عابد رفیق معاصر اردو ادب کا ایک ابھرتا ہوا اور توجہ طلب نام ہیں، جنہوں نے بالخصوص افسانہ نگاری میں نہایت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ اُن کے افسانوں میں جدید اردو افسانے کے وہ تمام فکری اور فنی رجحانات نمایاں طور پر موجود ہیں جو عہدِ حاضر کے ادب کی شناخت سمجھے جاتے ہیں۔ عابد رفیق انسانی وجود کے داخلی کرب، سماجی انتشار، شناخت کے بحران، تنہائی، بدلتی ہوئی تہذیبی اقدار اور جدید انسان کی نفسیاتی الجھنوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں عصری شعور، علامتی و استعاراتی اسلوب، تہذیبی شکست و ریخت اور معاشرتی بے معنویت کا احساس گہری فکری سطح پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اُن کے افسانے محض کہانی نہیں رہتے بلکہ جدید انسان کے وجودی اور سماجی مسائل کی فنی تعبیر بن جاتے ہیں۔
اُن کا افسانہ ”بستی “محض ایک بستی کے اجڑنے کی داستان نہیں بلکہ یہ جدید سماجی، معاشی اور تہذیبی تغیرات کے نتیجے میں انسان کے وجودی بحران، طبقاتی استحصال اور تہذیبی بے دخلی کا گہرا نوحہ ہے۔ افسانہ اپنے باطن میں اس کربناک حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ترقی، جدیدیت اور شہری توسیع کے نام پر کس طرح صدیوں سے آباد انسانوں، ان کی یادوں، ثقافت، رشتوں اور شناخت کو مٹا دیا جاتا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار فقیر علی دراصل اس پورے محکوم طبقے کی علامت ہے جو زمین کا مالک نہ ہونے کے باوجود اس زمین سے روحانی، تہذیبی اور معاشی سطح پر جڑا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی بستی کے لوگوں، ان کی خوشیوں، میلوں، شادیوں اور روزمرہ کے تعلقات سے وابستہ ہے۔ جب بستی ختم ہوتی ہے تو دراصل صرف مکان نہیں اجڑتے بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک طرزِ احساس اور ایک سماجی دنیا فنا ہو جاتی ہے۔افسانے میں سرمایہ دارانہ نظام اور جدید کالونیل ذہنیت پر نہایت گہرا طنز موجود ہے۔ بستی کو خالی کرا کے ”بڑی کالونی“تعمیر کرنے کا عمل دراصل اس سرمایہ دارانہ ترقی کی علامت ہے جو انسان کے بجائے زمین کی قیمت کو اہم سمجھتی ہے۔ یہاں ترقی انسانوں کی فلاح نہیں بلکہ طاقت ور طبقے کی آسائش کا نام بن جاتی ہے۔ شیر علی جیسے کردار اس استحصالی نظام کے مقامی نمائندے ہیں جو اپنے ہی لوگوں کو خوف اور لالچ کے ذریعے بے دخل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
فقیر علی کی شخصیت افسانے کا سب سے اہم فکری استعارہ ہے۔ وہ محض ایک نائی نہیں بلکہ پرانی دیہی تہذیب، سادگی، تعلق داری اور مشترکہ سماجی زندگی کی علامت ہے۔ اس کی پریشانی صرف رہائش کھونے کی نہیں بلکہ اپنے سماجی وجود کے مٹ جانے کی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شہر میں اس کے فن، اس کی شناخت اور اس کے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ یہی احساس جدید عہد کے انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ ترقی کی دوڑ میں اپنی جڑوں، شناخت اور انسانی رشتوں سے کٹتا جا رہا ہے۔ افسانہ اس پہلو سے وجودی فکر سے بھی جڑ جاتا ہے جہاں انسان اپنی اصل جگہ، شناخت اور تعلق کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔
”فقیر علی اپنی جوتیوں کو بغل میں دبائے خاموش چلے جارہا تھا کہ اب وہ اپنی بستی کی تلاش میں مزید اس دوسری دنیا کے لوگوں میں رہنے کا متمنی نہ تھا۔وہ جن کھلی فضاؤں میں رہے کر اس مٹی میں زندگی گزار چکا تو اب یہ زمین اونچی عمارتوں اور بڑے بنگلوں کا گلستاں تھی،جس میں اس کا وجود کانٹے کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔“
افسانے میں دیہی اور شہری تہذیب کا تقابل بھی نہایت معنی خیز انداز میں سامنے آیا ہے۔ بستی کی دنیا اگرچہ غریب ہے مگر وہاں انسانی تعلق، دکھ سکھ کی شراکت، مذہبی سادگی اور ایک فطری زندگی موجود ہے۔ اس کے برعکس جدید سوسائٹی کی دنیا آسائشوں، بڑی عمارتوں اور مہنگی گاڑیوں کے باوجود روحانی و اخلاقی خلا کا شکار ہے۔ مسجد کا منظر اس تضاد کو انتہائی شدت سے نمایاں کرتا ہے۔ فقیر علی کے لیے مسجد عبادت اور روحانی سکون کی جگہ ہے جبکہ نئی دنیا میں وہی مسجد طبقاتی تفاخر، دکھاوے اور طاقت کی علامت بن چکی ہے۔ افسانہ یہاں مذہب کے طبقاتی استعمال پر نہایت گہرا طنز کرتا ہے کہ خدا کے گھر میں بھی انسانوں کی حیثیت ان کے لباس، گاڑی اور مرتبے سے طے ہونے لگی ہے۔
”جامع مسجد کی حدود سے باہر مہنگی کاروں کی قطاریں تھیں اور دوسری دنیا کے لوگ خدا کے حضور سجدہ کرنے کے لیے جارہے تھے ۔ فقیر علی کی جھکی کمر ، میلا لباس اور مٹی سے بھرے پاؤں جن میں چل چل کر مٹی کی تہہ جم گئی تھی وہ مجاور کی حیثیت سے آگے بڑھتا جا رہا تھا اور بڑبڑانے لگا ” نجانے یہ لوگ اللہ میاں کو اپنی اپنی چَنگی کاروں سے متاثر کرنے آئے ہیں یا پھر یہ بتانے کہ کون بڑا خدا ہے۔شاید اس دربار میں بھی حیثیت کے مطابق ملتا ہوگا“
افسانے کا اختتام نہایت المناک مگر علامتی ہے۔ فقیر علی کا ایک تیز رفتار گاڑی کے نیچے آ کر مر جانا دراصل اس پورے استحصالی نظام کی علامت ہے جہاں ترقی کی رفتار غریب انسان کو روندتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ اس کی موت پر کسی کو افسوس نہیں، بلکہ مسئلہ صرف ٹریفک کے رکنے کا ہے۔ یہ منظر جدید شہری زندگی کی بے حسی، خود غرضی اور انسان دشمنی کو انتہائی شدت سے آشکار کرتا ہے۔ فقیر علی کی لاش کو ”فٹ پاتھ پر کر دو“ کہنا دراصل اس پورے طبقے کو سماج کے حاشیے پر دھکیل دینے کا استعارہ ہے۔
فنی اعتبار سے بھی افسانہ نہایت مضبوط ہے۔ مقامی زبان، دیہی محاورات، کرداروں کی فطری گفتگو اور منظر نگاری افسانے کو حقیقت سے قریب تر کر دیتی ہے۔ عابد رفیق نے علامت، استعارے اور تہذیبی شعور کو اس مہارت سے برتا ہے کہ افسانہ محض ایک فرد یا بستی کی کہانی نہیں رہتا بلکہ پورے عہد کا نوحہ بن جاتا ہے۔”بستی“ جدید اردو افسانے کی اس روایت سے جڑتا ہے جہاں ترقی، شہری زندگی، طبقاتی تقسیم، شناخت کے بحران اور تہذیبی انہدام جیسے موضوعات مرکزی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ افسانہ اپنے فکری اور سماجی تناظر میں عصرِ حاضر کے انسان کے کرب کی ایک مؤثر اور معنی خیز تعبیر بن کر سامنے آتا ہے۔


