دنیا کی سیاست جب اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو سفارت کاری، تلوار کی دھار سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ توپیں خاموش رہتی ہیں مگر معاہدے بارود سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ نے بارہا دیکھا کہ سلطنتیں جنگ کے میدان میں کم اور بند کمروں میں زیادہ شکست کھاتی ہیں۔ بیجنگ میں اس وقت جو منظر برپا ہے، وہ محض ایک سفارتی ملاقات نہیں؛ یہ سرمایہ دارانہ دنیا کے تاجروں کی وہ مجلس ہے جہاں انسان نہیں، مفادات بولتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ساتھ سترہ امریکی سی ای اوز لے کر چین پہنچا ہے۔ یہ خبر نہیں، عصرِ حاضر کے سیاسی مزاج کی سب سے بڑی تفسیر ہے۔ کبھی بادشاہ اپنے ساتھ جرنیل لے کر نکلتے تھے، اب کارپوریٹ سلطنتوں کے شہنشاہ ساتھ چلتے ہیں۔ کبھی سفیر ریاستوں کی نمائندگی کرتے تھے، اب کمپنیوں کے سربراہ قوموں کی تقدیر کا سودا کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور وال اسٹریٹ کے درمیان جو خفیہ راہداری ہے، اس کے قدموں کی چاپ آج بیجنگ کی سنگ مرمر کی راہداریوں میں سنائی دے رہی ہے۔
سوچیے! امریکی صدر کے ہمراہ ٹم کک موجود ہے، جس کی انگلیوں کے اشارے پر دنیا کے کروڑوں انسان اپنی جیبوں میں پوری کائنات اٹھائے پھرتے ہیں۔ ایلون مسک ساتھ ہے، جو زمین کے بعد آسمانوں کی منڈی سجانے نکلا ہے۔ لَیری فنک موجود ہے، جس کے سرمائے کی پرچھائیاں براعظموں پر پڑتی ہیں۔ جیمی ڈائمن ہے، جس کے بینک کے دروازوں سے عالمی معیشت کی سانسیں وابستہ ہیں۔ گویا یہ کوئی سفارتی وفد نہیں، سرمایہ داری کی صلیبی فوج ہے، جو معاہدوں کے نیزے اور منڈیوں کی ڈھال لے کر بیجنگ کے دربار میں داخل ہوئی ہے۔
دنیا کی ہر بڑی طاقت جانتی ہے کہ آج کی جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں جیتی جاتیں۔ اب جنگ کا میدان معیشت ہے، ڈیٹا ہے، ٹیکنالوجی ہے، مصنوعی ذہانت ہے، عالمی سرمایہ ہے۔ چین نے برسوں محنت کرکے دنیا کی فیکٹری بننے کا خواب دیکھا، مگر معیشت کے افق پر اب سست روی کے بادل ہیں۔ بیجنگ جانتا ہے کہ امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مالیاتی اعتماد کے بغیر عالمی منڈی میں دوبارہ وہی رفتار حاصل کرنا آسان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کی اصل میز پر چائے کے کپ نہیں، پوری دنیا کا مستقبل رکھا ہوا ہے۔
مگر سیاست ہمیشہ دو سطحوں پر چلتی ہے: ایک وہ جو عوام دیکھتے ہیں، دوسری وہ جو تاریخ بعد میں دریافت کرتی ہے۔
عوام کے لیے تصویریں ہیں، مسکراہٹیں ہیں، ہاتھ ملانے کے مناظر ہیں۔ لیکن پسِ پردہ سوال صرف یہ ہے: کیا چین ایران سے فاصلہ اختیار کرے گا؟
مشرقِ وسطیٰ اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے۔ ایران صرف ایک ملک نہیں، ایک مزاحمتی محور ہے، جس کی رگوں میں روسی سفارت اور چینی مفادات کا خون گردش کرتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ اگر تہران کو بیجنگ اور ماسکو کی اطلاعاتی اور تزویراتی پشت پناہی حاصل رہے تو خطے میں طاقت کا توازن کبھی مکمل طور پر واشنگٹن کے حق میں نہیں ہو سکتا۔
یہی سبب ہے کہ ٹرمپ توپ کے دہانے سے نہیں، تجارت کے دروازے سے چین کے دل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جہاں پابندیاں ناکام ہو جائیں، وہاں سرمایہ کاری کامیاب ہو جاتی ہے۔ جہاں دھمکی بے اثر ہو جائے، وہاں مارکیٹ اپنی جادوگری دکھاتی ہے۔
چین بھی سادہ کھلاڑی نہیں۔ بیجنگ جانتا ہے کہ امریکہ کی ہر پیشکش کے پیچھے ایک اسٹریٹجک مطالبہ چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ قیمت مانگے گا۔ شاید ٹیرف میں نرمی، شاید ٹیکنالوجی تک زیادہ رسائی، شاید تائیوان کے مسئلے پر خاموش اشارے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک خاموشی پورے معاہدے سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔
اور اسی دوران سرگئی لاوروف کا بیجنگ میں موجود ہونا اس منظرنامے کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ روس اس کھیل میں خاموش تماشائی نہیں۔ ماسکو جانتا ہے کہ اگر چین اور امریکہ کے درمیان کوئی نیا توازن قائم ہوا تو اس کے اثرات یوکرین سے خلیج فارس تک محسوس کیے جائیں گے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا ایک نئے یالٹا کی طرف بڑھ رہی ہو، جہاں نقشے دوبارہ کھینچے جائیں گے، اتحاد نئے سرے سے تشکیل پائیں گے، اور کمزور قوموں کی قسمتیں پھر بڑی طاقتوں کی میز پر رکھی جائیں گی۔
یہ سرمایہ داری کا وہ عہد ہے جہاں جنگیں بندوق سے پہلے بورڈ روم میں لڑی جاتی ہیں۔ جہاں سی ای اوز سفیروں سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک کمپنی کا شیئر گرنے سے بعض ملکوں کی معیشتیں لرز جاتی ہیں۔ اور جہاں انسانیت کا مقدر اب نظریات نہیں، منافع طے کرتا ہے۔
جمہوریت کے لبادے میں ملبوس یہ سرمایہ دارانہ سلطنتیں انسان کو آزادی نہیں دیتیں، صرف انتخاب کا فریب دیتی ہیں۔ آج دنیا کے ایوانوں میں قوموں کے نمائندے نہیں، منڈیوں کے دلال بیٹھے ہیں۔
بیجنگ کی اس ملاقات کو محض ایک سفارتی دورہ سمجھنا سیاسی سادہ لوحی ہوگی۔ یہ آنے والے عالمی توازن کی تمہید ہے۔ یہاں صرف معاہدے نہیں ہو رہے، یہاں آنے والی صدی کے طاقت کے مراکز متعین کیے جا رہے ہیں۔


