بھارتی جوہری پروگرام میں نقب زنی: مجرمانہ غفلت، چور بازار اور خطے پر منڈلاتے تباہی کے بادل / قادر خان یوسف زئی

جنوبی ایشیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہمیشہ سرحدوں پر ہونے والی گولہ باری کی صورت میں نہیں بجتی۔ بعض اوقات یہ ایک ایسی خبر کی شکل میں آتی ہے جو بظاہر خاموش ہوتی ہے لیکن اس کے اثرات کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہوتے۔ کڈانکولم جوہری پلانٹ سے متعلق ہزاروں انتہائی حساس فائلوں کا انٹرنیٹ پر منظرِ عام پر آنا ایک ایسا ہی چشم کشا واقعہ ہے۔ یہ محض سائبر سکیورٹی کی ناکامی نہیں، بلکہ بھارتی حکومت کی اس تسلسل کے ساتھ جاری مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہے جس نے پورے خطے کے امن اور سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ اس ڈیجیٹل دراندازی کی نوعیت کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایک سائبر گروہ نے تقریباً انیس ہزار فائلیں آن لائن جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں مبینہ طور پر انجینئرنگ کے نقشے، فراہم کنندگان کی معلومات، معائنے کی تفصیلات اور تکنیکی جائزے شامل ہیں۔ اگرچہ متعلقہ انفراسٹرکچر کمپنی نے اپنے بیرونی ڈیجیٹل نظام میں “نقب” لگنے کا اعتراف کیا ہے، لیکن بھارتی جوہری توانائی کارپوریشن کے حکام ہمیشہ کی طرح حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ یہ مواد “عمومی نوعیت” کا ہے اور اس کا جوہری سلامتی سے کوئی تعلق نہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارتی حکومت کے “سب اچھا ہے” کے بیانیے پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ بھارت کا ماضی ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے جو اس کے جوہری پروگرام کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں ماضی میں کئی بار یورینیم اور دیگر تابکار مواد کی چوری اور کھلے عام فروخت کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جب ایک ریاست اپنے جوہری مواد کو بلیک مارکیٹ میں بکنے سے روکنے میں ناکام رہی ہو، تو اس کی جانب سے ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ کے دعوے کھوکھلے اور مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ فزیکل سکیورٹی میں ناکامی کے بعد اب ڈیجیٹل سکیورٹی میں یہ دراندازی ثابت کرتی ہے کہ بھارتی جوہری تنصیبات کا حفاظتی نظام ریت کی دیوار سے زیادہ کچھ نہیں۔

جدید دنیا میں بڑی تباہی ہمیشہ چھوٹی دراڑوں سے شروع ہوتی ہے۔ جب کسی حساس تنصیب کے داخلی راستوں کے نقشے، آلات کی تفصیلات، سپلائی چین کے راز اور اندرونی مواصلاتی خطوط باہر آ جائیں، تو تخریب کاروں کا آدھا کام خود بخود آسان ہو جاتا ہے۔ غلط نیت رکھنے والے عناصر کے لیے یہ معلومات ایک مکمل گائیڈ بک کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ بخوبی جان سکتے ہیں کہ کس کمزور کڑی کو نشانہ بنانا ہے، کس بیرونی ٹھیکے دار کے ذریعے نظام میں داخل ہونا ہے، اورری ایکٹرتک رسائی کے لیے کون سا ڈیجیٹل چور دروازہ استعمال کرنا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں سلامتی کا پیمانہ صرف اونچی دیواریں، خاردار تاریں اور پہرے دار نہیں ہیں۔ اب اگر کسی حساس منصوبے کے گرد فولادی حصار بھی موجود ہو، تب بھی اس کی سب سے بڑی کمزوری بیرونی ڈیجیٹل نظام ، دور دراز سے رسائی اور متعلقہ کمپنیوں کے غیر محفوظ نیٹ ورکس میں چھپی ہوتی ہے۔ کڈانکولم کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت کا ڈیجیٹل اور جوہری دفاعی نظام انتہائی بوسیدہ اور ناقابلِ اعتبار ہے۔

یہ معاملہ اب بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں رہا۔ کڈانکولم یا کسی بھی بھارتی جوہری تنصیب میں ہونے والا کوئی بھی حادثہ، چاہے وہ غفلت کا نتیجہ ہو یا تخریب کاری کا، صرف بھارتی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جوہری تابکاری پاسپورٹ اور ویزے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اربوں انسانوں کی آبادی والے اس خطے کو بھارت کی نااہلی کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔

بھارتی حکومت بار بار ناکام ہو رہی ہے، اور اس کی یہ مسلسل ناکامیاں جنوبی ایشیا کو ایک بڑے سانحے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اور بالخصوص بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی جیسے عالمی ادارے اپنی مجرمانہ خاموشی توڑیں۔ بھارت کی جوہری تنصیبات کے حفاظتی نظام، چاہے وہ طبعی ہوں یا ڈیجیٹل، کا غیر جانبدارانہ اور سخت بین الاقوامی آڈٹ ہونا چاہیے۔ اگر عالمی اداروں نے اب بھی بھارتی غفلت پر آنکھیں
بند کیے رکھیں، تو کل کسی بڑے جوہری سانحے کی صورت میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں