بے چینی/علی عبداللہ

بدھ مت کی قدیم تعلیمات میں دنیا کو دُکھ کہا گیا ہے۔ لیکن یہ دکھ صرف آنسوؤں کا نام نہیں ہے۔ یہ اس بےچینی کا نام ہے جو انسان کو ہر چیز مل جانے کے بعد بھی رہتی ہے۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ زندگی کسی قدیم دیوار پر لگی گھڑی ہے؛ چلتی رہتی ہے، مگر اس کی ٹک ٹک میں کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ وقت گزرتا رہتا ہے، دن بدلتے رہتے ہیں، موسم آتے جاتے رہتے ہیں، مگر انسان کے اندر کہیں ایک ہی موسم جما رہتا ہے؛ اداسی کا موسم-

مجھے ایسے لوگ ہمیشہ عجیب لگے ہیں جو ہر وقت خوش رہتے ہیں۔ شاید وہ اپنے اندر اترنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ جو شخص کبھی خاموشی میں اپنے آپ کے ساتھ بیٹھا ہو، وہ جانتا ہے کہ انسان کے اندر ایک بہت بڑا سنّاٹا آباد ہوتا ہے۔ ایک ایسا سنّاٹا جو رات کے آخری پہر اچانک جاگ اٹھتا ہے اور پھر دل کے دروازوں پر آہستہ آہستہ دستک دینے لگتا ہے-

بعض شامیں بےحد بوجھل ہوتی ہیں۔ نہ کوئی حادثہ ہوا ہوتا ہے، نہ کوئی خواب ٹوٹا ہوتا ہے، نہ کسی اپنے نے دل دکھایا ہوتا ہے… پھر بھی دل پر جیسے گرد سی جم جاتی ہے۔ آدمی چپ چاپ کھڑا سورج غروب ہوتے دیکھتا رہتا ہے اور سوچتا ہے کہ آخر کمی کہاں ہے؟ مگر زندگی کبھی اپنی کمی نہیں بتاتی۔ وہ صرف انسان کو تھکا دیتی ہے۔

پہلے پہل انسان سمجھتا ہے کہ شاید اسے محبت چاہیے۔ پھر لگتا ہے شاید کامیابی۔ پھر محسوس ہوتا ہے کہ شاید سکون کہیں دور کے کسی شہر میں رہتا ہے، جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں اور لوگ کم بولتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے؛ وہ یہ کہ انسان اکثر کسی چیز کی کمی میں اداس نہیں ہوتا، بلکہ ایک ہی طرح سے جیتے رہنے سے تھک جاتا ہے۔ زندگی کی سب سے بڑی بوریت شاید یہی ہے کہ کل بھی سورج وہی تھا، آج بھی وہی ہے، اور ممکن ہے کل بھی ویسا ہی نکلے۔

ہم ہر روز چھوٹی چھوٹی عادتوں کے قیدی بنتے چلے جاتے ہیں۔ ایک ہی راستے، ایک ہی جملے، ایک ہی لوگ، ایک سے ہی تاثرات۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی انسان اپنی ہنسی بھی پہچان نہیں پاتا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ واقعی ہنس نہیں رہا، صرف برسوں پرانی ایک عادت دہرا رہا ہے۔ رات کو جب شہر سو جاتا ہے تو کچھ لوگ جاگتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے اندر سوال زندہ ہوتے ہیں۔ وہ چھت کو گھورتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ آخر انسان اتنی دوڑ کے بعد بھی خالی کیوں رہ جاتا ہے؟ شاید اس لیے کہ روح کو صرف مصروفیت نہیں چاہیے ہوتی، معنی بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ اور معنی…وہ ہر کسی کو نہیں ملتے۔

کچھ لوگ پوری زندگی شور میں گزار دیتے ہیں تاکہ اپنے اندر کی خاموشی سن نہ سکیں۔ کیونکہ اندر کی خاموشی بہت بےرحم ہوتی ہے۔ وہ انسان کو اس کی اصل شکل دکھا دیتی ہے؛ ایک ایسا وجود جو اکثر مضبوط نظر آنے کے باوجود اندر سے بےحد تھکا ہوا ہوتا ہے۔

مجھے لگتا ہے انسان اصل میں دکھ سے نہیں ٹوٹتا۔ وہ آہستہ آہستہ ایک جیسی صبحوں سے ٹوٹتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی شاید خوشی یا غم کا نام نہیں ہے- یہ صرف انتظار کا دوسرا نام ہے۔۔۔کسی ایسے لمحے کا انتظار جو انسان کے اندر کے سنّاٹے کو توڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو-

اپنا تبصرہ لکھیں