کبھی کسی امتحانی ہال کے باہر کھڑے ہو کر طلبہ کی گفتگو سنیں۔ کوئی خوشی سے کہتا ہےکہ”میں نے آٹھ صفحات بھر دیے۔” دوسرا فخر سے جواب دیتا ہے”میں نے تو بارہ صفحات لکھے ہیں، نمبر پکے ہیں۔” حیرت اس بات پر نہیں ہوتی کہ انہوں نے کیا لکھا، حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ کسی کو یہ سوال ہی نہیں سوجھتا کہ “کیا میں نے درست لکھا؟” گویا ہمارے ہاں علم کا پیمانہ خیالات کی گہرائی نہیں بلکہ صفحات کی موٹائی بن چکا ہے۔ یہ صرف امتحانی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی اجتماعی نفسیات ہے جس نے سوچنے کے بجائے دہرانے، سمجھنے کے بجائے یاد رکھنے، اور حقیقت تک پہنچنے کے بجائے الفاظ کے انبار لگانے کو کامیابی کا معیار بنا دیا ہے۔زندگی کا ایک عجیب اصول ہے کہ جہاں مقدار کو معیار پر فوقیت مل جائے، وہاں اصل حسن آہستہ آہستہ دم توڑ دیتا ہے۔ تعلیم میں صفحات کی تعداد بڑھ جائے تو فکر کی روشنی مدھم پڑنے لگتی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے تعلیمی اداروں میں اکثر طالب علم یہ سمجھتے ہیں کہ لمبا جواب، اچھا جواب ہوتا ہے، چاہے اس میں سوال کا اصل جواب کہیں گم ہی کیوں نہ ہو جائے۔
تعلیم کا مقصد کبھی معلومات کا گودام بنانا نہیں تھا۔ تعلیم تو ذہن کو ترتیب دینے، سوال پیدا کرنے، حقیقت تک پہنچنے اور غلط و درست میں فرق کرنے کا نام ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں تعلیم اکثر حافظے کا مقابلہ بن کر رہ گئی ہے۔ بچے کتابیں نہیں پڑھتے، کتابیں انہیں پڑھتی ہیں۔ وہ خیالات پیدا نہیں کرتے بلکہ خیالات کو نقل کرتے ہیں۔ ان کے ذہن آئینے نہیں بنتے جو حقیقت کو صاف دکھا سکیں، بلکہ گودام بن جاتے ہیں جہاں بے شمار معلومات بغیر ترتیب کے جمع ہوتی رہتی ہیں۔یہ المیہ صرف پاکستان یا بھارت تک محدود نہیں، لیکن ہمارے خطے میں اس کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہاں اکثر امتحانات میں طالب علم کو خاموشی سے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر جواب مختصر مگر جامع ہے تو شاید ممتحن متاثر نہ ہو، لیکن اگر صفحات بھر دیے جائیں، اقتباسات شامل ہوں، مشکل الفاظ استعمال ہوں اور ایک ہی بات مختلف انداز میں کئی مرتبہ لکھی جائے تو کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یوں طالب علم یہ سیکھ لیتا ہے کہ اصل مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں بلکہ ممتحن کو متاثر کرنا ہے۔یہ رویہ آہستہ آہستہ صرف امتحان تک محدود نہیں رہتا بلکہ شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر یہی طالب علم دفتر میں رپورٹ لکھتے وقت غیر ضروری تفصیل کو اہمیت دیتا ہے، اجلاس میں اصل مسئلے کے بجائے لمبی تقریر کرتا ہے، فیصلے کرتے وقت بنیادی سوال کو چھوڑ کر ضمنی باتوں میں الجھ جاتا ہے اور زندگی کے بڑے معاملات میں بھی حقیقت تک پہنچنے کے بجائے باتوں کی بھول بھلیوں میں اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ یوں ایک امتحانی عادت پورے معاشرے کی فکری ساخت کو متاثر کرنے لگتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ آخر ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں سوچنے کی آزادی دے رہے ہیں یا صرف یاد رکھنے کی مشق کرا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں اختلاف کرنے کا حوصلہ دے رہے ہیں یا صرف کتابی جملوں کی تکرار کا انعام دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں سوال پوچھنے کی ہمت دے رہے ہیں یا صرف متوقع سوالوں کے متوقع جواب رٹوا رہے ہیں؟دنیا کی ہر بڑی تہذیب نے ترقی اس وقت کی جب اس نے سوال پوچھنے والوں کو عزت دی۔ فلسفہ ایک سوال سے پیدا ہوا، سائنس ایک شک سے آگے بڑھی، تحقیق ایک تجسس سے جنم لیتی ہے اور اختراع ہمیشہ اس ذہن کا مقدر بنتی ہے جو رٹے ہوئے جواب پر اطمینان نہیں کرتا۔ افسوس کہ ہمارا تعلیمی ماحول اکثر اس تجسس کو خاموش کر دیتا ہے۔ جو طالب علم کتاب سے ہٹ کر سوال کرے، اسے بعض اوقات غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور جو لفظ بہ لفظ کتاب دہرا دے، وہ ذہین قرار پاتا ہے۔
انسانی نفسیات بھی ایک دلچسپ حقیقت بیان کرتی ہے۔ جو چیز بغیر سمجھے یاد کی جائے، وہ جلد بھلا دی جاتی ہے، لیکن جو بات سمجھ کر سیکھی جائے، وہ شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ امتحان ختم ہوتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں جو انہوں نے مہینوں رٹا تھا۔ کیونکہ وہ علم ذہن میں داخل تو ہوا، مگر دل و دماغ کی گہرائیوں تک کبھی پہنچ ہی نہ سکا۔اصل علم وہ نہیں جو حافظے میں قید ہو بلکہ وہ ہے جو کردار میں نظر آئے۔ اگر تعلیم کے بعد انسان کا اندازِ فکر تبدیل نہ ہو، اس کی گفتگو میں دلیل پیدا نہ ہو، اس کے فیصلوں میں بصیرت نہ آئے اور اس کے اندر سچ کو پہچاننے کی صلاحیت نہ بڑھے، تو پھر ڈگری صرف کاغذ رہ جاتی ہے، شعور نہیں بنتی۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، تحقیق، اختراع اور تخلیقی معیشت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب کامیابی اس شخص کا مقدر بنتی ہے جو نئی راہ تلاش کرے، نہ کہ صرف پرانی بات دہرا سکے۔ مشینیں معلومات محفوظ کر سکتی ہیں، مگر سوچنے، تخلیق کرنے، سوال اٹھانے اور نئے زاویے تلاش کرنے کی صلاحیت اب بھی انسان کا امتیاز ہے۔ اگر ہمارا نظام تعلیم انسان کو بھی صرف معلومات محفوظ کرنے والی مشین بنا دے تو پھر ہم مستقبل کے مقابلے میں کیسے کھڑے ہوں گے؟بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف تعلیم میں ہی نہیں، زندگی کے کئی شعبوں میں مقدار کے سحر میں گرفتار ہے۔ سوشل میڈیا پرفالورز کی تعداد کردار سے زیادہ اہم ہو گئی ہے، تقریروں کی طوالت عمل سے زیادہ متاثر کرتی ہے، کتابوں کی تعداد مطالعے کی گہرائی پر غالب آ گئی ہے اور الفاظ کا شور اکثر خاموش حکمت کو نگل جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں معلومات بے شمار ہیں مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔
تاریخ کے عظیم مفکرین نے ہمیشہ ایک ہی سبق دیا کہ وضاحت سب سے بڑی ذہانت ہے۔ الجھا کر بات کرنا نسبتاً آسان ہے، مگر پیچیدہ حقیقت کو سادہ الفاظ میں بیان کرنا غیر معمولی ذہنی پختگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد وہ نہیں جو طلبہ کو مشکل اصطلاحات سے مرعوب کر دے، بلکہ وہ ہے جو مشکل ترین تصور کو اس طرح سمجھائے کہ ایک عام ذہن بھی اس کی روشنی محسوس کر سکے۔بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ماحول میں بعض اوقات مشکل زبان کو علم اور سادہ زبان کو کم علمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دریا جتنا گہرا ہوتا ہے، اتنا ہی خاموش بہتا ہے۔ شور اکثر وہاں زیادہ ہوتا ہے جہاں گہرائی کم ہو۔
ہمارے اساتذہ بھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ ان پر نصاب ختم کرنے کا دباؤ ہے، امتحانی نتائج کا بوجھ ہے اور وقت کی قلت ہے۔ مگر شاید اب وقت آ گیا ہے کہ استاد صرف کتاب ختم کرنے والا فرد نہ رہے بلکہ ذہن روشن کرنے والا رہنما بنے۔ وہ طالب علم کو جواب نہ دے بلکہ سوال پیدا کرے۔ وہ رٹوانے کے بجائے سوچنے کی دعوت دے۔ کیونکہ قومیں نصاب سے نہیں، اساتذہ کے وژن سے بنتی ہیں۔والدین کو بھی اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا۔ اگر گھر میں صرف یہ پوچھا جائے کہ “کتنے نمبر آئے؟” تو بچہ نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جائے گا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ “آج تم نے کیا نیا سمجھا؟” تو اس کے اندر علم کی حقیقی محبت پیدا ہوگی۔ بچے ہماری باتوں سے کم اور ہماری ترجیحات سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے آنے والے زمانے کے لیے ایسے نوجوان تیار کر رہے ہیں جو مسائل حل کریں، یا ایسے افراد جو صرف امتحانی کاپیاں بھر سکیں؟ کیا ہمارے فارغ التحصیل نوجوان بدلتی دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں یا وہ اب بھی متوقع سوالوں کے متوقع جواب تلاش کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے انہیں اختلاف کے آداب سکھائے ہیں یا صرف اتفاق کی عادت؟شاید اصل بحران نصاب کا نہیں، سوچ کا ہے۔ جب تک ہم تعلیم کو حافظے کا مقابلہ سمجھتے رہیں گے، تب تک تخلیقی ذہن پیدا نہیں ہوں گے۔ جب تک سوال کرنے والے کو گستاخ اور رٹنے والے کو ذہین سمجھا جائے گا، تب تک اختراع خواب ہی رہے گی۔ جب تک ہم بچوں کو یہ سکھاتے رہیں گے کہ زیادہ لکھو، کم سوچو، تب تک معاشرہ بھی زیادہ بولے گا اور کم سمجھے گا۔
اگر کل کے امتحانات میں ہر طالب علم کو صرف ایک صفحہ لکھنے کی اجازت دے دی جائے، تو کیا ہمارے تعلیمی ادارے ایسے ذہن تیار کر چکے ہیں جو ایک صفحے میں پوری دلیل، واضح سوچ اور مضبوط استدلال پیش کر سکیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو ہمیں نصاب بدلنے سے پہلے اپنی فکری ترجیحات بدلنی ہوں گی۔قوموں کی تقدیر لمبی تحریروں سے نہیں، گہری سوچ سے بدلتی ہے۔ صفحات بھرنے والے ہاتھ وقتی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، مگر تاریخ انہی ذہنوں کے نام یاد رکھتی ہے جو شور میں بھی حقیقت کو پہچان لیتے ہیں، پیچیدگی میں بھی سادگی تلاش کر لیتے ہیں اور کم الفاظ میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو صدیوں تک انسان کے شعور میں گونجتی رہتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو زیادہ لکھنا نہیں، بہتر سوچنا سکھانا ہوگا، کیونکہ مستقبل قلم کی رفتار سے نہیں، فکر کی روشنی سے تعمیر ہوتا ہے۔


