انسانی معاشرے کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ بعض بیماریاں جسموں سے نہیں بلکہ رویّوں، عادات اور طرزِ فکر کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ یہ وراثت خون کی نہیں بلکہ تربیت، ماحول اور تعلقات کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خاندانوں، برادریوں اور سماجی حلقوں میں ظلم، تحقیر، حسد، تعصب، جبر، جذباتی استحصال اور ناانصافی مسلسل زندہ رہتے ہیں۔ ایک نسل انہیں سہتی ہے، دوسری نسل انہی کو آگے منتقل کرتی ہے، اور یوں ایک ایسا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے جس میں مظلوم کل کا ظالم بن جاتا ہے اور محرومی کا شکار شخص دوسروں کی محرومی کا سبب بننے لگتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں افراد کے بجائے ان رویّوں کے اس تسلسل کو سمجھنا اور توڑنا ہوگا جو خاموشی کے ساتھ نسلوں کی تقدیر پر اثر انداز ہوتا رہتا ہے۔
اس سلسلے کی سب سے مضبوط کڑی خاندان ہے۔ بچہ جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، وہی اس کی شخصیت کا بنیادی سانچہ بن جاتا ہے۔ اگر گھر محبت، اعتماد، انصاف اور احترام کا مرکز ہو تو متوازن انسان پروان چڑھتا ہے، لیکن اگر وہاں موازنہ، طعنہ، جبر، تحقیر اور جذباتی بلیک میلنگ کا راج ہو تو یہی رویّے شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر والدین محبت کو احسان میں بدل دیتے ہیں اور اولاد کو بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی ہر کامیابی والدین کی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے، اس لیے اختلاف یا اپنی رائے کا اظہار ناشکری کے مترادف ہے۔ بعض گھروں میں بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے بچوں کا مسلسل موازنہ کیا جاتا ہے، کہیں بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے الگ پیمانے مقرر ہوتے ہیں، کہیں مردانگی کو جذبات سے عاری ہونا سمجھ لیا جاتا ہے، اور کہیں بزرگوں کی عزت کے نام پر ظلم اور بدتمیزی کو برداشت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں رازداری کا کوئی تصور نہیں ہوتا، جبکہ بعض گھروں میں ذہنی دباؤ، گھریلو مسائل یا ماضی کے صدمات پر گفتگو کو عیب سمجھا جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ایک خطرناک رویہ یہ ہے کہ بڑے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور معافی مانگنے کے بجائے خاموشی یا اختیار کے زور سے خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت حق سے زیادہ اہم ہے۔
دوستی کا دائرہ بھی انسانی شخصیت کی تعمیر یا تخریب میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دوستی اگر خیرخواہی، احترام اور اخلاص پر قائم ہو تو انسان کی قوت بن جاتی ہے، لیکن اگر اس میں حسد، مفاد پرستی اور استحصال شامل ہو جائے تو یہی تعلق ذہنی بوجھ بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے دوستوں کے حصار میں زندگی گزارتے ہیں جو صرف ضرورت کے وقت یاد کرتے ہیں، جو دوسروں کی کامیابی کو قسمت کا کھیل قرار دیتے ہیں، جو ہر نئے خواب اور منصوبے کو ناممکن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یا جو دوسروں کو اپنی منفی سوچ اور مسائل کا مستقل بوجھ اٹھانے پر مجبور رکھتے ہیں۔ بعض حلقوں میں دوسروں کی کمزوریوں، غربت، لہجے، جسمانی ساخت یا نجی مسائل کا مذاق اڑانا تفریح سمجھا جاتا ہے اور جب کوئی اس پر اعتراض کرے تو اسے مزاح نہ سمجھنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح گپ شپ، کردار کشی اور دوسروں کی غیر موجودگی میں ان کی عزت اچھالنا ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ اعتماد اور اخوت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اگر کسی دوستی کے بعد انسان پہلے سے زیادہ تھکا ہوا، بے اعتماد، منفی یا پریشان محسوس کرے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ تعلق واقعی دوستی ہے یا محض ایک جذباتی استحصال۔
رشتہ داروں اور وسیع سماجی حلقوں میں زہریلے رویّے مزید پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں اکثر افراد اپنی زندگی دوسروں کی توقعات کے مطابق گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شادی، تعلیم، اولاد، آمدنی، ملازمت اور ذاتی معاملات تک پر بے جا سوالات اور تبصرے معمول بن جاتے ہیں۔ “لوگ کیا کہیں گے” کا فلسفہ بہت سے لوگوں کی صلاحیتوں، خوابوں اور آزادیِ انتخاب کو دفن کر دیتا ہے۔ بعض رشتہ دار دوسروں کی خوشیوں کے بجائے ان کی ناکامیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، بعض اپنی اولاد کی کامیابیوں کو دوسروں پر برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور بعض تعلقات کو صرف مفاد کی بنیاد پر نبھاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں وراثتی جھگڑوں، خاندانی دشمنیوں، نسلی اور برادری کے تعصبات کو بھی نئی نسلوں تک منتقل کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض نوجوان ان لوگوں سے نفرت کرنا سیکھ لیتے ہیں جنہوں نے ان کا کبھی کوئی نقصان بھی نہیں کیا ہوتا۔ یوں نفرت، تعصب اور تقسیم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ اس سائیکل کو کب توڑنا ضروری ہو جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی تعلق یا رویہ آپ کے وقار، ذہنی سکون، آزادیِ فکر اور شخصیت کی نشوونما کو نقصان پہنچانے لگے، جب آپ مسلسل اپنی پسند، اپنی حدود اور اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے پھریں، جب ایک ہی قسم کی تکلیف بار بار آپ کی زندگی میں لوٹ آئے، جب آپ خود کو وہی زہریلے جملے دوسروں سے کہتے ہوئے پائیں جو کبھی آپ کے ساتھ کہے گئے تھے، یا جب بعض لوگوں سے ملنے کے بعد بے چینی، تھکن، غصہ اور ذہنی دباؤ آپ کی مستقل کیفیت بن جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ محض افراد کا نہیں بلکہ ایک ایسے سلسلے کا ہے جسے روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
تاہم سائیکل توڑنے کا مطلب بغاوت، نفرت یا رشتوں کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان شعور کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ جو برائی اسے ورثے میں ملی تھی، وہ اسے آگے منتقل نہیں کرے گا۔ اگر اسے تحقیر ملی ہے تو وہ احترام دے گا، اگر اسے ناانصافی ملی ہے تو وہ انصاف کرے گا، اگر اسے غصہ ملا ہے تو وہ تحمل اختیار کرے گا، اور اگر اسے جبر ملا ہے تو وہ آزادی اور اعتماد کا ماحول پیدا کرے گا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک فرد محض اپنی زندگی نہیں بدلتا بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر بھی تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ معاشروں کی حقیقی اصلاح قانون کی کتابوں سے پہلے انسان کے باطن میں جنم لیتی ہے۔ جو شخص اپنے خاندان، دوستوں اور سماجی حلقوں میں رائج کسی زہریلے سلسلے کو روک دیتا ہے، وہ درحقیقت ایک نئی روایت کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ پرانی زنجیروں کو توڑنے والا شخص اکثر تنہائی، مخالفت اور غلط فہمیوں کا سامنا کرتا ہے، لیکن یہی تنہائی آنے والی نسلوں کے لیے رحمت کا دروازہ کھولتی ہے۔ بعض اوقات ایک فرد کا شعوری فیصلہ کئی نسلوں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اسے اپنے بزرگوں اور ماحول سے کیا ورثہ ملا ہے، اور وہ اپنی اولاد اور معاشرے کو کون سا ورثہ دینا چاہتا ہے۔ یہی سوال دراصل مستقبل کی سمت کا تعین کرتا ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر ان عمارتوں سے نہیں بنتی جو وہ تعمیر کرتی ہیں، بلکہ ان رویّوں سے بنتی ہے جنہیں وہ آگے منتقل کرتی ہیں۔
محد امین اسد See less


