سکونِ صبح کی سرزمین ایک تنقیدی جائزہ /یوحناجان

سفر نامہ مختلف تہذیبوں، رسم و رواج، سماجی ڈھانچوں اور ثقافتی رنگوں کی زندہ تصویر پیش کرتا ہے۔ جو دوسری اقوام کو سمجھنے، ان کے طرزِ زندگی سے آگاہی حاصل کرنے اور تعصبات کو توڑنے کا بہترین ذریعہ ہے کیوں زندگی ایک تغیر کا نام ہے۔ جب کوئی قلم نگار کسی ملک یا شہر کا احوال لکھتا ہے تو وہ صرف عمارات اور سڑکوں کاروپ، رنگ اور ڈھانچہ نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے رویوں، اقدار، مسائل اور خوشیوں کا بھی ذکر کرتا ہے یہاں تک تاریخ کے اوراق میں اس قوم و ملک کے نقش و نگار بھی جو خطہ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح یہ سماجی شعور کو بیدار کرتا اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کافریضہ ادا کرتا ہے۔ بہت سے واقعات اور حالات جو عام تاریخی کتابوں میں نہیں ملتے، وہی اس میں سیاسی، معاشی، مذہبی اور سماجی تبدیلیوں کی جھلک میں ملتے ہیں۔ جغرافیہ، تاریخ، ثقافت، فن تعمیر، کھانے پینے کے انداز، قدرتی مناظر سب کچھ ایک جگہ پر مل جاتا ہے۔ یہ ذہنی تناؤ کم کرنے، خود اعتمادی بڑھانے اور نئی سوچ پیدا کرنے کا فن اُجاگر بھی کرتا ہے۔ زیر موضوع کتاب”سکونِ صبح کی سرزمین”از قلم زید۔اے قریشی صاحب کے اکادمی ادیبات اسلام آباد جنوری 2026 ء کو ملی۔ جو ان کے جنوبی کوریا کاسفر مع جاپان کا ہے۔ جب وہ سرکاری ادارے کے۔بی۔ایس براڈ کاسٹرز ورکشاپ کرنے جنوبی کوریا کے دالحکوت ” سول” جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر مختلف ممالک کے افراد بھی شامل ہیں۔ جہاں نئی تہذیب کی جھلک اور سماج نئے رنگ میں ایک نیا فن سیکھنے کا موقع دے رہا۔ جدید ٹیکنالوجی موازانہِ نظریات اور اس جیسے کئی پہلوں پر روشنی سفرنامہ فراہم کرتاہے۔

تجربہ، مشاہدہ، تجزیہ، تحقیق اور تنقید سب کے سب ہمہ وقت اپنی جھلک دکھاتے ملتے ہیں۔ قلم کار تو خود سفرکرتاہی ہے مگر قاری کے لیے بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قلم کار قاری کو اپنے ساتھ لیے مندرجہ بالا نکات سے آشنا اور واقف کرواتا ہے۔ یہی کچھ مجھے بھی پڑھنے کے دوران ہوا۔ پڑھتے وقت جاندار اور متحرک منظر نگاری جو وہاں کے لوگوں کے بول چال، مذہب، رنگ، عقیدہ، لہجہ، مہمان نوازی اور اخلاقیات کو نمودار کرتا ہے۔ اس سفر نامہ میں نظر کری تو موصوف کا قلم”سول” شہر کے سب وے کی بابت بیان ہے:
” یہاں کا زیر زمین ٹرین سسٹم”سب وے” کہلاتا ہے اور اس کی چارلائنیں ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ چوں کہ سول جدید ترین شہر ہے اس لیے ممکن ہے کہ”سب وے” پہلے بچھائی گئی ہو اور اس قدر اونچی اونچی عمارتیں بعد میں تعمیر کی گئی ہوں۔ دریافت کرنے پر پتا چلا کہ شہر پہلے آباد ہوا اور سب وے بعد میں۔”
یہاں تاریخی اعتبار سے وہاں کے لوگوں کی نظریاتی قابلیت اور فن کو عیاں کرتے پائے۔ نیز اخلاقیات اور گفت گو کے پہلو کو بھی واضح کیا۔ وہ لکھت ہیں۔
“کلاسز کے بعد چیف کوآرڈینیٹر”مسز ہانگ ینگ جا” سے ایک پاکستانی ریستوران”مغل ریسٹورنٹ” تک جانے کی درخواست کی۔ جو انھوں نے بخوشی قبول کرلی۔ مسز “ہانگ”ایک بارہ سالہ بچے کی ماں ہیں۔ اُن کے شوہر کا چھ سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ نیک دل اور پُر کشش خاتون تھیں۔ ڈرائیونگ بے حد اچھی کرتی ہیں۔”
یہاں خاتون کے کردار پورے معاشرے اور بطور ماں اپنے خاندان کی عکاسی مثبت اسلوب میں عیاں کر رہی ہے ساتھ ہی عورت کی فنکارانہ صلاحیت اورفرض شناسی بھی۔ مزید مہمان نوازی کا انداز بھی خوب ملتا ہے۔ جب موصوف آخری ایام دعوت نامہ ملنے پر ریستوران پر جاتے ہیں۔
“مسٹر بیگ نے بڑی محبت سے ہر چیز کو ٹیسٹ کروایا اور بہت دیر تک باتیں کیں۔ میرے اصرار کے باوجود انھوں نے کھانے کا بل لینے سے انکار کردیا۔ بعد میں انھوں نے اپنے ماڈرن کچن اور ریستوران کے دوسرے حصوں کی سیر کرائی۔ ”
مندرجہ بالا تاثرات گراں قدر وہاں کی اخلاقیات، انداز بیان، کلچر اور مہمان نوازی کی بھر پور نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہاں کی تہذیب، ثقافت اور رسم و رواج جو مقامی لوگوں کی زندگی، روایات، لباس، کھانے پینے کے انداز، سماجی رویے اور ثقافتی رنگ خوب ملتے ہیں۔ جیسا کہ نائٹ کلب کا منظر بیان کرتے وقت:
“تیز موسیقی پر وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر ماہر رقاص نظر آتے مگر موسیقی ہلکی ہونے پر ایک دوسرے کی کمر میں بازو حمائل کرکے دنیا و مافہیا سے بے خبر ہو جاتے۔ ہمارے قریب پڑی میز پر تین لڑکیاں مے نوشی اور سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھیں۔”
دوسرا جگہ شادی کا منظر کوریائی ہاوس میں:
“کھانے میں سے کچھ شے دلہا اور دلہن کے سامنے رکھی گئی اور چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں ایک خاص شراب اُنڈیلی گئی۔ دلہا کی طرف کی لڑکیوں نے دلہا کو چسکی سے پلائی، پھر نکاح خواں نے کچھ پڑھا اور دلہا دلہن کو میز کے گرد ایک مکمل چکر لگوا کر اکٹھے کر دیا گیا۔”
مزید وہاں کے تعلیمی نظام کی بابت بتاتے ہیں جو فرد کی اکائی سے معاشرے و قوم کی بنیاد بنتا ہے:
“کوریا میں پرائمری میں بچہ چھ سال، جونیئر اسکول میں تین سال، ہائی اسکول میں مزید تین سال، جونئیر کالج میں دو سال اور یونی ورسٹی میں چار سال لگتے ہیں۔”
