آج دنیا بھر میں یوم آبادی منایا جا رہا ہے، اور یہ دن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ہر اس قوم کے لیے ایک سنجیدہ محاسبے کا موقع ہے جو اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو۔ پاکستان کے لیے یہ محاسبہ محض علامتی نہیں رہا بلکہ وجودی نوعیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ ہماری آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، وہ رفتار اب کسی معمولی چیلنج کا نہیں بلکہ ایک قومی بحران کا پیش خیمہ ہے۔ ہر سال تقریباً پچاس لاکھ نفوس کا اضافہ کوئی معمولی عدد نہیں، یہ گویا ہر برس ایک نیا شہر آباد ہو جانا ہے، اور اس نئے شہر کو خوراک، تعلیم، صحت، رہائش اور روزگار درکار ہوتا ہے، جبکہ ہمارے وسائل پہلے سے موجود آبادی کے لیے بھی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
اس آبادی کے دباؤ کا پہلا اور سب سے قریبی اظہار گھر کی سطح پر ہوتا ہے۔ جس گھرانے کے وسائل محدود ہوں اور اولاد کی تعداد ان وسائل سے کہیں زیادہ ہو، وہاں فطری طور پر ہر بچے کا حصہ کم ہو جاتا ہے، نہ خوراک متوازن رہتی ہے، نہ تعلیم کے مواقع برابر ملتے ہیں، اور نہ ہی صحت و صفائی کا معیار برقرار رہ پاتا ہے۔ یہ محض کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں گھرانوں کی مجموعی صورتحال ہے جو مل کر قومی سطح پر ایک عظیم بوجھ بن جاتی ہے، اور یہی بوجھ بالآخر ریاست کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔
قومی سطح پر دیکھا جائے تو صحت کا شعبہ سب سے پہلے اس دباؤ کی زد میں آتا ہے۔ ہمارے ہسپتال پہلے ہی مریضوں کے رش سے نڈھال ہیں، ڈاکٹروں اور مریضوں کا تناسب عالمی معیار سے کہیں پیچھے ہے، اور زچہ و بچہ کی نگہداشت جیسی بنیادی سہولیات بھی بیشتر علاقوں میں ناپید ہیں۔ آبادی میں ہر نیا اضافہ اس نظام پر مزید بوجھ ڈالتا ہے، یہاں تک کہ ایک ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جہاں یہ نظام مکمل طور پر جواب دے جائے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اسی نوعیت کے چیلنج سے دوچار ہے، سکولوں کی عمارتیں، اساتذہ کی تعداد اور نصاب کا معیار ہر سال داخل ہونے والے کروڑوں نئے بچوں کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں بچے سرے سے تعلیم کے دائرے میں داخل ہی نہیں ہو پاتے، اور جو داخل ہوتے ہیں انہیں بھی معیاری تعلیم میسر نہیں آتی۔
انفراسٹرکچر اور توانائی کا معاملہ اس سے مختلف نہیں۔ سڑکیں، پل، ریلوے اور شہری منصوبہ بندی، سب کچھ ایک مخصوص آبادی کے تناسب سے تیار کیا جاتا ہے، مگر جب آبادی اس تناسب سے کہیں تیزی سے بڑھتی ہے تو یہ سارا ڈھانچہ ناکافی ثابت ہونے لگتا ہے۔ بجلی اور گیس کی فراہمی پہلے ہی طلب اور رسد کے فرق کا شکار ہے، اور بڑھتی ہوئی آبادی اس فرق کو مزید وسیع کرتی چلی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام شہروں میں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور دیہی علاقوں میں بنیادی رابطے کی سہولت آج بھی خواب سے کم نہیں۔ صفائی ستھرائی اور نکاسی آب جیسی بنیادی یوٹیلیٹیز کا حال بھی مختلف نہیں، شہری علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اور گندے پانی کی نکاسی نہ ہونا ایک عام منظر بن چکا ہے، جبکہ آبادی میں اضافہ ان مسائل کو مزید گھمبیر بناتا جا رہا ہے۔
اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ تمام مسائل مل کر ایک ایسی انسانی المیے کی صورت اختیار کر لیں گے جو ہمارے قابو سے باہر ہو جائے گا۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک منطقی نتیجہ ہے، جب وسائل محدود ہوں اور طلب لامحدود انداز میں بڑھتی چلی جائے تو نظام کا انہدام وقت کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے، سماجی بے چینی جنم لیتی ہے، اور معاشی ترقی کے تمام امکانات آبادی کے اس سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال بالآخر پاکستان جیسی ریاست کے لیے ایک وجودی خطرہ بن سکتی ہے، جہاں وسائل کی کمی اور آبادی کی زیادتی مل کر ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرتے چلے جائیں۔
اس بحران سے بچنے کے لیے سب سے پہلی رکاوٹ وہ ذہنی رویہ ہے جو مذہب کے نام پر آبادی کے کنٹرول کی مخالفت کرتا ہے، حالانکہ یہ رویہ نہ علمی بنیاد رکھتا ہے اور نہ ہی زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحث کو جذباتی نعروں اور روایتی تحفظات سے نکال کر خالص سائنسی اور معروضی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ آبادی کی منصوبہ بندی کوئی ایسا معاملہ نہیں جسے محض انفرادی پسند و ناپسند پر چھوڑا جا سکے، بلکہ یہ ایک قومی ضرورت ہے جس کے لیے واضح اور قابل عمل پالیسی درکار ہے۔
اسی تناظر میں دو بچوں کی پالیسی کو ایک باقاعدہ قانونی اور انتظامی ضابطے کے ذریعے نافذ کرنا وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے۔ یہ پالیسی نہ کسی پر جبر ہے اور نہ ہی انفرادی آزادی میں بےجا مداخلت، بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا ہے جو ہر شہری کو اس قومی بقا کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ جس طرح ٹریفک کے قوانین یا ٹیکس کے ضوابط اجتماعی مفاد میں انفرادی آزادی کو ایک حد تک محدود کرتے ہیں، بالکل اسی طرح آبادی کے ضابطے بھی قومی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
اس پالیسی کے نفاذ میں ایک اہم پہلو احتساب کا بھی ہونا چاہیے۔ جن گھرانوں میں دو سے زائد بچے موجود ہیں، ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، تربیت، صحت، صفائی اور متوازن خوراک کیسے یقینی بناتے ہیں۔ یہ سوال کسی تضحیک یا سرزنش کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پوچھا جانا چاہیے، کیونکہ اولاد پیدا کرنا محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس کے تقاضے پورے کرنا ہر والدین پر لازم ہے۔ جو گھرانے اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے لیے واضح مالی یا انتظامی سزائیں مقرر کی جانی چاہئیں، تاکہ یہ رویہ ایک عبرت بن جائے۔
اس طرح کی سختی بظاہر شدید معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی کوئی قیمت نہ چکانی پڑے تو وہ رویہ مزید پروان چڑھتا ہے۔ اگر یہ واضح ہو جائے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے کے بعد ان کی تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کا خیال نہ رکھنا قابلِ جوابدہی ہے، تو کوئی بھی شخص محض جذباتی یا روایتی وجوہات کی بنا پر بے دریغ اولاد پیدا کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس سے نہ صرف بچوں کی زندگی بہتر ہو گی بلکہ ماؤں کی صحت بھی محفوظ رہے گی، جو اکثر متواتر زچگی کے باعث شدید جسمانی اور نفسیاتی نقصان کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ آبادی کی منصوبہ بندی کا مقصد کسی طبقے یا علاقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پوری قوم کی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس پالیسی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم، مفت تولیدی صحت کی سہولیات اور تعلیمی نصاب میں آبادی کے موضوع کو شامل کرے، تاکہ یہ پالیسی محض جبر کے بجائے شعور کی بنیاد پر بھی قبولیت حاصل کرے۔ مذہبی طبقے کو بھی اس بحث میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی لاپرواہی سے اولاد میں اضافے کی ترغیب نہیں دی گئی بلکہ والدین کی ذمہ داریوں پر بارہا زور دیا گیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ آبادی کا بحران پاکستان کے لیے کسی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجود حقیقت ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس بحران کو ایک قومی ترجیح کے طور پر حل کریں یا اسے مذہبی و روایتی حساسیت کے پردے میں چھپا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک ناقابلِ حل مسئلہ بنا دیں۔ یوم آبادی کا یہ موقع محض اعداد و شمار کے تبادلے کا دن نہیں بلکہ اس عزم کی تجدید کا دن ہونا چاہیے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک متوازن، محفوظ اور باوقار مستقبل دینے کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی سخت مگر ضروری فیصلے کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔


