لطیف جذبوں کا بے باک افسانہ نگار : ڈاکٹر سید زبیر شاہ/ کتاب: شوگر ڈیڈی/ تبصرہ : اظہر سجاد

عصرِ حاضر میں اُردو افسانہ وجودیت، علامت، تجرید، متنوع موضوعات اور امکانات کی تلاش میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ قاری کے سامنے داخلی و خارجی دُنیا اور شعور و لاشعور کی وسیع کائناتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا شمار بھی اُنھی لکھاریوں میں ہوتا ہے جو وجودیت، لایعنیت اور ماورائے حقیقت تصورات سے بھی آگے کی سوچ رکھتے ہیں۔ سید زبیر شاہ کے اِس سے قبل دو افسانوی مجموعے خوف کے کتبے اور یخ بستہ دہلیز اور ایک سفر نامہ خواب نگر میں سات دن چھپ کر ادبی حلقوں سے داد و تحسین حاصل کر چُکے ہیں۔ مجھے وہ تصانیف پڑھنے کا موقع نہیں مِلا تاہم ان کےحال ہی میں شائع ہونے والا افسانوی مجموعے ”شوگر ڈیڈی“ کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا۔ زبیر شاہ جیسے مشکل پسند لکھاری کو سمجھنا خاصا مشکل کام ہے، کیوں کہ اِن کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے تاریخ، طب، نفسیات اور سائنس کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات ضروری ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ زبیر شاہ کا اہم مُخاطَب معاشرے کا وہ پڑھا لکھا، حساس اور ترقی پسند طبقہ ہے جو معاشرتی سدھار اور سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کر تو سکتا ہے، مگر کر نہیں رہا۔
زیر ِ نظر افسانوی مجموعے ”شوگر ڈیڈی“ میں تیرہ افسانے اور دو پشتو تراجم شامل ہیں۔ کتاب میں خالد فتح محمد اور نیٔر اقبال علوی کے جامع تبصرے پڑھنے لائق ہیں۔ کتاب کو زبیر شاہ نے اپنے بڑے بھائی بادشاہ خان کے نام منسوب کیا ہے، جو کرونا وباء میں جاپان میں وفات پاگئے تھے اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ کتاب کے عنوان ”شوگر ڈیڈی“ سے بظاہر یوں لگتا ہے جیسے جنسیات کو موضوع بنایا گیا ہوگا، مگر ایسا نہیں ہے۔ اِن افسانوں میں جنسی اور جذباتی گھٹن کے ساتھ ساتھ مذہب، اخلاقیات، جدیدیت اور فرسودہ نظریات کو بھی افسانوی رنگ بخشا گیا ہے۔ انفرادی طور پر دیکھا جائے تو پہلے افسانے ”تعبیرِ خواب“ میں انتظار حسین، احمد ہمیش، سموئیل احمد اور دیگر مصنفین کا ذکر زبیر شاہ کے فطری میلان کے ساتھ ساتھ اُن کے ادبی سفر اور درست سمت کی تلاش کا عندیہ دیتا ہے۔ ایک اقتباس دیکھیں: ” انتظار حسین اور احمد ہمیش کو دل ہی دل میں کوستا رہا کہ خود اپنی روشنیوں میں غائب ہو کر مجھے اِس لامحدود تاریکیوں کے بلیک ہول میں پھینک دیا، جو میری رہی سہی روشنی بھی ہڑپ کر گیا۔“
اِسی طرح ”رنگوں میں اُترا درد“ میں ہم ایک فلیٹ میں بِکھرے مصور کا نیا اور منفرد کردار دیکھتے ہیں جو ماضی اور حال کے دو رُخوں میں بٹا ہوا ہے۔ ”پہیہ جام اور ٹانگیں“ ایک بہت اہم افسانہ ہے۔ اِس میں وبا ء کے کرب سے گزرتی انسانیت کا تذکرہ ایک نئے زاویے سے کیا گیا ہے۔ ایک اور افسانے ”خطوں میں لپٹی کہانی“ بہت دلچسپ اور فکر انگیز ہے ۔ زبیر شاہ نے اِس افسانے میں ممنوعہ اور مکروہ (معاشرتی نظر میں) مگر سچے جذبات کو بڑے لطیف اور دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ بیانیہ خاصا دلچسپ ہے اور لگتا ہے کہ اِس سے پہلے شاید ہی کسی نے اِس مہارت سے برتا ہو۔ یہ ایسا موضوع ہےجس کا تذکرہ ایک قدامت پسند معاشرے میں ناممکن ہے۔ اِس افسانے کا ایک غور طلب جملہ دیکھیں: “میں اپنے ساتھ لوگوں کے رویے دیکھتا ہوں تو خود پر بار بار سوچتا ہوں اور “احسنِ تقویم“کے معنی اپنے اندر کھوجتا ہوں۔”
ہمارے معاشرے میں جذباتی اور جنسی گُھٹن وحشت اور کئی جرائم کا باعث بنتی ہے۔ یہ موضوع منٹو کے ہاں بکثرت پایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں حلقہ اربابِ ذوق کھوڑ کے معروف شاعر عمران بشیر نے بھی اِسی نوعیت کے المیے کو ایک افسانے “ قبر کشائی” میں عمدگی سے برتا۔ مگر زبیر شاہ نے“وجود کی قبر میں دفن وحشتیں” میں تشنہ اورترستی ہوئی جنسی خواہشات کو چونکا دینے والا انجام دے کر قاری کو حیرت زدہ کیا ہے۔ افسانے کے اِختتامی جملے دیکھیں: ”اہلِ علاقہ کی پریشانی اور اپنی فراغت کے سبب اسفند نے بھائیوں سے اجازت سے قبرستان کا رُخ کیا، تو اسفند کے ساتھ اہلِ علاقہ نے بھی سُکھ کا سانس لیا کہ اُن کو بہ یک وقت گورکن اور چوکیدار مل گیا تھا۔ “
کتاب کا مرکزی افسانہ ”شوگر ڈیڈی“ ایک ایسا بے مثال افسانہ ہے جس میں ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے مقامی سطح سے بلند ہو کر ماحول اور کرداروں کو آفاقی رنگ دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اساطیری حوالے نے قدرتی جنسی میلان پر مبنی اس کہانی کو اور بھی مضبوط بنا دیا ہے۔ کرداروں کے نام اور مقام بھی آفاقیت رکھتے ہیں۔ افسانے کا انجام بھی چونکا دینے والا ہے: ”جس وقت وہ ایک دوسرے سے راستے الگ کرنے کا آخری فیصلہ کر چکے، عین اُسی وقت ایک چرچ میں اسد اپنی محبوبہ سارا سے شادی کرنے میں مصروف تھا۔“ ایک اور افسانے ”بے بسی کے غبار میں سانس لیتی زندگی“ میں مذہبی طور پر معاشرے کے منافقانہ طرزِ عمل کو بہت خوبصورتی سے اُجاگر کیا گیا ہے۔جب کہ”زندہ موہنجوداڑو“ میں شکوک کا شور، ابہام کے سائے اور مفادات کا سکوت بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ زبیر شاہ روایت ، تاریخ اور موجودہ میڈیائی دور کو ساتھ لے کر چلتا ہے ۔ افسانے”گم شدہ“میں میڈیا کی چکاچوند اور کشش میں تحلیل ہوتی محبتیں اور دم توڑتی روایتوں کا بھیانک انجام واضح نظر آتا ہے۔اِسی طرح ”معنی ”بے معنی“میں لایعنیت کا رنگ نمایاں ہے اور اِس افسانے کا انجام بھی ششدر کر دینے والا ہے۔ دیکھیں: ”سلاخوں کو تالا لگاتے وقت میں نے ڈاکٹر نبیل کو ایک لمحے کے لیے روکا اور بابا جان کے ساتھ اندر جا کر تالا بند کرنے کا اشارہ کیا۔“
”لذتِ ناتمام“میں انسانوں کے درمیان ازل سے کھڑی دیوار اور نسلوں تک چلتی دشمنیوں کا ذکر ہے۔درج ذیل پیرا گراف میں افسانہ نگار نے جس انداز میں المیے کا ذکر کیا ہے وہ بیک وقت سوال بھی ہے اور جواب بھی: ”المیہ یہ تھا کہ بظاہر ان میں سے کوئی بھی موت سے بھاگنے والا نہ تھا لیکن اس غیر حقیقی سچائی کا اصل سچ یہی تھا کہ اپنے آپ سے بھاگتے بھاگتے ان کی عمریں گزر جاتی تھیں۔ وہ ققفس کی مانند اپنی آواز سے بھڑکنے والی اپنی ہی آگ میں جل کر راکھ ہوتے اور پھر اسی راکھ سے دوبارہ جنم لے کر نئی آگ کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیں۔ یوں لگتا تھاکہ قدرت نے اس المیہ ڈراما کے لیے خود ہی اس خطے کو مخصوص کیا تھا۔“
ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوں میں پاکستانی ادب کی سچی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان افسانوں میں کہیں فلیش بیک تو کہیں یادِ ماضی کی تکنیک اپنائی گئی ہے۔ زبان اگرچہ سادہ ہے، مگر جملوں کی تہہ داری اور گہرائی، آئس برگ ( تھیوری) کا کام کرتی ہے”معنی“ بے معنی۔“ میں کہتے ہیں: ” آخر معنی کی تلاش میں ہم خود کو کتنا بے معنی کرتے جائیں گے؟“ اِسی طرح، ” پہیہ جام اور ٹانگیں“ کا یہ جملہ دیکھیں: ”یہاں کے باسی علم و شعور کے ٹمٹماتے دیوں کی زرد روشنی میں راستوں کو ٹٹول کر منزل کی سمت کا تعین کرتے تو سنگ و خار سے ان کے زخمی پیر لڑکھڑانے لگ جاتے۔ “
اِن کہانیوں میں اگرچہ کردار کم ہیں، مگر تمام کردار انتہائی مضبوط اور پر اثر ہیں۔ کہیں کہیں تحریر میں ابہام بھی نظر آتا ہے جو قاری کو الجھن میں ڈال دیتا ہے، اسی لیے یہ افسانے ایک ہی قرأت میں سمجھ نہیں آتے، مگر جب ان کی تہیں کھلتی ہیں تو یہ قاری کو ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ زبیر شاہ کا فکری کینوس اگرچہ متنوع اور وسیع ہے مگر واضح طور پر اخلاقیات، مذہب، شناخت اور کائنات میں بٹا ہوا نظر آتا ہے: چند مثالیں قابلِ توجہ ہیں:
”اسی حواس باختگی کا نتیجہ ہے کہ ایک طرف سرحدوں پر لفظوں کی سرد جنگ شروع ہوئی تو دوسری طرف ایمان و یقین کے امتحان میں عقیدے مسمار ہونے لگے۔ خدا کے ہر راز اور ہر بھید کی نئی نئی تاویلیں سامنے آنے لگی تھیں۔“(پہیہ جام اور ٹانگیں)
”یہی وجہ ہے کہ اخلاقیات کے تمام نیزے، مذہب کی تلوار اور عزت و ناموس کی تمام بندوقیں ایک ایک کر کے بے کار ثابت ہوتی جا رہی تھیں۔“(وجود کی قبر میں دفن وحشتیں)
”ایک مضبوط ارادے نے اس کے اندر ایک ایسے عبادت خانے کی شکل اختیار کر لی جہاں مذہب، عقیدے اور جنس کی تفریق نہ تھی اور جس کے دروازے سب کے لیے یکساں کھلے تھے۔“(شوگر ڈیڈی)
