو ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پہ پڑا۔ ماسٹر صاحب نے کلاس سے سوال کرنے کی بجائے اس بات پہ میری سرزنش کی کہ میں اپنے بستے سے اتنا غافل کیوں رہا کہ کتا ب چوری کر لی گئی۔ تھپڑ کھانے کی تکلیف سے میرے آنسو نکل آۓ۔ مگر میں رویا نہیں اور چپ رہا۔

میرے والد کا تعلق مثل کلاس سے تھا، وقت گزرنے کے ساتھ میں بھی اگلی جماعتیں پاس کرتا مڈل کلاس (آٹھویں جماعت) میں پہنچ گیا۔ اب تک میں سات آٹھ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا، مگر ابھی بھی میرا زمانہ ٹھاٹھ بھاٹ کا نہیں تھا، بلکہ ٹاٹ پر بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا تھا۔ میرے ہم جماعتوں کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی واسطہ نہیں تھا، مگر میرے ساتھ ان کا ہر بات پہ اختلاف رہتا تھا، جیسے وہ حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں۔ مجھے ان کا برا رویہ بہت کھلتا تھا۔ میں آدھی چھٹی میں ان کے قریب جاتا تو وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگتے۔ وہ میری میلی یونیفارم کو دیکھ کر نفرت کا اظہارکیا کرتے تھے۔ مجھے غصہ تو بہت آتا تھا مگر میں پی جاتا تھا۔ مجھے والدین کی طرف سے ضبط و تحمل کا درس نہ ملا ہوتا تو اپنی بے عزتی پہ ان سے لڑ پڑٹا، مگر میں خاموش رہا۔

اللہ اللہ کرکے دسویں جماعت میں پہنچا تو بھائی جان نے کہا کہ اب تمہیں خوب محنت کرنی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میٹرک کے امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئے بغیر اچھے کالج اور اچھے مضامین میں داخلہ نہیں ملے گا۔ ہم نے انکی یہ نصیحت پلے باندھ لی۔ ہم ہمہ وقت پڑھائی میں مصروف رہنے لگے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ٹسٹ میں میرے نمبر دس میں سے دس آتے گۓ۔ میرے ہم جماعت میری ایسی کامیابیوں پہ ناخوش تھے۔ انہوں نے میرے چھیڑ بنا لی اور وہ مجھے دس نمبری کہہ کر پکارنے لگے۔ مجھے ایسے القاب سے سخت نفرت تھی۔ یوں دوسروں کو برے ناموں سے پکارنا اچھے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے ہم جماعتوں کی ان اوچھی حرکات سے سخت نالاں تھا مگر مجھ پہ دھن سوار تھی کہ امتحان میں اچھے نمبر لینے ہیں، اس لئے میں نے چپ سادھ لی۔

پوری کلاس میں امتیاز نامی میرا ایک ہی دوست تھا، رفتہ رفتہ امتیاز کے ساتھ قربت بڑھ گئی تو ہم دونوں نے مل بیٹھ کر اکٹھے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ دسویں جماعت کے امتحان میں ہم دونوں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہو گئے۔ اس وقت تک بھائی جان کو ملازمت مل چکی تھی۔ ان کی بدولت گھر کی ضروریات کافی حد تک پوری ہونے کا امکان پیدا ہو گیا۔ بھائی جان نے اپنی پہلی تنخواہ کی خوشی میں مجھ سمیت سب گھر والوں کے کپڑے سلوا کر دیئے۔ ان دنوں ملک بھر میں خشک سالی کا راج تھا نماز استسقاء بھی پڑھی جارہی تھی۔ مجھے اپنا نیا سلا ہوا سوٹ بہت پسند تھا۔ ایک دن میں بھائی جان کے ساتھ نیا سوٹ پہن کر ایک شادی میں جا رہا تھا۔ راستے میں اچانک کسی نے پانی سے بھری ایک بالٹی ہم پر انڈیل دی۔ میں نے پانی سے بچنے کی کوشش کی، مگر جلدی میں پاؤں پھسلا اور میں سڑک پر پھیلے کیچڑ آلود پا نی پر چاروں شانے چت گر پڑا۔ اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ مگر میری ساری توجہ اپنے نۓ سوٹ پر مرکوز تھی جو بری طرح کیچڑ آلود ہو چکا تھا۔ میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ سب تماشبین ہنس رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ہر آنے جانے والے راہی پر پانی پھینکا جا رہا ہے تاکہ بارش برسنی شروع ہو جاۓ۔ عجیب توہم پرست لوگ تھے جو باران رحمت کے لئے دوسروں کے لئے زحمت بن رہے تھے۔ میرا دل چاہا کہ ان کو بری طرح پیٹوں۔ مگر بھائی جان نے صبرو ضبط کا وعدہ یاد دلا دیا اور پھر ہم چپ کا روزہ رکھ کر شادی میں شرکت کئے بغیر خاموشی سے گھر لوٹ آۓ۔ میں کیا کہتا۔ بس خاموش رہا۔

