البامہ/الاباما ڈائریز (1)-احمر نعمان

زندگی سفر ہے اور میرے پیر میں چکر ہے۔ چند برس قبل کی گئیں قیام نیویارک کی پوسٹوں پر ابھی تک پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں۔ حالیہ ایک میسیج ملا، حضرت کے طویل میسیج سے چنیدہ فقرے۔ ” آپ کا زاویہ نظر منفرد اور جداگانہ ہے __ آپ کی نیویارک والی تحریروں سے اور کسی کا فائدہ ہوا ہو یا ناں ہم لوگ آپ کی پوسٹ پڑھ کر وہیں شفٹ ہو گئے جہاں کا اپ نے ذکر کیا تھا ___آپ کی تحریریں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ پہلے ہر ویک اینڈ لکھتے تھے، اب مہینوں نہیں لکھتے ___کیا صحت کا مسلہ ہے یا کچھ اور۔۔آپ کی صحت کے لیے ہم سب دعاگو ہےہیں۔ پلیز جہاں رہتے ہیں اس پر لکھیں۔۔۔۔”
جواب میں شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے، لکھنے کا صحت سے تعلق نہیں، میں کونسا دوڑ لگاکے لکھتا ہوں، اصل میں فیس بک شروع سے ہی تصویروں کا پلیٹ فارم رہی مگر تحریریں چل جاتی تھیں، مگر اب تو وڈیوز اور ریل کا زمانہ ہے، اور تحریروں کی جگہ مشینی تحریروں نے لے لی ہے، میری مشینی تحریروں سے خاص دلچسپی پیدا نہیں ہو پائی بلکہ پڑھنا بھی مشکل لگتی ہیں۔ بہرحال خوشی ہوئی آپ کا میسیج دیکھ کر، عید والا ویک اینڈ چل رہا ہے،اسی خوشی میں دو پوسٹیں لکھ ڈالتے ہیں۔

امریکی ساحلی علاقے خواہ وہ ایسٹ کوسٹ (بوسٹن سے نیویارک ) ہوں یا ویسٹ کوسٹ، کیلیفورنیا ، واشنگٹن سٹیٹ وغیرہ لبرل اور کھلے ڈلے کلچر کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ امریکا میں قیام کے ابتدائی پانچ چھے برس ایسٹ کوسٹ کی انہی ریاستوں، نیویارک/ نیوجرسی، نارتھ کیرولینا میری لینڈ وغیرہ میں گزرے اور عجلت میں بہت کچھ گھوم لیا،پھراتفاقا نیبراسکا آنا ہوا جو کہ وسطی امریکا اور اس میں بھی مڈ ویسٹ کا علاقہ ہے اور ایک ریڈ سٹیٹ ہونے کے باوجود لبرل ریاستوں سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں سستی اشیا تھیں، خاص کر گھر سستے لگے تو یہیں کے ہو رہے، ویسے یہ بات تمام تر مڈویسٹ بشمول شکاگو کے کہی جا سکتی ہے کہ مذہبی رحجانات کے باوجود یہاں کا کلچر بہت حد تک ساحلی ریاستوں جیسا کھلا ڈلا ہے اور یہ زیادہ مہنگے علاقے نہیں۔
اس کے علاوہ قریبی ریاستوں جیسے میسوری، آئیووا، وسکانسن وغیرہ بھی کام کرتا رہا، ان سب کا ماحول یکساں ہی ہے۔ ان کے بعد ۲۰۱۹ میں بسلسلہ روزگار ٹیکساس آنا ہوا تو شدید مایوسی ہوئی، دیسی کمیونٹی پاکستانی اور بھارتی ہر جگہ ٹیکساس جانے کی بات کرتے تھے، لہذا میرا خیال تھا کہ یہ کوئی شاندار جگہ ہو گی، میرے اپنے بہت سے احباب اور جاننے والے جا چکے تھے اور باقی ٹیکساس جانے کے لیے پر تول رہے تھے۔ خیر بات تو غلط ہے مگر مجھے جس طرح نیویارک پسند نہیں آیا تھا، اسی طرح ٹیکساس بھی اچھا نہیں لگا۔ یہی وجہ تھی کہ جب کووڈ آیا تو واحد یہی خوشخبری لایا کہ وہاں سے نوکری ختم اور مشکل آسان ہوئی، ٹیکساس سے جان چھٹی اور واپس نیبراسکا لگا کہ جنت میں واپسی ہو گئی ہے۔ میں دیسی کمیونٹیز میں زیادہ آرام دہ محسوس نہیں کر پاتا۔ کھانے لذیذ ہیں جو واحد اچھی سوغات تھی۔ ورنہ امریکا جیسے حسین ملک کا حسن بھی ٹیکساس میں عنقا ہے۔

چند برس بعد اپنی نوکریوں سے دل بھر گیا تو ڈیفینس ٹیکنالوجیز میں جانے کے لیے پر تولے، شومئی قسمت ٹیکساس کےپڑوس میں اس سے بھی گئی گزری ریاست اوکلاہوما جانا نصیب ہوا، اتفاقا دس سالہ پروجیکٹ کا جلدی اختتام ہو گیا اور واپسی ہوئی۔ گزشتہ برس صحت کے مسائل کے بعد معاشی مسائل سر اٹھانے لگے۔ نیبراسکا سے لگاؤ کے باوجود مسئلہ یہی ہے کہ یہاں پیسے اوسط یا اوسط سے بھی کم ملتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ عموما ہمسایہ ریاستوں میں ہی نوکریاں کرتا تھا۔ اب ضرورت پڑی تو بادل نخواستہ نیبراسکا کو خیرباد کہا اور باوجود تحفظات کے، اوکلاہوما سے بھی گئی گزری ریاستوں کا رخت سفر باندھا۔ ساوتھرن سٹیٹس/ جنوبی ریاستیں جو امریکا کی بائیبل بیلٹ کہلاتی ہیں، ان میں بھی کٹر ترین ریاست الباما میں قسمت لے آئی۔ یہ بھی ٹیکساس ہی کی طرح امریکی لطائف کی مرکزی ریاستوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس کا شمار امریکا کی پس ماندہ ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ مگر امریکی دفاع کا ایک اہم ترین حصہ یہاں کا ایک چھوٹا سا شہر Huntsville ہے، جسے راکٹ سٹی Rocket City کہتے ہیں. ایک چھوٹا سا جنوبی شہر ہونے کے باوجود فی کس per capitaانجینئرز امریکا میں سب سے زیادہ ہیں، مقامی سوفٹ انجینرز کا تناسب شاید کیلیفورنیا سے بھی زیادہ ہے، یعنی پڑوسی ملک یا میری طرح چین/پاکستان سے درامد نہیں بلکہ مقامی گورے ہیں۔ زیادہ ترویسٹ کوسٹ یا ایسٹ کوسٹ یعنی دیگر ریاستوں سے آئے لوگ ہیں۔ چند برس قبل تک یہی نسبت پی ایچ ڈیز کی بھی تھی کیونکہ سائینس اور ٹیکنالوجی میں یہ دوسری بڑی امریکی ریسرچ لیبارٹریز میں شامل ہے۔ راکٹ کے علاوہ یہ space کا ہیڈکوارٹر ہے اورشہرکی تاریخ بہت دلچسپ ہے
جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں