پاکستان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے، یونیورسٹیوں کے اشتہارات ہیں، ڈگریوں کی دوڑ ہے، مقابلے کے امتحانات ہیں، اور ہر گھر میں “کامیابی” کے خواب سجائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف یہی معاشرہ اخلاقی انتشار، فکری بانجھ پن، عدم برداشت، جھوٹ، نفرت اور ذہنی بے سکونی کا شکار بھی دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اگر تعلیم بڑھ رہی ہے تو معاشرہ بہتر کیوں نہیں ہو رہا؟ اگر نوجوان اتنے پڑھے لکھے ہیں تو سوچ اتنی کمزور کیوں ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو شعور سے الگ کر دیا ہے۔ ہم نے علم کو صرف نوکری، تنخواہ اور سماجی حیثیت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان بنانا تھا۔ آج پاکستانی معاشرے میں ڈگری کی قیمت تو ہے مگر دانائی کی نہیں، رٹے کی اہمیت تو ہے مگر سوال کرنے کی نہیں، کامیابی کا شور تو ہے مگر انسانیت کی آواز بہت مدھم ہو چکی ہے۔ہمارا المیہ یہ نہیں کہ لوگ پڑھ نہیں رہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ لوگ سمجھ نہیں رہے۔ یونیورسٹیوں سے ہزاروں گریجویٹ نکل رہے ہیں مگر معاشرے میں برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ چھوٹی سی اختلافی بات پر دشمن بن جاتے ہیں۔ مذہب، سیاست، زبان اور ذات کے نام پر نفرت پھیلانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم تو پہنچی۔۔۔ مگر شعور نہیں پہنچ سکا۔
پاکستان میں اکثر والدین کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر بن جائے۔۔۔ یہ خواہش غلط بھی نہیں، مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا رہ جائے۔ بچے کو شروع سے یہی بتایا جاتا ہے کہ اچھے نمبر لو تاکہ اچھی نوکری مل سکے۔ مگر کوئی یہ نہیں سکھاتا کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس کے اندر سچ بولنے کی ہمت کتنی ہے، وہ دوسروں کے درد کو سمجھتا بھی ہے یا نہیں، اس میں برداشت ہے یا نہیں۔اسی لیے آج ایک شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ٹریفک سگنل توڑ دیتا ہے، رشوت کو حق سمجھتا ہے، کمزور کو دبا دیتا ہے، عورت کی عزت نہیں کرتا اور جھوٹ پھیلانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا کیونکہ تعلیم نے اسے ہنرتو دیا، مگر شعور نہیں دیا۔ وہ پڑھ تو گیا مگر سمجھ نہ سکا کہ انسان ہونے کا مطلب کیا ہے۔
شعور دراصل وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر سوال پیدا کرتی ہے۔ شعور انسان کو ہجوم سے الگ سوچنے کی طاقت دیتا ہے۔ شعور یہ سکھاتا ہے کہ ہر مشہور بات سچ نہیں ہوتی، ہر روایت درست نہیں ہوتی اور ہر طاقتور شخص حق پر نہیں ہوتا۔ شعور انسان کے اندر خود احتسابی پیدا کرتا ہے۔ وہ انسان کو صرف جینا نہیں بلکہ صحیح طریقے سے جینا سکھاتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو سوچنے کے بجائے صرف یاد کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ اسکولوں میں سوال کرنے والے بچے کو اکثر بدتمیز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اختلاف رائے کو گستاخی بنا دیا جاتا ہے۔ امتحان میں اچھے نمبر لینے والا ذہین قرار پاتا ہے، چاہے اسے زندگی کی بنیادی حقیقتوں کا ادراک ہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں “کتابی کیڑے” تو بہت پیدا ہو رہے ہیں مگر باشعور انسان کم پیدا ہو رہے ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ گھروں میں مل بیٹھنے اور آپس میں مکالمے کا ختم ہو جانا ہے۔ پہلے گھروں میں بیٹھکیں ہوا کرتی تھیں، بات چیت ہوتی تھی، بچے بڑوں سے زندگی سیکھتے تھے۔ آج ہر شخص موبائل میں گم ہے۔ والدین بچوں کو مہنگے اسکولوں میں داخل کرا دیتے ہیں مگر ان کے ذہنی خوف، جذباتی مسائل اور اندرونی تنہائی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ بچوں کو ہر سہولت دی جا رہی ہے مگر وقت نہیں دیا جا رہا۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک بچہ تعلیمی لحاظ سے تو آگے نکل جاتا ہے مگر شخصیت کے اعتبار سے کمزور رہ جاتا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹا ہوا انسان بن جاتا ہے۔ اسی لیے آج نوجوانوں میں بے مقصدی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور نشے جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ فکری اور جذباتی خلا کا نتیجہ بھی ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ ماں صرف بچے کو بولنا نہیں سکھاتی بلکہ سوچنا بھی سکھاتی ہے۔ ایک باشعور ماں اپنے بچے کے ذہن میں سوال، اعتماد اور اخلاق پیدا کرتی ہے۔ لیکن اگر گھر کا ماحول ہی جھوٹ، منافقت، گالم گلوچ اور عورت کی بے توقیری سے بھرا ہو تو اسکول کی کتابیں کسی بچے کی شخصیت نہیں بدل سکتیں۔پاکستانی معاشرے میں ایک خطرناک تضاد یہ بھی ہے کہ ہم بچوں کو نصیحتیں تو بہت کرتے ہیں مگر مثال نہیں دیتے۔ والدین بچوں کو سچ بولنے کا کہتے ہیں مگر خود جھوٹ بولتے ہیں۔ قانون کی پابندی کا درس دیتے ہیں مگر خود سفارش اور رشوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم انہیں کہتے ہیں، بلکہ وہ بنتے ہیں جو ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
آج بھی پاکستان کے کئی علاقوں میں لڑکی کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ لڑکی نے آخرکار گھر ہی سنبھالنا ہے، اس لیے اسے زیادہ پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ صرف پسماندہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے خلاف ہے۔ایک باشعور عورت صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ آنے والی نسلوں کی سوچ بدل دیتی ہے۔ ماں ہی بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ اور باشعور ہوگی تو وہ اپنے بچوں میں اعتماد، سچائی اور انسانیت پیدا کرے گی۔ لیکن اگر عورت کو صرف خاموش رہنا سکھایا جائے، سوال نہ کرنا سکھایا جائے اور ظلم برداشت کرنا سکھایا جائے تو پھر معاشرہ کبھی آزاد ذہن پیدا نہیں کر سکتا۔ہمارے ہاں بیٹیوں کو اکثر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ کیسے بیٹھنا ہے، کیسے بولنا ہے اور معاشرے سے کیسے ڈرنا ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اپنے حق کے لیے کیسے کھڑا ہونا ہے یہی خاموشی بعد میں کئی سانحات کو جنم دیتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج کی نئی نسل کی سب سے بڑی استاد موبائل اسکرین بن چکی ہے۔ ٹک ٹاک، یوٹیوب اور فیس بک نے نوجوانوں کی سوچ، زبان اور رویے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو یہ نہیں سکھایا کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے کرنا ہے۔ تحقیق کیسے کرنی ہے، اختلاف کیسے برداشت کرنا ہے اور معلومات کو عقل کی کسوٹی پر کیسے پرکھنا ہے۔آج چند سیکنڈ کی ویڈیو کسی نوجوان کی پوری رائے بدل دیتی ہے۔ لوگ بغیر تحقیق کے نفرت پھیلانے لگتے ہیں۔ دلیل کے بجائے طنز، گالی اور تضحیک عام ہو چکی ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے معاشرے میں معلومات تو بہت ہیں مگر حکمت نہیں۔
باشعور معاشرہ صرف اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے پیدا نہیں ہوتا۔ باشعور معاشرہ گھروں، کتابوں، مکالموں، لائبریریوں، ادب، سوال اور تربیت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک ہم بچوں کو صرف کامیاب بنانے کے بجائے انسان بنانا نہیں سکھائیں گے، تب تک معاشرہ ترقی کے باوجود اندر سے کھوکھلا رہے گا۔ سچ بولنا کمزوری نہیں، طاقت ہے۔ عورت کی عزت صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی بنیاد ہے۔ مذہب نفرت نہیں بلکہ انسان دوستی کا سبق دیتا ہے۔ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شعور کے بغیر تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔
پاکستان کو صرف ڈگریاں نہیں چاہییں، پاکستان کو باشعور انسان چاہییں۔ ایسے لوگ جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ معاشرے کے لیے سوچ سکیں۔ ایسے نوجوان جو سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ ایسے والدین جو بچوں کو سن سکیں۔ ایسی مائیں جو نسلوں کے ذہن روشن کر سکیں اور ایسا تعلیمی نظام جو انسان کو صرف نوکری کے قابل نہیں بلکہ زندگی کے قابل بھی بنائےکیونکہ آخرکار تعلیم انسان کو لفظ پڑھنا سکھاتی ہے، مگر شعور انسان کو زمانہ پڑھنا سکھاتا ہے۔


