جدید عالمی سیاست، آئل ٹینکرز اور خلیجی کشیدگی سمجھنے کے لیے ہمیں چند عشرے نہیں چند صدیاں پیچھے جانا پڑے گا۔ آبنائے ہرمز صدیوں سے دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار رہی ہے۔ ہرمز Ormvs دراصل ایک امیر اور طاقتور تجارتی ریاست کا نام تھا جو ابتدا میں موجودہ ایران کے جنوبی ساحل پر آباد تھی۔ مسلسل حملوں اور عدم استحکام کے باعث اس ریاست نے ایک غیر معمولی اور اسٹریٹجک فیصلہ کیا اور اپنا دارالحکومت ساحل سے اٹھا کر ایک جزیرے پر منتقل کر دیا جسے آج ہم ہرمز جزیرے کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ نقل مکانی محض جغرافیائی نہیں بلکہ گہری سیاسی اور معاشی حکمت عملی تھی، جزیرے پر منتقل ہو کرنہ صرف انہوں نے خود کو محفوظ کیا بلکہ خلیج فارس سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارت پربھی مضبوط گرفت قائم کر لی۔ باوجود اس کے ، کہ یہ تمام ساحلی علاقہ ان کی ملکیت نہیں تھا، وہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو “آبنائے ہرمز” کہا جانے لگا۔
یہی تنگ گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان سے جوڑتی ہے اور آگے بحیرہ عرب میں کھلتی ہے۔ صدیوں تک یہ راستہ فارس، عرب، ہندوستان اور مشرقی افریقہ کے درمیان تجارت کی شہ رگ رہا۔ ہندوستان سے مصالحہ جات اور کپڑے، عرب سے گھوڑے، اور خلیجی علاقوں سے موتی ، اسی راستے سے گزرتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج تیل بردار جہاز گزرتے ہیں۔
چودہویں صدی میں ابن بطوطہ نے جزیرہ ہرمز کو ایک اہم مگر سخت ماحول والے تجارتی مرکز کے طور پر بیان کیا۔ یاداشت درست کام کرتی ہے تو انہوں نے لکھا کہ یہاں کی گرمی ناقابل برداشت ہےاور جزیرے کا پانی میٹھا نہیں، اور پینے کا پانی فارس سے لایا جاتا ہے، یہی نکتہ ثابت کرتا ہے کہ جزیرہ پر منتقلی ایک سٹریٹجک فیصلہ تھا ورنہ اس دور میں پینے کے پانی کے بغیر کہیں منتقل ہونا ناممکن سی بات تھی۔
سولہویں صدی کے آغاز میں، ہرمز صفوی سلطنت کے زیر اثر ایک نیم خودمختار ریاست تھی۔ اسی دوران پرتگالی کمانڈر اور یورپ کا پہلا حملہ آور پرتگالی جنرل – افونسو دے ابوقرقے Afonso de Albuquerque تاریخ کے منظر نامے پر ابھرتا ہے(یہ ہسپانوی تلفظ ہے، امریکی انگریزی میں ہم افانسو دی اباقرقی کہتے ہیں، نیو میکسیکو میں ایک شہر Albuquerque اباقرقی کہلاتا ہے) یہ یورپ کا پہلا حقیقی سمندری سامراجی جنرل ہے جسے بعد ازاں دیو مالائی کردار بنا دیا گیا، اس نے بحیرہ احمر میں یورپی بیڑے کی قیادت کی اور بحر ہند سے بحر اوقیانوس، بحیرہ احمر، خیلج فارس اور بحرالکلاہل تک کے راستے پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا، ۱۵۰۷ کے لگ بھگ اس نے ہرمز پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی پرتگالیوں نے بحرِ ہند سے لے کر خلیج فارس تک اہم تجارتی راستوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس دور میں یہ صفوی فارس کے شاہ اسماعیل اول کی معاون ریاست تھی۔
ہرمز پر قبضہ کے بعد پرتگالیوں نے ٹیکس وصولی شروع کر دی، مقصد یہی تھا کہ ہندوستان ، فارس اور عرب تجارت پر اجارہ داری، اسی وجہ سے پرتگال نشاط ثانیہ کے بعد پہلی سامراجی /گلوبل ایمپائر بنا۔ اباقرقی کے خطابوں پر نظر ڈالیں تو وہ ختم ہی نہیں ہوتے۔The terrible, The great, Sea Lion, Ceaser of the East۔ سی لائن کا خطاب شاہ اسماعیل نے ہی دیا تھا جب اس نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا تو اس دور میں پاکستان کی طرح کی سفارت کاری کرائی گئی اور یہ فارس کے سفیروں سے ملا جنہوں نے خراج کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، اگلا جنرل تھآ اس نے توپوں کے گولے، تیروں اور اس دور کے جدید ہتھیاروں کا ذخیرہ دینے کا حکم دے دیا کہ پرتگال میں یہی کرنسی استعمال کی جاتی ہے۔
یہ بعد میں ہندوستانی ساحلی ریاست گوا کا گورنر بھی رہا۔ خیر پرتگالی اسی کی بدولت پہلی سامراجی سپر پاور بنے اور سو سال تک اس کا خراج وصول کرتے رہے۔
۱۶۰۰ میں ایسٹ انڈیا کمپنی انگلستان میں بنی اور ان کا اولین مقصد پرتگالیوں کی اجارہ داری ختم کرنا تھا اور پہلا کام انہوں نے بھِی یہی کیا کہ شاہ عباس صفوی، جو پرتگالیوں سے تنگ آ چکا تھا، اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے اتحاد کر لیا اور انہوں نے مل کر پھر پرتگالیوں کو مار بھگایا، بعد میں بندر عباس کی اہمیت بڑھ گئی مگر تاریخی حقیقت ہے کہ اسی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے پرتگال کی طاقت توڑ کر خود اپنا سامراج قائم کیا۔
آج ایران اور امریکہ کی کشیدگی کو اگر محض جوہری معاہدے، پابندیوں یا بیانات کی جنگ تک محدود کر کے دیکھا جائے تو یہ ایک سطحی فہم ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کشیدگی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے جس میں طاقتور ریاستیں عالمی تجارت اور توانائی کی شہ رگوں پر کنٹرول کے ذریعے بالا دستی قائم کرتی رہی ہیں۔ ایران بخوبی جانتا ہے کہ وہ روایتی عسکری طاقت میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مگر آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ طاقت کو متوازن کر دیتا ہے۔ یہی اس خطے کا المیہ اور اہمیت دونوں ہیں: تاریخ نے کردار بدلے ہیں، سلطنتیں اٹھیں اور مٹ گئیں، مگر آبنائے ہرمز آج بھی ویسی ہی فیصلہ کن ہے جیسی ابن بطوطہ، افونسو دے ابوقرقے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج توپوں اور جہازوں کی جگہ تیل کے ٹینکر، میزائل اور عالمی معیشت نے لے لی ہے، شاید اسی لیے یہ کشیدگی وقتی شور نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی کھیل کا تازہ دور ہے۔


