کشتیاں جلاؤ، کتاب اٹھاؤ /سعید الرحمن غرشین

زیر نظر مضمون کو صفحہ قرطاس کرتے وقت مجھے سعادت حسن منٹو کے افسانوں پر لگائے گئے جنسی الزامات یاد آئے۔ یہ ڈر لگا کہ خاکم بہ دہن مجھ پر بھی ارد گرد سے فتووں کی بارش نہ ہو جائے یا میرے کمزور شانے موٹی لاٹھیوں کی زد میں آکر مجھے قبل از وقت مار نہ ڈالیں یا پھر کہیں مجھ پر توہین مذہب کا پرچہ نہ کٹ جائے۔
معاملہ بہ ظاہر چھوٹا سہی؛ مگر سنگین ضرور ہے۔ اس پر کچھ نہ لکھنا ایک صحت مند معاشرے کی بقا کے خلاف غداری سمجھتا ہوں۔ اتنا تو ہر کوئی جانتا ہے کہ معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے۔ اگر فرد کی تربیت بیمار ہو تو معاشرہ تنزل کی طرف بہ آسانی گامزن ہوسکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دریا کا روکنا اتنا دشوار نہیں جتنا کہ ایک بگڑے ہوئے معاشرے کو راہ راست پر لانا ہے ۔
پانی میں ہے آگ لگانا دشوار
بہتے دریا کا پھیر لینا دشوار
دشوار سہی؛ مگر نہ اتنا دشوار
بگڑی ہوئی قوم کو بنانا دشوار
یہ کہنا بجا ہوگا کہ مذہب ، سیاست اور ادب معاشرے کے تین اہم ستون ہیں۔ مذہب معاشرے کو روحانی غذا فراہم کرنے اور سیاست بلا تفريق مادی ضروریات اور وسائل فراہم کرنے کی ضامن ہے۔ ادب ان غذاٶں، ضروریات اور وسائل کے درست استعمال پر کھڑی نظر رکھتا ہے۔ علمائے دین تقریر کے ذریعے عوام الناس کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے ہیں۔ ادیب، ادب کے توسط سے معاشرے کی ناہمواریوں خواہ وہ اخروی ہو یا دنیوی، کو موضوع سخن بناتا ہے؛ تاکہ معاشرہ بگاڑ سے بچ جائے۔
اگر ورق گردانی کی جائے تو دنیا نے ادب اور تقریر کے توسط سے بڑی بڑی فتوحات سر کر لی ہیں۔ باسول ، روسو ، میکسم گورکی، کارل مارکس، آرنلڈ ، اور لینین مغربی ادب کے افق پر ضو فشاں تارے ہیں۔ انھوں نے اپنے کلام کے ذریعے دنیا کا سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نقشہ یک سر تبدیل کر دیا۔ انقلاب روس، مارکسزم، ہندستان سے جاگیرداری نظام کا خاتمہ اور ترقی پسندی یہ سب معاشرے سے بگاڑ کے خاتمے کی عوامی کاوشیں ہیں۔
روسو کا یہ جملہ کہ: ” انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جہاں دیکھے پا بہ زنجیر ہے۔“ باقاعدہ رومانوی تحریک کا پیش خیمہ بنا۔ شبلی نے سیرت النبی، المامون، الغزالی ، الفاروق، وغیرہ لکھ کر مسلمانوں کو اسلامی تاریخ سے آگاہ کیا۔ انگریزی شاعره جبین آسٹن ، ہندی شاعرہ ساورا، کشمیری شاعرہ حبہ خاتون اور دیگر نے اپنے کلام سے تانیثیت کو پروان چڑھایا۔ علی گڑھ تحریک اور انجمن ترقی اردو دونوں نے نہ صرف اردو کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا؛ بل کہ تخلیق پاکستان کے باعث بھی بنے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تقریر اور ادب میں تاثیر ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ سرسید کے مطابق: ”بات وہ جو منہ سے نکلے اور دل میں اتر کر اثر کرے“۔ اسی طرح حالی کے نزدیک اچھی شاعری وہ ہے جو سادگی ، جوش اور اصلیت پر مبنی ہو، اسی طرح وہ مطالعہ کائنات، تخیل اور تفحص الفاظ ایک اچھے شاعر کی خصوصیات بتاتے ہیں۔ شاعر کے حوالے سے تمام تر نقادوں کی حتمی رائے یہ ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کا طوطی نہ بنے۔ اگر وہ کسی سیاسی پارٹی کا پرچار کرے تو وہ آفاقیت کے درجے سے گر کر ان کی شاعری نعرہ زنی کے علاوه اور کچھ نہیں ہوسکتی۔
میں گول مٹول بات سے نکلنے کی ہمت کرتا ہوں اور پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارے مذہبی اسکالرز نے کبھی حالی، شبلی، آزاد، سر سید اور ڈپٹی نذیر احمد کے طرز معاشرے سے بگاڑ ختم کرنے کی جراءت کی ہے ؟ مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کی تقاریر سادگی، جوش اور اصلیت پر مبنی ہو، وسیع مطالعے کا مشتمل ہو اور کسی مخصوص پارٹی کا طوطی نہ ہو، اگر وہ کسی مخصوص پارٹی کا علم اٹھائے تب ان کی تقریر دل میں اترنے اور اثر کرنے کی صلاحيت کھو دیتی ہے۔
یہ امر مسلم ہے کہ ادیب مختلف ادوار میں ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے زمانے کے جبر و ستم، فرقہ بندی، طبقاتی کشمکش ، عدم مساوات، سماجی ناہمواریوں اور ہر قسم کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ہے حتیٰ کہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ انھوں نے کبھی خود کو کسی پارٹی میں ضم ہونے نہ دیا اور نہ ہی قلم کا ساتھ چھوڑا۔
اسی طرح ہمارے سیاستدان منبر پر کھڑے خطبہ دیتے ہوئے دیکھنے کو نہیں ملتے ہیں۔ اچھے ہو یا برے ، سیاسی سمندر کے غواص ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے مذہبی اسکالر ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔
ظاہر ہے ان کے اعصاب پر دنیاوی مفادات سوار ہیں۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو اکثریت نے کتابوں کو طاق میں رکھ کر سیاست کے سمندر میں غوطے لگانا شروع کیا ہے اور اکثر و بیشتر تاجر بن گئے ہیں۔ جس کے باعث ہمارا معاشرہ روحانی غذائی قلت کا شکار ہوگیا ہے۔
میں اپنے اسکالر بھائیوں سے ملتمس ہوں کہ ایک صحت مند اور اسلامی معاشرے کی بقا کی خاطر اپنی کشتیوں کو ساحل سمندر پر جلائیں۔ طاق سے کتاب اٹھا کر منبر کو سنبھال کر کے اسلامی تعلیمات کا پر چار کریں۔ جو سکالر تاجر بنے ہیں وہ کتاب کا ساتھ اور دین کا احیا نہ بھولیں۔ خاکم بہ دہن ایسا نہ ہو کہ ایک دن ہمارا معاشرہ جھوٹ، غیبت، لالچ، طمع، رشوت خوری ، فرقہ واریت، انتہاپسندی، شراب نوشی ، قتل و غارت اور دیگر فتنوں کے لپیٹ میں آئے۔
چراغ تنہا ہے دور پروانے ہوئے
جو تھے اپنے کل وہ بیگانے ہوئے

اپنا تبصرہ لکھیں