وقت گزرتا گیا اور اس عاجز نے کمپیوٹر تسائنس میں گریجوایشن کر لی۔۔ بہت ساری کمپنیوں میں درخواستیں دیں اور انٹرویوز دئے۔ مگر ہر بار کورا جواب ملا کہ انہیں تجربہ کار ملازم درکار ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ڈگریاں محض کورا کاغذ ہیں۔ مگر میں کیا کرتا سواۓ اس کے کہ خاموش رہتا۔ سو میں چپ رہا۔ اتفاق سے ایک سرکاری دفتر میں اسسٹنٹ کی آسامیاں نکلیں۔ تحریری امتحان اور زبانی مکالمے کے بعد خوش قسمتی سے مجھے ملازمت مل گئی۔ میری پوری کوشش تھی کہ محنت اور دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دوں۔ الحمد للّہ کام کے معاملے میں میری اچھی ساکھ بن گئی۔ مگر مجھے یوں لگا کہ میری ساکھ میرے لۓ وبال جان بن گئی ہے۔ ہر روز میرے افسر دوسرے نالائقوں کے کام یہ کہہ کر مجھے سونپ دیتے کہ تم لکھت پڑھت کا کام اچھا کرتے ہو اس لۓ یہ کام تم ہی کردو۔ رفتہ رفتہ مجھ پر اتنا کام لاد دیا گیا کہ میں ہر وقت فائلوں میں جتا رہتا۔ میرے اوقات کار بڑھتے چلے گئے۔ دوسرے عمال کے کاموں کا بوجھ اتنا بڑھا کہ کمر دکھنے لگی۔ یہاں تک کہ میں کمر درد کا مریض بن گیا۔ میں نے اپنے افسر سے کام میں کمی کرنے کی درخواست کی مگر انہوں نےمیری ایک نہ سنی۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ میں چپ ہو رہا۔ گھر والوں کو میری صحت کی فکر لاحق ہوئی، ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو مشورہ ملا کہ جاری ملازمت کو ترک کر دو۔ ملازمت چھوڑنے کا موقع نہیں تھا چنانچہ میری رائے معلوم کی گئی کہ کیوں نہ میری شادی کر دی جآۓ۔ میں نے کچھ نہ کہا اور خاموش ہو رہا۔ گھر والوں نے میری خاموشی کو نیم رضامندی سمجھ لیا اور پھر میری شادی کر دی گئی۔ اب میں کسی بات پہ چپ نہیں رہتا ہوں۔ بیگم ہوں یا بچے ہر بری بات پہ روک ٹوک ضرور کرتا رہتا ہوں۔

“ اور میں چپ رہا”
تحریر:- محمد کوکب جمیل ہاشمی

میں اس وقت پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کلاس میں میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ اس لئے روزانہ اسکول میں چپ چپ رہتا تھا اور چھٹی ہونے پر خاموشی سے گھر آ جاتا۔ ایک روز میرے بستے میں سے کسی نے میری ایک کتاب چرا لی۔ میں سناٹے میں آ گیا۔ ماسٹر صاحب کو کتاب کی گمشدگی کے بارے میں بتایا تو ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پہ پڑا۔ ماسٹر صاحب نے کلاس سے سوال کرنے کی بجائے اس بات پہ میری سرزنش کی کہ میں اپنے بستےسے اتنا غافل کیوں رہا کہ کتا ب چوری کر لی گئی۔ تھپڑ کھانے کی تکلیف سے میرے آنسو نکل آۓ۔ مگر میں رویا نہیں اور چپ رہا۔

میرے والد کا تعلق مثل کلاس سے تھا، وقت گزرنے کے ساتھ میں بھی اگلی جماعتیں پاس کرتا مڈل کلاس (آٹھویں جماعت) میں پہنچ گیا۔ اب تک میں سات آٹھ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا، مگر ابھی بھی میرا زمانہ ٹھاٹھ بھاٹ کا نہیں تھا، بلکہ ٹاٹ پر بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا تھا۔ میرے ہم جماعتوں کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی واسطہ نہیں تھا، مگر میرے ساتھ ان کا ہر بات پہ اختلاف رہتا تھا، جیسے وہ حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں۔ مجھے ان کا برا رویہ بہت کھلتا تھا۔ میں آدھی چھٹی میں ان کے قریب جاتا تو وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگتے۔ وہ میری میلی یونیفارم کو دیکھ کر نفرت کا اظہارکیا کرتے تھے۔ مجھے غصہ تو بہت آتا تھا مگر میں پی جاتا تھا۔ مجھے والدین کی طرف سے ضبط و تحمل کا درس نہ ملا ہوتا تو اپنی بے عزتی پہ ان سے لڑ پڑٹا، مگر میں خاموش رہا۔

اللہ اللہ کرکے دسویں جماعت میں پہنچا تو بھائی جان نے کہا کہ اب تمہیں خوب محنت کرنی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میٹرک کے امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوئے بغیر اچھے کالج اور اچھے مضامین میں داخلہ نہیں ملے گا۔ ہم نے انکی یہ نصیحت پلے باندھ لی۔ ہم ہمہ وقت پڑھائی میں مصروف رہنے لگے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ٹسٹ میں میرے نمبر دس میں سے دس آتے گۓ۔ میرے ہم جماعت میری ایسی کامیابیوں پہ ناخوش تھے۔ انہوں نے میرے چھیڑ بنا لی اور وہ مجھے دس نمبری کہہ کر پکارنے لگے۔ مجھے ایسے القاب سے سخت نفرت تھی۔ یوں دوسروں کو برے ناموں سے پکارنا اچھے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے ہم جماعتوں کی ان اوچھی حرکات سے سخت نالاں تھا مگر مجھ پہ دھن سوار تھی کہ امتحان میں اچھے نمبر لینے ہیں، اس لئے میں نے چپ سادھ لی۔

پوری کلاس میں امتیاز نامی میرا ایک ہی دوست تھا، رفتہ رفتہ امتیاز کے ساتھ قربت بڑھ گئی تو ہم دونوں نے مل بیٹھ کر اکٹھے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ دسویں جماعت کے امتحان میں ہم دونوں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہو گئے۔ اس وقت تک بھائی جان کو ملازمت مل چکی تھی۔ ان کی بدولت گھر کی ضروریات کافی حد تک پوری ہونے کا امکان پیدا ہو گیا۔ بھائی جان نے اپنی پہلی تنخواہ کی خوشی میں مجھ سمیت سب گھر والوں کے کپڑے سلوا کر دیئے۔ ان دنوں ملک بھر میں خشک سالی کا راج تھا نماز استسقاء بھی پڑھی جارہی تھی۔ مجھے اپنا نیا سلا ہوا سوٹ بہت پسند تھا۔ ایک دن میں بھائی جان کے ساتھ نیا سوٹ پہن کر ایک شادی میں جا رہا تھا۔ راستے میں اچانک کسی نے پانی سے بھری ایک بالٹی ہم پر انڈیل دی۔ میں نے پانی سے بچنے کی کوشش کی، مگر جلدی میں پاؤں پھسلا اور میں سڑک پر پھیلے کیچڑ آلود پا نی پر چاروں شانے چت گر پڑا۔ اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ مگر میری ساری توجہ اپنے نۓ سوٹ پر مرکوز تھی جو بری طرح کیچڑ آلود ہو چکا تھا۔ میں نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ سب تماشبین ہنس رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ ہر آنے جانے والے راہی پر پانی پھینکا جا رہا ہے تاکہ بارش برسنی شروع ہو جاۓ۔ عجیب توہم پرست لوگ تھے جو باران رحمت کے لئے دوسروں کے لئے زحمت بن رہے تھے۔ میرا دل چاہا کہ ان کو بری طرح پیٹوں۔ مگر بھائی جان نے صبرو ضبط کا وعدہ یاد دلا دیا اور پھر ہم چپ کا روزہ رکھ کر شادی میں شرکت کئے بغیر خاموشی سے گھر لوٹ آۓ۔ میں کیا کہتا۔ بس خاموش رہا۔

وقت گزرتا گیا اور اس عاجز نے کمپیوٹر تسائنس میں گریجوایشن کر لی۔۔ بہت ساری کمپنیوں میں درخواستیں دیں اور انٹرویوز دئے۔ مگر ہر بار کورا جواب ملا کہ انہیں تجربہ کار ملازم درکار ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری ڈگریاں محض کورا کاغذ ہیں۔ مگر میں کیا کرتا سواۓ اس کے کہ خاموش رہتا۔ سو میں چپ رہا۔ اتفاق سے ایک سرکاری دفتر میں اسسٹنٹ کی آسامیاں نکلیں۔ تحریری امتحان اور زبانی مکالمے کے بعد خوش قسمتی سے مجھے ملازمت مل گئی۔ میری پوری کوشش تھی کہ محنت اور دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دوں۔ الحمد للّہ کام کے معاملے میں میری اچھی ساکھ بن گئی۔ مگر مجھے یوں لگا کہ میری ساکھ میرے لۓ وبال جان بن گئی ہے۔ ہر روز میرے افسر دوسرے نالائقوں کے کام یہ کہہ کر مجھے سونپ دیتے کہ تم لکھت پڑھت کا کام اچھا کرتے ہو اس لۓ یہ کام تم ہی کردو۔ رفتہ رفتہ مجھ پر اتنا کام لاد دیا گیا کہ میں ہر وقت فائلوں میں جتا رہتا۔ میرے اوقات کار بڑھتے چلے گئے۔ دوسرے عمال کے کاموں کا بوجھ اتنا بڑھا کہ کمر دکھنے لگی۔ یہاں تک کہ میں کمر درد کا مریض بن گیا۔ میں نے اپنے افسر سے کام میں کمی کرنے کی درخواست کی مگر انہوں نےمیری ایک نہ سنی۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ میں چپ ہو رہا۔ گھر والوں کو میری صحت کی فکر لاحق ہوئی، ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو مشورہ ملا کہ جاری ملازمت کو ترک کر دو۔ ملازمت چھوڑنے کا موقع نہیں تھا چنانچہ میری رائے معلوم کی گئی کہ کیوں نہ میری شادی کر دی جآۓ۔ میں نے کچھ نہ کہا اور خاموش ہو رہا۔ گھر والوں نے میری خاموشی کو نیم رضامندی سمجھ لیا اور پھر میری شادی کر دی گئی۔ اب میں کسی بات پہ چپ نہیں رہتا ہوں۔ بیگم ہوں یا بچے ہر بری بات پہ روک ٹوک ضرور کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں