خوبصورت لڑکیوں کو شادی کے وقت دولہے سے عمر کے زیادہ ہونے کے معاملے میں کافی سہولت مل جاتی ہے۔ ان کے پرکشش نین نقش عمر کو چھپا نہ بھی سکیں تو نظر انداز ضرور کروا دیتے ہیں۔ اس بات کو وہ خود بھی اچھی طرح جانتی ہیں۔ مگر کچھ لڑکیاں یہ سب جانتے ہوئے بھی رشتہ طے ہوتے وقت خود سے کم عمر لڑکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ اسی چکر میں شادی مزید لیٹ ہوتی جاتی ہے کہ کہیں بعد میں عمر کا طعنہ نہ سننا پڑے، کیونکہ لڑکی کے لیے خاوند سے عمر میں زیادہ ہونے کا طعنہ سہنا آسان نہیں ہوتا—خصوصاً جب یہ طعنہ سسرال کی کسی خاتون (ساس، نند، جیٹھانی یا دیورانی) کی طرف سے آئے۔
لیکن ہر جگہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ آج پانچ سال بعد ایک ایسا ہی واقعہ شیئر کر رہا ہوں۔ کرونا کا زمانہ تھا، بلکہ ختم ہو رہا تھا۔ میری ایک پرانی جان پہچان والی لڑکی نے رابطہ کیا کہ اسے مجھ سے ایک ضروری کام ہے۔ کسی دور میں ہم اچھے دوست رہے تھے۔ میں نے پوچھا: بتاؤ کیا کام ہے؟ اس نے کہا کہ وہ اپنی عمر شناختی کارڈ پر دو سال کم کروانا چاہتی ہے۔ اس کے بعد میٹرک کی ڈگری، پاسپورٹ، گورنمنٹ جاب اور اکاؤنٹ آفس کے ریکارڈ کو بھی اپ ڈیٹ کروانا ہے۔
میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرنا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ جہاں رشتہ طے ہوا ہے، وہ لڑکا اس سے ایک سال چھوٹا ہے۔ وہ اپنی عمر دو سال کم کرکے خود کو اس سے چھوٹا ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ کہنے لگی: “میں اس سے بڑی بیوی نہیں بننا چاہتی، دل و دماغ یہ بات نہیں مانتے۔ لوگ اچھے ہیں، لڑکا بھی اچھا ہے، بڑی مشکل سے رشتہ ملا ہے، اب مزید آپشن دیکھنے کی گنجائش نہیں۔”
میں نے اسے سمجھایا کہ ایک سال کے فرق پر اتنی سنجیدگی مناسب نہیں۔ تم جیسی شکل و صورت اور قد و کاٹھ والی لڑکی کو پانچ سات سال کے فرق کے ساتھ بھی قبول کر لیا جاتا ہے۔ وہ بولی: “اگر میری عمر چھبیس یا ستائیس ہوتی اور لڑکا تئیس چوبیس کا ہوتا تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ مگر اب میں اکتیس کی ہوں اور وہ تیس کا ہے۔ مجھے تیس سے کم ہونا ہے۔ تم سے مشورہ نہیں، مدد چاہیے۔ ہر صورت یہ کام کرنا ہے۔”
اب میرے پاس انکار کا زیادہ آپشن نہیں تھا، مگر میں نے اس سے ایک وعدہ لیا کہ شادی کے پانچ سال بعد سچ سچ بتائے گی کہ کیا اس کے خاوند نے کبھی اس کی عمر کے حوالے سے کوئی بات یا اشارہ کیا۔ اس نے وعدہ کیا۔
کچھ معاملات طے ہوئے، ٹیسٹ ہوئے، عدالت سے آرڈر ہوا اور شناختی کارڈ نئی تاریخِ پیدائش کے ساتھ اپ ڈیٹ ہو گیا۔ بعد میں ڈگری، پاسپورٹ اور سرکاری ریکارڈ بھی اسی حساب سے درست کروا دیا گیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، وقت گزرتا گیا۔
پانچ سال بعد عید پر اس کا پیغام آیا تو مجھے وہ وعدہ یاد آ گیا۔ میں نے پوچھا تو اس نے بتایا: “تم ٹھیک تھے۔ میرے خاوند نے آج تک میرا شناختی کارڈ ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ وہ مذہبی مزاج کے ہیں، سالگرہ وغیرہ نہیں مناتے، اس لیے انہیں میرے جنم دن یا سال سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی، حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔”
مزید اس نے بتایا کہ اس کے سسرال والے بھی بہت وسیع ظرف اور خوش اخلاق ہیں۔ خود دینی ماحول رکھتے ہیں مگر اسے آزادی بھی دیتے ہیں۔
اس واقعے کو شیئر کرنے کا مقصد واضح ہے۔ شادی کے معاملے میں لڑکی کا عمر میں دو چار سال بڑا ہونا ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکوں کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ ہم اس بات کو اتنا نہیں سوچتے جتنا اکثر لڑکیاں سمجھتی ہیں۔ ہاں، بعض اوقات عورتیں ناراضگی میں طعنہ دے دیتی ہیں، مگر اگر سامنے والا اسے اہمیت نہ دے تو وہ بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔
پڑھی لکھی اور خاص طور پر خود مختار غیر شادی شدہ خواتین کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خود سے کم عمر لڑکے کو قبول نہیں کرتیں، جس سے وقت گزرتا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر سامنے والے کو اعتراض نہیں تو اتنی پریشانی کی ضرورت نہیں۔ ہمارے معاشرے میں دو چار سال عمر کم بتانا بھی ایک حد تک قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میرا یہ مشاہدہ زیادہ تر پنجاب کے دیہی علاقوں کے تجربے پر مبنی ہے۔ شہروں میں صورتِ حال کچھ مختلف ہو سکتی ہے، مگر میرے مشاہدے کے مطابق حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور منڈی بہاؤالدین وغیرہ میں عمومی طور پر یہی رویہ پایا جاتا ہے۔