سید زبیر شاہ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ ان کے ہر افسانے کا آغاز فکر انگیز اور انجام چونکا دینے والے جملے سے ہوتا ہے۔ افسانہ ”پہیہ جام اور ٹانگیں“ کا پہلا جملہ ہے ، نوٹ: ”راوی کا کہنا ہے کہ اس کہانی میں کہانی کو تلاش نہ کیا جائے۔“ اِسی طرح ”شوگر ڈیڈی “ کا آغاز دیکھیں: ”کمرے میں قید سناٹے کی گھٹن سے دیوار پر لگی ہونیں گھڑی کی سانس رک چکی تھی اور ”معنی “ بے معنی” کا فکر انگیز آغاز دیکھیں: ”جبر کے موسم میں خوشبو کے پیمبر کا انتظار، حماقت ہے لیکن معجزوں کا تیقن سولی پر لٹکائے رکھتا ہے۔“
جہاں تک منظر نگاری کا تعلق ہے ، منظر کو لفظوں سے پینٹ کرنے میں سید زبیر شاہ کو خصوصی ملکہ حاصل ہے: افسانہ”پہیہ جام اور ٹانگیں“ کا ایک منظر دیکھیں: ”جھیل کے شفاف آئینے میں یہاں کا سورج تختِ فلک سے دن بھر خود کو تکتا رہتا اور رات کو جب چاند اس کے میٹھے ٹھنڈے پانی میں غسل کرنے اترتا تو دیر تک پانی میں پاؤں ڈال کر چاندنی کی پازیب سے ’چھن چھنا چھن‘کی موسیقی سے ایسا سماں باندھ لیتا کہ آسمان کے ستارے اس نظارے میں کھو جاتے اور پانی کے کنارے موجود چمن میں سفید مور چاند کے نور میں نہا کر محوِ رقص ہو جاتے۔
یہ حقیقت ہے کہ افسانہ نگار اپنی خوشی اور غم کے ساتھ ساتھ دوسروں کے دکھ درد اور محسوسات میں جیتا ہے۔ اپنی ذات سے نکل کر جب وہ ایک آدم کی شکل میں ڈھل کر کہانی بُنتا ہے تو اُس کے ذہن میں کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ کسی بھی افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ قاری کے ذہن میں سوالات کو جنم دے۔ زبیر شاہ نے بھی اپنے افسانوں میں کچھ ایسے سوالات اُٹھائے ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو انسان کبھی خود سے، کبھی معاشرے سے اور کبھی تقدیر سے کرتا ہے: ”رنگوں میں اُترا درد“ کا ایک سوال دیکھیں: ”آپ کے ہاتھ سے ایک بیماری دوسری بیماری میں ملی تو کتنی بدرنگی پیدا کر گئی۔ کیا یہ دنیا محض رنگوں میں نہیں ڈھل سکتی؟“ افسانہ ”شوگر ڈیڈی “ میں مرکزی کردار کا ایک سوال جو معاشرے کی منافقت پر طنز بھی ہے: ”تو کیا اپنی تنہائیوں میں اپنا ہی قتل ہم پر لازم ہو چکا ہے؟“ اور ”گُم شدہ “ میں آج کا اِنسان جب تگ و دو کے بعد تھک ہار کر میڈیائی ظلم کا شکار ہوتا ہے تو خود سے سوال کرتا ہے: ”کیا میرے گھر میں موجود یہ لوگ استعمار اور نوآبادکاروں کی نیی صورت ہے جو میری زندگی، میرا وجود، میری کمائی چاٹ گے ہیں۔“
اِ س چھوٹی سی تحریر میں ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے فکروفن کا احاطہ کرنا یقیناً ناممکن ہے۔ تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی بھی امر مانع نہیں کہ زبیر شاہ عصرِ حاضر کا ایک اہم اور منفرد افسانہ نگار ہے ۔اِنھوں نے علامت، استعارہ، کنایہ اور تشبیہ جیسی اصناف اور دیگر ادبی محاسن کو اپنے افسانوں میں چابک دستی اور انتہائی مہارت کے ساتھ برتا ہے۔ اُمید ہے آئندہ بھی ڈاکٹر سید زبیر شاہ کی خوبصورت اور منفرد تخلیقات اُردو ادب کے وقار میں اضافے کا سبب بنتی رہیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں