1980 کی دہائی سے لوڈ شیڈنگ شروع ہوئی مگر ریاستی اداروں نے اس مسئلہ کا دائمی حل تلاش کرنے کے بجائے جنریٹر مافیا کی حوصلہ افزائی شروع کردی۔کیونکہ اس میں اپنے ذاتی فوائد اور مفادات شامل تھے -جنرل ضیا الحق منافق اعظم کے دورحکومت کے 11 سالہ مطلق العنانحکومت جس کو کس قسم کی روک ٹوک نہیں تھی ۔ افغان جنگ کی وجہ سے ڈالروں کی برسات ہورہی تھی لیکن 1 بھی بجلی کا کوہی بڑا منصوبہ نہیں بنا الٹا پاکستان کو لوڈ شیڈنگ کی اصلاح سے روشناس کرایا
1977 سے لے کر اگست 1988 تک کے بجلی کی پیداوار کا جائزہ لیتے ہیں
1977 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 2635 میگاواٹ جس میں سے 1567 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1068 میگاواٹ
1978 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 2635 میگاواٹ جس میں سے 1567 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1068 میگاواٹ
1979 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 2685 میگاواٹ جس میں سے 1567 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1118 میگاواٹ
1980 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 2685 میگاواٹ جس میں سے 1567 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1118 میگاواٹ
1981 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 3254 میگاواٹ جس میں سے 1847 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1407 میگاواٹ
1982 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 3254 میگاواٹ جس میں سے 1847 میگاواٹ ہائیڈرل اور تھرمل 1407 میگاواٹ
1983 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 3954 میگاواٹ جس میں سے 2547 میگاواٹ ہائیڈرل اور 1407 تھرمل میگاواٹ
1984 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 3954 میگاواٹ جس میں سے 2547 میگاواٹ ہائیڈرل اور 1407 تھرمل میگاواٹ
1985 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 4339 میگاواٹ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 1442 تھرمل میگاواٹ
1986 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 4949 میگاواٹ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 2052 تھرمل میگاواٹ
1987 میں بجلی کی ٹوٹل پیداوار 5349 میگاواٹ جس میں سے 2897 میگاواٹ ہائیڈرل اور 2452 تھرمل میگاواٹ
جنرل ضیا الحق نے 11 سالوں میں صرف 2714 میگاواٹ کا ٹوٹل اضافہ کیا۔اوسط” سال میں 246 میگاواٹ کا اضافہ
اس کے مقابلے میں بھٹو کے 1977-1972 5 سالہ دور جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو چکا تھا۔ملکی معیشت کا برا حال تھا ۔ بھٹو کو کو پاکستان تباہ حال حالت میں ملا تھا ، امریکہ سے ڈالر ھی نہیں مل رہے تھے ۔ بھٹو کی حکومت نے 5 سال میں 1317 میگاواٹ بجلی کی پیداوار سے 2635 میگاواٹ بجلی کی پیداوار تک اضافہ کیا 1318 میگاواٹ کا اضافہ 5 سالوں میں اوسط” فی سال 264 میگاواٹ اضافہ جو ضیاالحق کی افغان جنگ کے کے ثمرات اور ڈالروں کی بارش کے باوجود 21 میگاواٹ فی سال زیادہ اضافہ تھا۔
SOURCE: PBS.;GOV.PK WATER AND POWER


