روٹی، کپڑا، مکان اور عام آدمی /علی عباس کاظمی

اکثریوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک میں سب کچھ موجود ہے، صرف سکون نہیں۔ بازاروں کی رونق اپنی جگہ، روشنیوں سے جگمگاتے شہر اپنی جگہ، سڑکوں پر رواں دواں زندگی کا شور اپنی جگہ۔۔۔مگر ان سب کے باوجود دِلوں کے اندر ایک عجیب سی ویرانی اترتی جا رہی ہے۔ جیسے ہر چہرہ کسی نہ کسی انجانی تھکن کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو، جیسے ہر آنکھ میں کوئی ادھورا خواب اتر آیا ہو۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ہجوم تو بہت ہے مگر اپنا پن کم ہوتا جا رہا ہے، جہاں رشتوں کی بھیڑ تو ہے مگر احساس کی گرمی دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان ایک ایسے مسافر کا نام بن گیا ہو جو منزل کے خواب تو بہت خوبصورت دیکھتا ہے، مگر راستے کی دھول اس کی آنکھوں میں اتنی بھر گئی ہے کہ منظر دھندلے ہو گئے ہیں۔ وہ چلتا رہتا ہے، کبھی امید کے سہارے، کبھی مجبوری کے دباؤ میں، مگر ہر قدم کے ساتھ تھکن مزید بڑھتی جاتی ہے۔ خواب اس کے پاس ہیں، مگر تعبیر کا فاصلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اور لمبا ہوتا جا رہا ہے۔ کہیں نہ کہیں دل کے اندر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ سفر واقعی منزل کی طرف جا رہا ہے یا ہم صرف چلنے کے عادی ہو چکے ہیں؟

پاکستان واقعی ایک خواب تھا، اور شاید آج بھی ایک خواب ہے۔ مگر خوابوں کی ایک عجیب فطرت ہوتی ہے۔ اگر انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل محنت، دیانت اور بصیرت نہ ہو تو وہ آہستہ آہستہ حسرت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے خوابوں کی حفاظت کر سکے ہیں؟ کیا ہم نے اس سرزمین کو وہ پاکستان بنایا ہے جس کا تصور اس کے بانیوں نے کیا تھا، جہاں عام آدمی کے لیے صرف نعرے نہیں بلکہ روٹی، کپڑا اور مکان ایک حقیقی ضمانت ہوتے؟ یا ہم آج بھی امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے ہوئے ایک ایسے کل کے منتظر ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دور ہوتا جا رہا ہے؟ یہ تین لفظ۔۔۔ روٹی، کپڑا اور مکان ۔۔۔ محض سیاسی نعرہ نہیں تھے، یہ ایک پورے سماج کا معاشی معاہدہ تھے۔ روٹی صرف پیٹ بھرنے کا نام نہیں، عزتِ نفس کی پہلی سیڑھی ہے۔ کپڑا صرف جسم ڈھانپنے کا وسیلہ نہیں، انسانی وقار کی علامت ہے اور مکان صرف چھت نہیں، تحفظ، سکون اور شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ تینوں الفاظ بھی ایک ایسے معاشی بوجھ میں بدل گئے ہیں جنہیں حاصل کرنا عام آدمی کے لیے ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔

آج کا پاکستان محض اقتصادی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کا بحران بھی ہے۔ مہنگائی صرف جیب پر حملہ نہیں کرتی، یہ انسان کے حوصلے پر بھی وار کرتی ہے۔ جب ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے کندھوں پر صرف اوزار نہیں ہوتے، اس کے ساتھ اس کے بچوں کی روٹی، کپڑے اور مکان کی فکرمندی بھی چل رہی ہوتی ہے۔ مگر شام کو جب وہ بازار کے نرخ دیکھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا دن محنت نہیں کی بلکہ کسی سراب کے پیچھے دوڑتا رہا ہو۔یہ ایک عجیب زمانہ ہے۔ چیزیں بڑھ رہی ہیں مگر انسان چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ عمارتیں بلند ہو رہی ہیں مگر معیارِ زندگی نیچے جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر خوشحالی کی تصویریں بڑھ رہی ہیں مگر حقیقی زندگی میں روٹی، کپڑا اور مکان تینوں سوال بن کر کھڑے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دکھ بھی خاموش ہو گیا ہے۔ لوگ اب چیختے نہیں، صرف مسکراتے ہوئے برداشت کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر متوسط طبقے کا ہے۔ غریب کی غربت نظر آ جاتی ہے اور امیر کی آسائش بھی، مگر متوسط طبقے کی خاموش جنگ کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔ وہ عزت بچانے کے لیے قرض لیتا ہے، بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے اور ہر مہینے بجٹ بناتے ہوئے زندگی کو ریاضی کے ایک مشکل سوال میں بدل دیتا ہے۔۔۔روٹی پہلے یا کرایہ؟ دوائی پہلے یا فیس؟ کپڑا پہلے یا بجلی کا بل؟ اس طبقے کا المیہ یہ ہے کہ یہ نہ اتنا غریب ہے کہ امداد کا مستحق قرار پائے اور نہ اتنا امیر کہ مسائل سے بے نیاز ہو جائے۔ایک ماں کی خاموشی شاید دنیا کی سب سے بڑی زبان ہے۔ جب وہ اپنے بچے کے لیے روٹی کا انتظام نہیں کر سکتی، یا اسے مناسب کپڑا نہیں دے سکتی، تو اس کی آنکھوں میں ایک ایسی اداسی اترتی ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ ایک باپ جب فیس، کرایے اور دوائیوں کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائےتو نتیجتاً اس کا بجٹ ہی نہیں، اس کی خود اعتمادی بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ یوں روٹی، کپڑا اور مکان صرف معاشی اصطلاحات نہیں رہتیں، یہ انسانی وقار کا امتحان بن جاتی ہیں۔

