ایک بیٹی کی آخری گواہی/محمود اصغر چوہدری

گلاں بھارو نے سکھر کی عدالت کے باہر کھڑے ہو کر شاید اپنی زندگی کا سب سے سچا جملہ کہا تھا:
“مجھے یقین ہے کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا، لیکن باپ کی عزت کی خاطر موت بھی قبول ہے۔”

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ اس معاشرے کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ تھا جس نے عورت کو انسان نہیں، غیرت کا بوجھ بنا رکھا ہے۔ ایک ایسی بیٹی کی چیخ تھی جو جانتی تھی کہ جس دروازے کی طرف وہ واپس بھیجی جا رہی ہے، وہاں زندگی نہیں، موت اس کی منتظر ہے۔ مگر باپ کی پگ، خاندان کی عزت، قبیلے کی روایت اور مرد کی انا… ان سب کی قیمت ایک عورت کی سانسوں سے زیادہ رکھی گئی۔

آخر یہ “باپ کی عزت” کیا ہے؟
کیا اسلام نے یہ سکھایا ہے کہ ایک بیٹی شوہر کے ظلم، تشدد، گالیوں اور جھوٹے الزاموں کے باوجود خاموشی سے مرتی رہے؟
کیا قرآن میں کہیں لکھا ہے کہ اگر ایک عورت اپنی جان بچانے کے لیے پولیس کے پاس جائے، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے، پناہ مانگے، یا طلاق کا حق طلب کرے تو وہ خاندان کی بے عزتی بن جاتی ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ نے کبھی یہ فرمایا کہ ایک عورت کی جان سے زیادہ اہم مرد کی انا ہے؟

گلاں بھارو تین برس تک تشدد سہتی رہی۔ کاروکاری جیسے گھناؤنے الزام اس پر لگائے گئے۔ وہ تھانے پہنچی، عدالت پہنچی، اس نے ریاست سے کہا:
“مجھے بچا لو۔”
اور ریاست نے جواب دیا:
“ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔”

عدالت نے اسے دارالامان بھیجنے کا حکم دیا۔ قانون نے اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پھر عدالت کے باہر ایک باپ آیا۔ اس نے اپنی سندھی پگ بیٹی کے قدموں میں رکھ دی۔ وہ پگ صرف کپڑا نہیں تھی، صدیوں پرانی مردانہ غیرت کا بوجھ تھی۔ بیٹی سمجھ گئی کہ اگر وہ واپس گئی تو قتل کر دی جائے گی۔ اس نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ مگر ایک بیٹی باپ کی جھوٹی عزت کے سامنے ہار گئی۔

اور پھر وہی ہوا جس کا اسے یقین تھا۔
ماموں اور شوہر نے مل کر اسے گولیاں مار دیں۔
غیرت کے نام پر ایک اور عورت قتل کر دی گئی۔
اور قاتل شاید آج بھی اپنے آپ کو غیرت مند سمجھتے ہوں گے۔

اب سب کچھ بند کر دو۔
عدالتیں بند کر دو۔
پولیس ختم کر دو۔
قانون کی کتابیں جلا دو۔
کیونکہ اگر ایک عورت عدالت کے دروازے تک پہنچ کر بھی محفوظ نہیں، اگر ریاست کے وعدے بھی اسے زندگی نہیں دے سکتے، تو پھر اس نظام کے ہونے اور نہ ہونے میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟

یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں قاتل سینہ تان کر چلتے ہیں اور مقتول عورت ہی کردار کے کٹہرے میں کھڑی کر دی جاتی ہے؟
یہ کیسی غیرت ہے جو صرف عورت کے خون سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟
یہ کون سا مرد ہے جو اپنی انا بچانے کے لیے اپنی ہی بیٹی، بہن یا بیوی کی لاش پر کھڑا ہو جاتا ہے؟

انسانیت کے نام پر ہزاروں پیغمبر آئے، اولیاء آئے، دانشور آئے، کتابیں لکھی گئیں، قانون بنے، عدالتیں قائم ہوئیں… مگر تمہارے اندر کا وحشی ابھی تک زندہ ہے۔ وہ درندہ ابھی تک عورت کو انسان ماننے پر تیار نہیں۔

اور شاید خدا کا شکر صرف اس بات پر کیا جا سکتا ہے کہ عورت کو بھی مرد جیسی “غیرت” نہیں دی گئی…
ورنہ اس زمین پر شاید ایک بھی مرد زندہ نہ بچتا۔

اپنا تبصرہ لکھیں