یہاں کا نظامِ تعلیم اور ہمارا فرق یوں ہوا جو مصنف نے اپنے تجربہ اور وہاں رہ کر مطالعہ کیا۔ مصنف اپنے کورس کے دوران صرف ایک ہی کام نہیں کرتے پائے بلکہ ان کا تحقیق و تجزیاتی مطالعہ گردونواح کے نکات کو بالترتیب لڑی میں پرونے کا کام بھی کر رہا۔ یہی تکنیک کا غلبہ، اسلوب نگارش کا سکہ اور فرض شناسی کا غلبہ اپنی مثال آپ ملتا ہے۔
مذہبی عقائد پر روشنی ڈالتے ہوئے موصوف فرماتے ہیں:
“شیلا دور میں کنفیوشس سے متاثرہ سیاسی ادارے قائم کیے۔ کنفیوشس ایک چینی مذہب ہے جس میں اخلاقی نظریات مثلاً تقویٰ عدل اور وفاداری یا نمک حلالی پر زور دیا جاتا ہے۔”
اسی مد میں کوریا مسلم فیڈریشن کی بنیاد 1960ء کی دہائی میں ہوئی جب چالیس ممالک کے تعاون سے واحد مسجد تعمیر ہوئی۔ نیز کوریا کی
تاریخی اور جغرافیائی معلومات جدید سائنسی ٹیکنالوجی کا وہ بتاتے ہیں:
“اس خوشگوار سفر میں ہمیں پتا نہیں چلا کہ کب دنیا کی بہت بڑی الیکٹرونکس کی فیکٹری “سام سنگ” پہنچ گئے۔ یہ دنیا کی واحد فیکٹری ہے جہاں اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر تین سکینڈ بعد ایک کلر ٹی۔وی سیٹ تیار ہوتا ہے۔”
یہ وہاں کی جدید طرزِ اصطلاحات اور فن ہے جو پوری دنیا میں اپنا آپ منوا چکا کہ قوم ترقی کیسے کرتی ہے۔ وقت اور اہمیت ساتھ ساتھ۔ جہاں پر دیگر پہلووں کو رونما کیا جاتا ہے وہیں مصنف اپنے قلبی واردات اور ذاتی تاثرات کو بیان نہ کرے یہ ممکن نہیں۔ یہ تاثرات رومانیت( عورت اور فطرت) دونوں کی بابت ہیں۔
“رات کو سول کے بازارِ حسن جانے کی دعوت ملی۔ میں بازارِ حسن میں داخل ہوا تو دونوں جانب حسینائیں اپنے دامِ فریب میں گرفتار کرنے کے لیے حُسن و ادائیں دکھا رہی تھیں۔ میں دونوں جانب و مشاہدہ کرتے ہوئے آگے بڑھا اور ایک مقام پر دو لڑکیوں کو جاذبِ نگاہ پایا۔ میں نے رُک کر باتیں شروع کیں تو ان میں سے ایک لڑکی نے میری کمر میں بانہیں حمائل کر دیں۔”
دوسری جگہ اسی طرح کا منظر جب وہ اپنے ہوٹل واپس آتے ہیں:
“میں نے اس لڑکی کو کافی پینے کی دعوت دی جو اس نے بخوشی قبول کر لی۔ ہوٹل پہنچ کر میں نے اس لڑکی کو لفٹ کی طرف جانے کا کہا۔”
انسان رومانیت کا عکس کسی نہ کسی طرح اپنے انداز میں خوب پاتا ہے بلکہ بکثرت حاصل کرتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی جگہ اور علاقہ میں ہو۔ رومانیت انسان کے اشاروں، کنایوں، چلن اور لفظوں میں بکھر کر اپنا اسلوب بیان کرتی ہے جو احساس اور جذبات کی نمائندہ ہے۔ مصنف نے دیار غیر اور دیارِ رومان دونوں کوادا کیا۔ یہاں بات نوٹ کرنے والی یہ کافی ہو گی کہ موصوف کا تجربہ بولتا ہے۔
معلوماتی خزانہ بھی موجود نئے نئے الفاظ اور معانی کو اُس زبان اور کلچر کی داستان ہوتے ہیں جوضروری تحریر کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ یہ قاری کے لیے علمی و ادبی وضاحت کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
” پگوڈا مشرق بعید میں بُدھ مذہب کے پیروکاروں کی عبادت گاہ یعنی معبد کو کہا جاتاہے۔جو اہرام مصری یا مینار کی شکل کا ہوتا ہے۔”
” شروع شروع میں شیلا کے لوگوں نے بدھ مت کی مزاحمت کی مگر شاہ پوہنگ کے دور حکومت یعنی چھٹی صدی عیسوی میں یہ مذہب خوب پروان چڑھا۔ اس بادشاہ کے نام کا مطلب تھا قانونِ بُدھ مت کا فروغ۔”
” تاو مذہب خدا پر اعتقاد نہ رکھنے کا چینی مذہب ہے۔جس کی تعلیم سادگی اختیار کرنا اور تاو کی شریعت پر عمل کرنا ہے۔”
جہاں معلوماتی کی بات ہے وہیں ایمان اور مذہبی ہم آہنگی بھی خوب ملتی ہے جب پردیسی ملک میں ایک خدا، عقیدہ، رسول اور کتاب کو ماننے والے ملیں تو ایک منظر منفرد ہوتا ہے۔ گپ بھی خوب ہوتی ہے اور شپ بھی۔ کوریا کے قیام کے دوران رمضان، افطاری، مدینہ منورہ کی کھجوریں، ہم ایمان دوست اور روزہ داری ایک فہرست میں یکجا کر دیتے ہیں۔ قابل ذکر افراد میں اُردن سے مسٹر عیسیٰ، جدہ سے مسٹر بکر سوڈان سے مسٹر محمد الحسن السید اور مصنف خود۔ جو سحری اور افطاری میں ایک نظر آئے۔ ایسے ماحول میں جہاں سرعام دوشیزہ آفر کر رہی ہوں وہاں ثابت قدمی اور ایمان کی آزمائش زیادہ پائی گئی مگر سب اپنے اس معاملہ میں ایک ملے۔ دلچسپی، اختصار اور صداقتِ بیان، انداز شگفتہ، سادہ اور دلچسپ ہونا چاہیے۔
ان نکات کی روشنی میں مصنف نے تمام چشم دید عناصر کو نہ صرف دیکھا، بیان کیا بلکہ ثابت بھی کیا۔ جہاں (صداقت) لازمی ہے وہ کی تاکہ قاری بوقت استفاد حاصل کرئے اور قلم کار کے ساتھ وہ تمام تجربوں اور تجزیوں کو تہ دل تک جانے، جس کا مقصد تحریر کا ہوتا ہے۔
سفر نامہ بخثیت خارجیت (خارجی دنیا) اور داخلیت (اندرونی احساسات) کا خوبصورت توازن قائم کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ قاری میں نئی جگہوں کے بارے میں تجسس پیدا کرنا اور اسے مجازی طور پر سفر کروا دینا بھی ہے۔جو یہ پوری آب و تاب سے ثابت کر رہا ہے۔ اگرچہ مصنف کا شعبہ بھی خبر رسانی کا ہے۔ انھوں جہاں جدید ٹیکنالوجی اور اصطلاحات کا علم حاصل کیا وہیں انھوں نے علمی شمع کو کتابی رنگ میں جلایا۔ جہازوں، ملکوں، تاریخوں، کیثر المنزل عمارتوں اور نظریات کو خوب ترتیب سے قاری تک پہنچایا۔ کبھی وہ بطور سیاح جھیل، پہاڑ اور تاریخی جگہوں پر جاتے ملے، کبھی قلم کار دوسروں کے لیکچرز سُنتے پایا، کہیں ادب اور ثقافت کو باہم ایک جگہ پایا۔ ان سب حالتوں اور جگہوں پر وہ خود اکیلے نہیں بلکہ قاری کو بھی ساتھ لیے پایا۔ المختصر زندگی کا نقشہ، ادیب کا فرض، تخلیق کی دلیل اور الفاظ کی تکنیک ہمہ وقت موجود ہے۔ اس بات پر بہت مبارک اور داد کے لائق ہیں۔ حقیقت، رومانیت، منظر اور ادب ایک سانچے میں پروے قاری کوپیغام دے رہے ہیں ادب برائے زندگی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں