کون جانتا تھا کہ مردان سے صوابی کو جاتے ہوئے سڑک سے ہٹ کرآباد بخشالی نام کا گاؤں ایک دن اتنی شہرت پالے گا کہ لوگ اسے صرف ایک شخص کے نام سے پہچاننے لگیں گے وہ شخص نہ تو کوئی افسر ہےنہ کوئی بیروکریٹ ہے، نہ کوئی بڑا سیاسدان ہے ، نہ ہی صنعت کاراورنہ ہی لینڈ لارڈ بلکہ ایک عام سا شخص جو خود کو مزدورکہلواتا ہے لیکن اگراس میں کوئی خاصیت ہے تو یہ کہ وہ ادب کا ایک کارکن ہے , ادب ہی اس کا اوڑھنا، ادب ہی اس کا بچھونا، ادب ہی اس کی سوچ اور ادب ہی ذریعہ عزت ہے ، بہت عرصہ پہلے نوجوانی میں وہ شخص کھاریاں ضلع گجرات میں وارد ہوا تو اس شہر کی ادبی فضا نے اسکو متاثر کیا اور اس کے اندر کا شاعر جاگ گیا ، وہ جہاں خود شعر کہنے لگا وہاں شعراء اور ادباء کی پزیرائی اور ان کا احترام اپنی زیست کا حصہ بنا لیا، بخشالی گاؤں سے آیا ہوایہ نوجوان بخشالوی کے لاحقے اور گل کے تخلص کے ساتھ ادبی دنیا میں وارد ہوا تو لوگ سبحان الدین کو بھول گئے اور گل بخشالوی کو جاننے اور پہچاننے لگے، تالیف ،،غزل انتخاب ، سوچ رت ،، 1984،کی ترتیب اور قلم قافلہ کے نام سے بنائی گئی ادبی تنظیم ، نیزاس نام سے جاری ادبی میگزین سے جو سفر شروع ہوا وہ آج بھی انہی جواں جزبوں سے جاری ہے اس سفر کی کوئی خاص سمت نہیں، گل بخشالوی کا یہ سفرشش جہت مسافت پر رواں ہے، کبھی غزل، کبھی نظم، کبھی سفرنامہ، کبھی تدوین، کبھی تنقید، کبھی سیرت نگاری ، کبھی کالم نگاری، حتیٰ کہ ہرموضوع اورمضمون پر قلم کی روانی نے پٹھان مٹی اور پنجابی فکرکوایک پیکرمیں یکجا کر کےایک نئے رنگ اور آہنگ کو ادب کے دلدادگان تک پہنچانے کا سلسلہ جس شدومد سے شروع کیا تھا اس سے کہیں زیادہ وقت کےگزرتے لمحوں کے ساتھ اس میں تیزی آگئی ہے
گل بخشالوی کا جوکلام اس وقت میرے زیر مطالعہ ہے یہ اس کا اگرچہ خاص رنگ ہے لیکن اس بار کچھ نئے پہلو اجاگر کرتا ہے، یہ رنگ اگرچہ اس کی فکر سے ہی ظاہر پذیر رہا ہے لیکن تب جذبوں اور محبتوں کا اشارہ کسی اورسمت بھی ہوتا تھا جب کہ آج اس میں وطن کی محبت کا عنصرکہیں زیادہ نمایاں ہے یہ احساس ان کے ذہن و قلب پرمیرے خیال میں اس وقت برجمان ہوا اور فکر و خیال پراس وقت غالب ہوا جب وہ دیار غیر میں کچھ عرصہ رہے تو مٹی کی غیرت اورفکر کے جذبے نےبہت ذیادہ شدت اختیار کرلی ،
مجھے گل بخشالوی کا وہ وقت بھی یاد ہے جب اس نے اپنے لہو سے کاغز کو لہو رنگ کیا تھا، سیاسی خدمت کا کام خون سےاور فکر کا کام اپنے جذبوں سے لیا تھا، لیکن آج خون کا کام بھی وہ قلم کی روشنائی سے لے رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ابھی اس نے دھرتی اور دھرتی پربسنے والوں کے لئے بہت سا کام کرنا ہے اور انہیں کسی مثبت سمت کے تعین میں بہت مفید مشورے دینے ہیں ،
گل بخشالوی کے سامنے ایک کھلا میدان ہے جس میں سیاست بھی ہے، سماج بھی قوم کی خستہ حالت بھی اور خوابیدگی بھی، اس نے فوج میں رہ کر اسے بھی قریب سے دیکھا ہے سیاست کے خار زار سے بھی گذرا ہے غربت کی چکی میں بھی پسا ہے پیسے کی چکا چوند بھی دیکھی ہے دوستوں کی عداوتوں سے بھی واسطہ پڑا اور دشمنوں کی رقابتیں بھی دیکھیں، اس نے معاشرے کے تمام رنگ اپنی زندگی میں دیکھےاوراپنی ذات پران کے اثرات کومحسوس کیا لیکن وہ گل کی فطرت سے ہٹ نہیں سکا، رویوں کو اپنے مجسم ذات میں اتارتا رہا اور خوشبو بن کر بکھرتا رہا، بار بار مسکرانے کی سزا پا کر بھی بھی کھلتا رہا اور آج، گل ایک ایسے پاکستانی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جس کی رگ رگ میں وطن کی سوچ کا لہو رواں ہے، اودھ کے حکمران واجد علی شاہ اخترنے لکھا ہے کہ،
وسعت خلد سے بڑھ کرہے کہیں حب وطن
تنگیء گور سے بدتر ہے فضائے غربت
گل بخشالوی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہے وطن کے حالات دیکھتا ہے تو محبت مزید گہری ہوتی ہے اور ساتھ ہی ہچکیاں بھی بند جاتی ہیں اور یہ ہچکیاں فضائے غربت کےباعث ہوتی ہیں اس پر وہ اپنے اندر کے غبارکو سانس کا تسلسل بحال کرنے اور رکھنے کے لئے باہر نکلتا ہے
مجھے مغرب زدوں کی کیا ضرورت
میں پاکستان بننا چایتا ہوں
قوم اور وطن سے وابستگی ایک فطری جزبہ ہے اور یہ جزبہ اس وقت مزید پختہ اور فزوں ہو جاتا ہے جب ایک حساس آدمی قوم کے بگڑے اور ناروا حالات کو دیکھتا ہے وہ کڑھتا ہے جلتا ہے اور لمحہ لمحہ موت سے ہمکنار ہوتا ہے لیکن وہ بے بس کچھ نہیں کر سکتا وہ صرف سوچتا ہے اوربھر اگر وہ قلم اور قرطاس سے منسلک ہے تو پھر وہ اپنے دکھ کاغز پر انڈیل دیتا ہے اور یہ ہی ہم ادھورے خواب میں دیکھتے ہیں
کھڑے ہیں چاروں طرف اژدھے اٹھائے سر
میں سر کو ہاتھ میں لے کر قلم اٹھاتا ہوں
مرے وجود میں میرا وطن سلامت ہے
نماز عشق میں ایمان گنگناتا ہوں
ذات کی جنت سے باہر سوچتے حاکم نہیں
سوچتا ہوں کیا بنے گا قوم کی تقدیر کا
ہے کھڑا دہلیز پر دشمن کوئی آنگن میں ہے
رخ بدل کر دیکھتے پھر بھی نہیں تصویر کا
بخشالوی حساسیت کا مارا ہوا محبتوں کا شاعر ہے ، وہ امن تراشی کی سوچتا ہےکیفیات اور الجھنوں کو لکھتا ہے، زندگی کا درس دیتا ہےوہ ایک فلسفی بھی ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتا ہے ایسا فلسفی جو بقول شخصے ، ترکیب و تشکیل عالم ، جسم و غیر جسم کا تضاد، جوہرسکون و ثبات، انسان کی حیثیت ، محبت نفرت ، خود شناسی و خودی، زمان و مکاں، اضافیت ، جزوکل، ارتقاء، روح کی حقیقت، وجود اور خیر وشر جیسے اہم موضوعات پر فکر کرتا ہے،، لیکن وہ سوچتا اپنے انداز میں ہے اور یہ فکر جب اس کو اندر دیمک کی طرح چاٹ کرکھوکھلا کرنا شروع کردیتی ہے تو گل بخشالوی اس فکر کو جو غم کا روپ دھار لیتی ہے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اسے دوسروں کے ساتھ شیئرکرتا ہے ، وہ دوسروں کے دکھ جو اپنے ندرسموئے ہوتا ہے اور جنہیں وہ .اپنے وجود اور روح کا حصہ بنا چکا ہوتا ہے انہیں دوسروں تک پہنچا کر مثبت سوچ کا موقع فراہم کرتا ہے وہ دوسروں کو اپنے طرف بلاتا ہے اور دعوت دیتا ہے کہ سب مل کر ان دکھوں کا مداوا کریں جو کسی فرد واحد کو نہیں بلکہ پوری قوم کو آہستہ آہستہ نگل رہے ہیں ، وہ اپنے ہم وطنوں کو ان دکھوں سے آگاہ کر کے یہ باور کرانے کی کو شش کرتا ہے کہ ہم معاشرے کو امن و امان سے ہمکنار کر سکتے ہیں ہمیں مل بیٹھ کر فیصلہ کرنے اور اس ناسور کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے
گل بخشالوی ایک فکر اور خیال کا شاعر ہے، شاعر جس کا مادہ ہی شعور ہے جو اپنےارد گرد اوراپنی زندگی سے اپنی شاعری کا سامان کشید کرتا ہے گل شاعری میں ہر بار ایک نئے مو ضوع کے ساتھ قارئین سے ہم کلام ہوتا ہے اس کی غزل بھی متنوع موضوعات ومزاج کا امتزاج ہوتی ہے جس میں تازہ کاری شعور کی روشنی اور ایک مضطرب ذہن کا عکس واضع ہوتا ہے، وہ آج کے حالات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے تو اب بھی لڑکپن میں سنے ہوئے ان لفظوں کی گونج اپنے ذہن کے نہال خانے میں سنتا ہے،
،، دس کروڑ پاکستانی عوام کی آزمائش کا وقت آگیا ہے ۔۔ پاکستان کے۔۔ عوام جن کے دلوں میں کلمہء طیبہ کے مقدس کلمات بسے ہوئے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ دشمن کے توپوں کے دھانے خاموش نہیں کر دیتے ،، آج تو ہم بیس کروڑ ہیں آج ہم میں قوت و طاقت زیادہ ہونی چاہیئے ، گل بخشالوی نے چونکہ وہ لمحے دیکھے تھے اس لئے آج پر امید ہے کہ یہ قوم ضرور جاگے گی ابھرے گی اور امن و سکون کے ساتھ منزل کی طرف گامزن ہوگی، وہ آج بھی انہی توقعات اور امیدوں کواپنے پلو سے باندھے غزل سرائی میں مصروف ہے ایسی غزل سرائی نہیں جو قوم کو سلا دے بلکہ اقبال کی غزل کا پرتو لے کرقوم کو آئینہ دکھاتے ہوئے الفاط کو خوبصورتی سے موزون کرتا ہے ،
اشک ماتم کیوں کریں غم کی دہائی کے لئے
شاہ بحر وبر ہیں جب مشکل کشائی کے لئے
روشنی گلشن میں ہو اور جگمگائے سرزمیں
گل بد میں خون ہے گر روشنائی کے لئے
آنکھ بھر دیکھے نہ دشمن، دین و ملت کا ہمیں
زندگی گربھول جائیں خود سرائی کے لئے
ّ” ادھورے خواب ” میں حب الوطنی امن کی خواہش راہ راست کا تعین ۔ قوم کی زبوں حالی پردکھ درد کے اظہار کے علاوہ اپنے وطن کے باسیوں کو اصلی صورت دکھا کردیگر موضوعات اور مضامین کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ ان اشعار میں جمالیات کا عنصر بھی موجود ہے اور حضور نبی کریم کی ذات والا صفات سے محبت اورعقیدت جو گل بخشالوی کا موضوع اول ہے بلکہ گل بخشالوی کی شاعری کا محور و منبع ہے وہ بھی موجود ہے کیونکہ اس موضوع سے الگ رہ کر وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس کا نظریہ فن اور نظریہء زندگی ہے کہ ،
مجھے عنایت جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبی ہے
جو ہے سلیقہ سجودِ رب کو، مرے نبی ہی کی روشنی ہے
جمال فطرت، نظام قدرت، بفیضِ احمد ملا جہاں کو
عمل سے اس نے بتایا ہم کہ ایک ہستی خدا کی بھی ہے ،
گل بخشالوی نے اپنے اشعار میں دعاؤں کی بےاثری کا بھی ذکر کیا ہےغریبوں کی غربت اوران کے ارمانوں کے لہولہو ہونے کا، اس ملک کے لوٹنے والوں کا ، قیادت کے فقدان اور حکمرانوں کی بے حسی کا، شہیدوں اور غازیوں کا ذکربھی کیا ہے، اس وطن کے ذرےذرے کو نکھارنے کی بات بھی کی ہے، طوفانوں، زلزلوں، آفتوں، مصیبتوں اور انکے روپذیر ہونے کی بات بھی کی ہے ،
گل کی شاعری میں اگرچہ بظاہران سارے احوال میں ہمیں دکھ، غم، افسوس۔ بد نصیبی اور درد ہی نظر آتا ہے اور وہ یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتا ہے کہ
میں اپنے درد کی تفسیر بن کر لکھ رہا ہوں
سسکتے خواب کی تعبیر بن کر لکھ رہا ہوں
میں زندانی ہوں تم مجھ سے مری حالت نہ پوچھو
سراپا سورش۔ زنجیر بن کر لکھ رہا ہوں
مرے خاموش ہونٹوں پر ہزاروں ہیں فسانے
کسی گونگے کی میں تحریر بن کر لکھ رہا ہوں
اس انداز تخاطب میں بھی قوم اور وطن کے لئے اشک خوں کے قطروں کے ساتھ دل کے جذبوں کی تڑپ موجود ہوتی ہےجو کچھ کرنے، دیکھنے اور بڑھنے کا سندیسہ دیتی ہے اس میں محبت، امن اور پیار کی خواہش ہوتی ہے اور ان سطور میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے سارے سفر میں ناامیدی کا اظہار کرنے کے باوجود بھی نا امید نہیں ہوا اس نے ہمیشہ بہتری کی دعا کی وہ ہمیشہ اس آس میں رہا،
خدا کبھی تو گل ایسی کرے عطا توفیق
ہر اک برائی کا میں خود ہی سدباب کروں
جب بھی کوئی ایسا وقت آیا جب دکھ کے بادل چھانے لگے تو اس نے نگاہ آسمان پر مرتکز کی یہ ہی وجہ ہے کہ کل کو یعنی قوم کے مستقبل کوجن پرامید نظروں سے دیکھ رہا ہے اور سوچ رہا ہےوہ ہر پاکستانی کی خواہش کا اظہاریہ ہے کہ جسے گل نےعلامت بنا کربڑے سادہ اورواضع الفاظ میں پیش کیا ہے،
فلک سے خوشبو بکھر رہی ہے۔ زمیں کا چہرہ دمک رہا ہے
سحر نمودار ہو رہی ہے، نقاب رخ سے سرک رہا ہے
بظاہر یہ شعر نبی کی آمد کا منظر پیش کر رہا ہےلیکن آپ کی موجودگی آج بھی تو ہم میں ہےہم اگر آپ کو خود سے کبھی الگ نہیں کر سکتے تو پھر ناامید بھی نہیں ہو سکتے لہازا اس تمنا اورسہارے پرہرغم ، ہر دکھ بھول کرخوشی کے نغمات گنگناتے ہیں اور بہتری کوتلاش کرتے ہیں اور یہ ہی گل بخشالوی کا نقطہء نظر ہے وہ بھی اس حقیقت پرنگاہیں جمائے اپنا کام کئے جا رہا ہے اسے یہ امید محکم ہے کہ
مرے چہرے پہ اک گلنار سی توقیر آئے گی
تری آنکھوں میں جب جاناں مری تصویر آئے گی
کہا اقبال سے ہم نے رہے گا جشن چہروں پر
ہمارے خواب کی جب دیس میں تعبیر آئے گی
مہک محسوس دل نگری میں ہوگی رنگ نکھریں گے
جواں جذبوں میں جب احساس کی تنویر آئے گی


