ہراسانی انگریزی لفظ ہراس منٹ Harassment کا ترجمہ ہے.معنی کسی کو تنگ کرنا ، پریشان کرنا ، خوف زدہ کرنا یا بے چین کر دینا۔یہ ایک غیر مہذب رویہ ہے، جس میں کسی دوسرے شخص کو ذہنی ،جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر مفلوج کر کے ہراساں کیا جاتا ہے۔اس کی کئی اقسام ہیں۔چند مشہور اقسام میں جنسی ، جذباتی ، جسمانی ، سائبر اور جسمانی ہراسانی شامل ہے، جو بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر کسی بھی جگہ کی جا سکتی ہے۔
لیکن آج جس یراسانی پر بات چیت کی جائے گی اس کا عنوان جنسی ہراسانی کی بڑھتے ہوئے واقعات ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جو ہراسانی کے مرض سے پاک ہو۔ آپ کسی بھی ملک چلے جائیں وہاں ہراسانی جیسے واقعات سننے کو ضرور ملیں گے۔ یہ انسان کی زندگی میں ایک بڑی ہوئی نفسانی خواہش ہے ، جسے پورا کرنے کے لیے انسان کسی بھی عورت ، مرد بچے یا بچی کا سہارا لیتا ہے۔پہلے اسے چپکے چپکے ٹارگٹ کرتا ہے۔پھر راہ و رسم بڑھاتا ہے۔دوستی محبت اور ضروریات زندگی کا لالچ دے کر بدفعلی کے لیے مجبور کرتا ہے۔سارے انسان تو اس کیفیت میں مبتلا نہیں ہوتے البتہ چند ایک ذہنی فتور رکھنے والے لوگ حیوانی میں بدستور ضرور مبتلا ہو جاتے ہیں۔
چند سالوں سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند ویڈیو نے عوام الناس کی شہوت پرستی میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے۔چھوٹی بچیوں کے ریپ ، نو عمر بچوں کے ساتھ لونڈے بازی اور کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ جنسی یراسانی کے واقعات معمول میں شامل ہو گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے اس گند نے لڑکوں اور لڑکیوں کو قبل از وقت بالغ بنا دیا ہے۔رہی سہی کسر ملاوٹ کے بیو پاروں نے دودھ میں یوریا اور کئی ایسے خطرناک کیمیکل شامل کر کے جو دل ، جگر ، گردوں اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جنسی بلوغت میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ہیں۔
پاکستان میں جنسی ہراسانی کی شرح کے بارے میں کوئی ایک سرکاری تعداد موجود نہیں ہے، کیوں کہ زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔تاہم دستیاب رپورٹس اور سروے کے اعداد و شمار صورت حال کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
خواتین پر تشدد 2021-2024 تک 1,73,367 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 632 کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے کیسز شامل ہیں۔
زیادتی اور اجتماعی زیادتی 2021-2024 تک 17,771 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
پنجاب میں تشدد جنوری-جون 2025 تک روزانہ اوسطاً 9 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی۔
خواتین کا جسمانی تشدد کا سامنا 58% خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت۔
شادی شدہ خواتین کی جنسی زیادتی: 47%۔
کام کی جگہ پر ہراسانی مختلف سروےز 93% نجی و سرکاری شعبہ، 50% سرکاری شعبہ، 58% ڈاکٹرز اور نرسیں
سندھ میں جنسی ہراسانی (2018-2024) تک 6,780 کیسز رپورٹ ہوئے متاثرین میں 4,280 مرد اور 2,500 خواتین
آن لائن ہراسانی2023 ہیلپ لائن پر 58.5% شکایات خواتین کی طرف سے۔
کم رپورٹنگ کی وجوہات میں سماجی دباؤ، قانونی نظام میں مشکلات اور پولیس میں خواتین افسران کی کم تعداد صرف 1.5% شامل ہیں۔
دنیا بھر میں جنسی ہراسانی کے شکار ہونے والوں کی کوئی ایک حتمی تعداد نہیں ہے، کیوں کہ اس کی تعریف، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقے اور رپورٹنگ کی شرحیں مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کچھ اہم اعداد و شمار فراہم کرتی ہیں۔
خواتین عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں 840 ملین یعنی 84 کروڑ خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔ یہ تعداد 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی ہر تین میں سے ایک عورت بنتی ہے۔
غیر شریک حیات کی طرف سے جنسی تشدد 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 263 ملین یعنی 26 کروڑ 30 لاکھ خواتین نے اپنی زندگی میں کسی غیر شریک حیات جیسے رشتہ دار، جاننے والا یا اجنبی کی طرف سے جنسی تشدد کا سامنا کرنے کی اطلاع دی ہے۔
کام کی جگہ پر عالمی ادارہ محنت ILO کے مطابق، دنیا بھر میں ملازمت کرنے والے تقریباً 23 فیصد افراد یعنی ہر پانچواں فرد کو کام کی جگہ پر نفسیاتی یا جنسی ہراسانی کا سامنا رہتا ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق، 23 فیصد سے زیادہ خواتین اپنی کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔
غیر رپورٹ ہونے کا رجحان یہ اعداد و شمار مسئلے کی حقیقی وسعت کا صرف ایک حصہ ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ متاثرین کی اکثریت اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کی اطلاع نہیں دیتی۔
یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع اور تعریفوں پر مبنی ہیں، اس لیے ان میں فرق ہو سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے عالمی ادارہ صحت اور عالمی ادارہ محنت کی رپورٹس دیکھی جا سکتی ہیں۔
ہمیں پہلے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ انسان ایسے مکروہ فعل میں کیوں مبتلا ہوتا ہے؟ کیا اس کی تربیت میں کمی ہے یا فحش مواد دیکھنے کی رغبت جیسے عناصر شامل ہیں ۔ ہراسانی کی دیگر بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔لیکن جب کسی بالغ انسان کو جنسی خواہش پوری کرنے کا موقع نہیں ملتا تو پھر وہ بے زبان جانوروں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔اکثر ایسے لوگ تنہائی ڈھونڈ کر یا موقع کی تلاش کر کے مکروہ فعل سال انجام دیتے ہیں۔ان کے گناہ کے یہ وار پوشیدگی کے عالم میں ، رات کے گھپ اندھیرے میں یا کڑی دوپہر کے وقت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
انسان کو اپنے مذہبی ، سماجی اور معاشرتی قوانین کا علم ہونا چاہیے، تاکہ وہ کم سے کم برائی کے مرض میں مبتلا ہو۔ کسی بھی معاشرے سے برائی مکمل طور پر تو ختم نہیں ہو سکتی لیکن اگر اسے کنٹرول کرنے کے لیے موثر حکمت عملی بنائی جائے تو کوئی مشکل بھی نہیں۔ اس ضمن میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے بچوں کو جنسی ہراسانی کے بارے میں بتائیں۔حرام کاروں ، زنا کاروں ، لونڈے بازوں اور شہوت پرستوں سے کس طرح بچا جائے۔
ایسے لوگوں کی نفسیات کس طرح پڑھی جائے۔انھیں جانچنے کے لیے نیت اور نظر کا جائزہ فوری طور پر دل و دماغ کو پیغام پہنچا دیتا ہے۔لہذا بغیر کسی تاخیر کے اپنا بچاؤ کرنا چاہیے۔خاص طور پر اجنبی لوگوں کے ساتھ تو بالکل ہاتھ نہیں ملانا چاہیے۔ان کے کسی لالچ یا جھانسے سے میں نہیں آنا چاہیے۔کیوں کہ وہ کوئی نہ کوئی ایسا نفسیاتی حربہ استعمال کر کے اپنے جنگل میں پھنسا لیتے ہیں۔ چوں نکہ ایسے لوگ بڑے ہوشیار ، مکار ، ڈھیٹ، گھمنڈی اور بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں جو ننھے منے فرشتوں کو نوچ کر کھا جاتے ہیں۔
ہماری روز مرہ زندگی میں ایسے دل خراش بڑھتے ہوئے واقعات ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہے ہیں کہ قیامت کا وقت بہت قریب ہے۔جب ایک انسان بھی حیوان کا روپ اوڑھ لے تو وہاں انسانیت کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔اعتماد اٹھ جاتا ہے۔تذبذب بڑھ جاتا ہے۔بے قدری بڑھ جاتی ہے۔ پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔خوف و حراس پھیل جاتا ہے۔امن و امان کی صورت حال خراب ہو جاتی ہے۔گلیاں محلے سنسان ہو جاتے ہیں۔معاشرتی آب و ہوا الودہ ہو جاتی ہے۔
میری آنکھوں کے سامنے جب بھی سانحہ سرگودھا ، لاہور یا جن جن علاقوں یا شہروں میں ایسے خوف ناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔وہاں ایک عام انسان کا خون و جگر بھی سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ایسے درندوں کو عبرت کا سبق ضرور دینا چاہیے بلکہ انہیں کڑی سے کڑی سزا دینی چاہیے۔چوں کہ کسی بھی معاشرے کو سدھارنے کے لیے جب تک قوانین کا اطلاق نہ کیا جائے اس وقت تک روک تھام ناممکن ہے۔لہذا اگر ہم اپنے معاشرے کو امن کا گہوارہ اور جنسی ہراسانی سے پاک رکھنا چاہتے ہیں تو ہم سب کو مل کر ایسے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ درندوں کو ایسے مکروہ کااموں کا موقع ہی نہ ملے۔


