پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور مہنگائی کا طوفان/اطہر شریف

پاکستان میں 8 مئی 2026 کو پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔
اسی طرح ڈیزل کی قیمت 15روپے فی لیٹر اضافے کے بعد 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ دنیا بھر میں کروڈ آئل کی قیمت 116 ڈالر سے کم ہو کر 107 ا47 ڈالر فی بیرل پر اوسط” آ چکی ہے عرب تیل کی ہے اور پاکستان میں فی لیٹر اس کی قیمت پاکستان پر 14 روپے 91 پیسے کمی ہونی چاہیے بجائے اس کے کمی کرنے کے حکومت نہیں پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ لاد دیا-اضافے کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 103روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 28 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی-

حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں پر مجموعی طور پر فی لیٹر 160 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کی شرط بھی پوری کر لی ۔اب اعداد وشنار کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں حکومت عوام کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے پر اتر چکی ہے -ایک لیٹر پیٹرول پر143 روپے63 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر130 روپے 55 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔
پیٹرول کی ڈیوٹی سے قبل ایکس ریفائنری قیمت247 روپے 32 پیسے ہے، تاہم مختلف ٹیکسز اور مارجنز کی شمولیت کے بعد عوام کے لیے پیٹرول کی حتمی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔پیٹرول کی قیمت میں 23 روپے 72 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 32 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن شامل ہے۔
مزید برآں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 117 روپے 41 پیسے کی پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے، جو حتمی قیمت کا ایک بڑا حصہ58.07 % فیصد بنتی ہے۔اور فریٹ پیڑولیم کمپنی اور ڈیلرز کے کمیشن 23 روپے 73 پیسے بنتے ہیں جو کہ ایسس ریفائنری 247 روپے 32 پیسے کا 9.63% فیصد بنتا ہے

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل ایکس ریفائنری قیمت 284 روپے 9 پیسے ہے، جس پر تمام تر ٹیکسز اور منافع جات شامل کرنے کے بعد شہریوں کے لیے قیمت414 روپے 58 پیسے ہو جاتی ہے – ڈیزل.کی قیمت میں51 روپے 62 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 32 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن شامل ہے۔لیوی 42 روپے 60 پیسے اور 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ-

اب تک حکومت عوام پر 33 روپے کے قریب لیوی ٹیکس زائد عائد کر چکی ہے بجائے ٹیکس اسی شرح پر منمد کر کے عوام کو ریلیف دینے کے الٹا عوام سے اپنی آمدنی ٹیکس میں اضافہ کر رہی ہے خطہ کے ممالک انڈیا بنگلہ دیش اور فرانس سنگاپور جیسے ممالک نے ٹیکس کی شرح پیڑولیم موضوعات پر کم کر کے اپنے عوام پر بوجھ کم کیا ہے لیکن پاکستان میں الٹا ٹیکس کو بڑھا کر حکومت اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے عوام مہنگائی کے طوفان سے بلبلا اٹھے ہیں -عالمی سطح پر تیل کے کم ہوتے رجحانات کے باوجود نئی قیمتوں کا تعین ڈیزل کو414 روپے 58 پیسے اور پیٹرول کی قیمت414 روپے 78 پیسے پرلی جانا ہے، آئی ایم ایف سے منسلک ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے گھریلو ایندھن کا بوجھ بڑھتا ہے۔ پاکستان نے پیٹرول پر 14روپے 82 پیسے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا کیونکہ لیوی میں 13روہے 81 پیسےاحافہ سے ایندھن کی قیمت میں اضافہ

پیٹرولیم مصنوعات قیمتیں حکومتی ٹیکس اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں اضافے کی وجہ سے بڑھائی گئیں، پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری لاگت میں کمی کے باوجود حکومت نے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں14 روپے 92 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا، اگر پیٹرول پر لیوی ٹیکس اور ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن نہ بڑھایا جاتا تو قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا تھا۔
پاکستان میں اس مہنگائی کے طوفان کے موقع پر بجائے ریلیف دینے کے ٹیکس اور لیوی کو 84 روپے مارچ کے مہینہ میں لیوی کی شرح کو منجمند کر کے ریلیف دینے کے الٹا اضافہ کرتے ہوئے اپنی ٹیکس آمدنی کو بڑھاتے ہوئے پیڑول پر لیوی 117 روپے 41 پیسے اور ڈیزل پر 42روپے 60 پیسے تک لے گئے
اور مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا
۔ فرانس اور دیگر ممالک نے اپنی عوام کی سہولت کے لئے پیٹرولیم مضوعات پر عائد ٹیکس کی شرح کم دی یا اسی سطح پر منجمند کر دی لیکن پاکستان حکومت نے اس موقع کو غینمت جانتے ہوئے اپنی آمدنی میں مزید اضافہ کر لیا-حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے فریم ورک سے منسلک مالی استحکام کے اقدامات کے تحت ایندھن کے زمروں کے درمیان ٹیکس کے بوجھ کو منتقل کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں کل پیٹرولیم لیوی وصولی پہلے ہی 1.2 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ 1.468 ٹریلین روپے کے سالانہ ہدف کے تقریباً 82 % فیصد کے برابر ہے۔ پیٹرول پر ٹیکس اب 143 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی، کسٹم ڈیوٹی، اور آب و ہوا سے متعلق چارجز شامل ہیں، جب کہ ڈیزل پر لگ بھگ130 روپے 55پیسے روپے فی لیٹر، جس میں کسٹم ڈیوٹی اور موسمیاتی معاونت کے اجزاء شامل ہیں، نچے تصویر میں چارٹ بھی موجود ہے

اپنا تبصرہ لکھیں