یہ ملک نوجوانوں کا ملک کہلاتا ہے۔ تقریروں میں نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے، مگر ان کے حال میں بے یقینی لکھی ہوتی ہے۔ لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد دروازوں پر دستک دیتے دیتے تھک جاتے ہیں۔ ڈگریاں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور مایوسی ان کے دل میں۔ ان کے لیے روٹی صرف روزگار کا سوال نہیں، کپڑا صرف ضرورت نہیں اور مکان صرف خواب نہیں بلکہ ایک دور کی آسائش بن جاتا ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت صرف روٹی نہیں، امید ہے۔ روٹی نہ ہو تو انسان کچھ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے، مگر امید ختم ہو جائے تو اندر سے مر جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں سے امید کی روشنی مدھم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ ملک چھوڑنے کو خواب نہیں بلکہ ضرورت سمجھنے لگے ہیں۔ یہ صرف برین ڈرین نہیں، بلکہ یقین کے ٹوٹنے کا عمل بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا وسائل کی کمی ہے؟ شاید نہیں۔ کیا صلاحیتوں کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا محنت کرنے والے لوگ نہیں؟ یقیناً ہیں۔ پھر مسئلہ کہاں ہے؟ شاید مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ جب ریاستی ترجیحات میں روٹی، کپڑا اور مکان محض اعلانات رہ جائیں اور عملی منصوبہ بندی نہ بن سکیں،توعام آدمی کے خواب صرف کاغذی کارروائیوں کے بوجھ تلے ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ریاستیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عام آدمی خود کو ریاست کا حصہ محسوس کرے۔ جب اسے یقین ہو کہ اس کی روٹی محفوظ ہے، اس کا کپڑا باعزت ہے اور اس کے سر پر مکان کی چھت قائم رہے گی۔ جب قانون اس کے ساتھ کھڑا ہو اور انصاف اس کی دہلیز تک پہنچے۔ جنوبی کوریا، جاپان اور کئی دیگر ممالک نے اپنی ترجیحات انسان پر مرکوز کیں۔ انہوں نے سمجھا کہ اصل ترقی وہ نہیں جو عمارتوں میں نظر آئے بلکہ وہ ہے جو ایک عام شہری کی زندگی میں جھلکے ۔۔۔جہاں روٹی سستی ہو، کپڑا باعزت ہو اور مکان قابلِ رسائی ہو۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کا تصور اکثر سڑکوں، پلوں اور منصوبوں تک محدود ہو جاتا ہے۔ حالانکہ کسی ملک کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ایک عام شہری کے چہرے پر اطمینان نظر آئے۔ جب اسے روٹی کے لیے رات کو فکر نہ ہو، کپڑے کے لیے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے اور مکان کے لیے پوری عمر نہ لگانی پڑے۔

ہم نے معاشرے کو مقابلے کی ایسی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جہاں انسانیت پیچھے رہ گئی ہے۔ منافع نے خدمت کو نگل لیا ہے۔ نمود و نمائش نے سادگی کو شرمندہ کر دیا ہے۔ ہم نے کامیابی کو دولت کے پیمانے سے ناپنا شروع کر دیا ہے، کردار کے پیمانے سے نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ روٹی مہنگی، کپڑا محدود اور مکان ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ریاست اور معاشرہ دراصل ایک معاہدہ ہوتے ہیں۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں اور ریاست ان کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت اور تحفظ کی ذمہ داری لیتی ہے۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے اور جب اعتماد کمزور ہو جائے تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔

آج پاکستان کو صرف معاشی پیکیجوں کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور انتظامی بیداری کی ضرورت ہے۔ ایسی بیداری جو ہمیں یاد دلائے کہ قومیں صرف بجٹ سے نہیں بنتیں، بلکہ انصاف، دیانت اور ترجیحات سے بنتی ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان اگر صرف تقریروں میں رہ جائیں تو ریاست کا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف حکومت نہیں ہوتی۔ معاشرے کے افراد بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر ہم خود دیانت، محنت اور قانون کی پاسداری نہیں کریں گے تو صرف نظام بدلنے سے نتائج نہیں بدلتے۔ اصل تبدیلی ایک اجتماعی شعور سے آتی ہے۔ ایک قوم کا مستقبل صرف ایوانوں میں نہیں بنتا، بلکہ بازاروں، کھیتوں، فیکٹریوں اور گھروں میں بھی تشکیل پاتا ہے۔اگر ریاست میں سب کچھ ترقی کر رہا ہے تو عام آدمی کی روٹی کیوں مہنگی ہے؟ کپڑا کیوں محدود ہے؟ اور مکان کیوں خواب بنتا جا رہا ہے؟اور جس دن یہ سوال پورے معاشرے کا سوال بن جائے، سمجھ لیجیے کہ مسئلہ معیشت کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد ایوانوں کے سنگِ مرمر پر نہیں، بلکہ عام آدمی کی روٹی، اس کے کپڑے، اس کے مکان اور اس کے دل میں بسنے والی امید پر کھڑی ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں