محبت، جنون اور مردہ نفسیات: سائیکو اینالیسس کیا کہتی ہے؟-ندا اسحاق

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس پر صدیوں سے شاعروں، ادیبوں اور فلاسفرز نے لکھا ہے، لیکن جب ہم اسے نفسیات اور خاص طور پر سائیکو اینالیسس (Psychoanalysis) کی عینک سے دیکھتے ہیں، تو اس کا ایک بالکل مختلف اور چونکا دینے والا رخ سامنے آتا ہے۔ جدید نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کو اپنے طویل کلینیکل تجربے میں اگر کسی مریض سے سب سے زیادہ چڑچڑاہٹ یا اریٹیشن ہوتی تھی، تو وہ وہ انسان ہوتا تھا جو محبت میں مبتلا ہو۔
​فرائڈ کا ماننا تھا کہ محبت کچھ اور نہیں بلکہ ایک ٹیمپریری سائیکوسس (Temporary Psychosis) یعنی ‘عارضی پاگل پن’ ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں انسان کا حقیقت کے ساتھ رابطہ (Reality Contact) اور عقل و لاجک (Rational Thinking) مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ شاعری میں جسے ہم دیوانگی، جنون یا اوبسیشن (Obsession) کہتے ہیں، نفسیات میں وہ دراصل عقل کا مفلوج ہو جانا ہے۔
​محبت یا اپنے درد سے فرار؟ (Distraction from Trauma)
​سگمنڈ فرائڈ نے اپنے کلینیکل تجربات کے دوران ایک عجیب مظہر (Phenomenon) دیکھا۔ جب بھی ان کے مریض اپنے کسی گہرے ماضی کے زخم، ٹروما یا تکلیف دہ یادوں پر کام کرنے سے بھاگنا چاہتے، تو انہیں اچانک اپنے ہی سائیکو اینالسٹ سے محبت ہو جاتی۔ نفسیات کی زبان میں اسے ایروٹک ٹرانسفرنس (Erotic Transference) کہا جاتا ہے۔
​فرائڈ کہتے ہیں کہ یہ حقیقی محبت نہیں ہوتی، بلکہ ایک ڈسٹریکشن (Distraction) یعنی دھیان بھٹکانے کا طریقہ ہے۔ جب انسان کو اپنے اندر کی گہری تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کا ذہن اس تکلیف دہ کام سے بچنے کے لیے محبت کی پناہ لے لیتا ہے تاکہ عارضی طور پر سکون مل سکے۔ ہماری عام زندگی میں بھی شدید محبت اکثر اسی بات کی علامت ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ سے اور اپنے اندرونی درد سے بھاگ رہے ہیں۔
​مردہ نفسیات کا تصور (The Dead Psyche & Limerence)
​سائیکو اینالیسس میں ایک بہت اہم اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے ‘ڈیڈ سائیکی’ (Dead Psyche) یعنی مردہ نفسیات کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان کی نفسیات ایک قبرستان بن جاتی ہے، جہاں اس کے اصل جذبات، خواہشات، اور حقیقی وجود (Authentic Self) دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔
​ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی بڑی وجہ بچپن کے تلخ تجربات اور ‘ڈیڈ مدر تھیوری’ (Dead Mother Theory) ہے۔ یہاں ‘مردہ ماں یا باپ’ سے مراد جسمانی موت نہیں، بلکہ وہ والدین ہیں جو خود اپنے کسی جنریشنل ٹروما، غم یا شدید ڈپریشن کی وجہ سے اپنے بچے کو وہ جذباتی توجہ اور محبت نہیں دے پاتے جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پلے بڑھنے والے بچے کی نفسیات اندر سے جم (Freeze) جاتی ہے۔
​اب جب یہ بچہ بڑا ہوتا ہے، تو اپنے اندر کے اس خالی پن اور قبرستان سے خوفزدہ ہو کر بھاگتا ہے۔ اچانک اس کی زندگی میں کوئی دوسرا انسان (لڑکا یا لڑکی) آتا ہے، اور اس کے آنے سے اس کی جمی ہوئی نفسیات پگھلنے لگتی ہے۔ دفن شدہ جذبات اچانک سطح پر آ جاتے ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر زندگی دوڑ گئی ہے۔ اسی کیفیت کو ہم لیمرنس (Limerence) یا شدید جنون کہتے ہیں۔
​کیا آپ کو واقعی اس انسان سے محبت ہے؟
​یہاں ایک بہت بڑا نفسیاتی سچ سامنے آتا ہے: آپ کو اس انسان سے محبت نہیں ہوتی، بلکہ آپ کو ان جذبات اور احساسات سے محبت ہوتی ہے جو وہ انسان آپ کے اندر بیدار کرتا ہے۔ چونکہ آپ کی اپنی نفسیات مردہ تھی، اس لیے اس شخص کا آنا آپ کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتا ہے۔
​مگر یہ کیفیت عارضی (Temporary) ہوتی ہے۔ جب وہ انسان زندگی سے چلا جاتا ہے یا وہ عارضی پاگل پن کا فیز ختم ہوتا ہے، تو انسان کو لگتا ہے کہ اس کی زندگی کے تمام رنگ ختم ہو گئے اور وہ دوبارہ اندر سے مر گیا ہے۔ اصل میں وہ انسان اپنے ساتھ کچھ لے کر نہیں جاتا، بلکہ وہ آپ کو واپس آپ کی اسی ‘مردہ نفسیات’ اور اس قبرستان کے سامنے لا کر کھڑا کر دیتا ہے جس سے آپ بھاگ رہے تھے۔
​توجہ کی لت اور پروجیکشن (Attention Addiction & Projection)
​جن بچوں کو بچپن میں والدین سے توجہ (Attention) اور ویلیڈیشن نہیں ملتی، وہ بڑے ہو کر دو طرح کے رویے اپناتے ہیں:
​توجہ حاصل کرنے والے (Attention Seekers): ایسے لوگ عارضی تعلقات، افیئرز یا سیکسول ایڈکشن کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس دوران ملنے والی ‘ہائپر لیزر فوکسڈ’ توجہ ان کے اندر کے خالی پن کو عارضی طور پر بھرتی ہے، جو ان کے لیے کسی شدید نشے (High) کی طرح بن جاتی ہے۔
​شدید توجہ دینے والے (Projection): لیمرنس یا دیوانگی میں جب آپ کسی کے بارے میں دن رات سوچتے ہیں اور اس پر اپنا پورا فوکس لگا دیتے ہیں، تو یہ اصل میں پروجیکشن (Projection) ہوتی ہے۔ آپ کا اندرونی بچہ (Inner Child) چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ “مجھے توجہ دو، مجھے زندہ کرو”، اور آپ وہی توجہ باہر کسی دوسرے انسان پر پروجیکٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
​شفا کا واحد راستہ: ٹروما ورک (The Paradox of Healing)
​سائیکو اینالیسس کا اصل مقصد انسان کو کوئی عارضی تسلی دینا یا محض اوپر اوپر سے ٹھیک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کو اپنے گہرے اندرونی تضادات (Psychic Conflicts) کو سمجھنا سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم چیزوں کو اچھے یا برے کے لیبل کے بغیر، بالکل ویسے ہی دیکھیں جیسی وہ ہیں—جیسا کہ گوتم بدھ نے بھی کہا تھا۔
​اس عارضی پاگل پن اور اندرونی افراتفری (Chaos) کا علاج کیا ہے؟ اس کا علاج ہے اپنے ٹروما سے نہ بھاگنا۔
​فطرت کا ایک عجیب تضاد (Paradox) ہے کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، اور نفسیاتی درد کو صرف درد ہی ہیل (Heal) کر سکتا ہے۔ کوئی عارضی خوشی، سکون یا آرام آپ کے پرانے زخموں کو نہیں بھر سکتا۔ جب آپ کا بریک اپ ہوتا ہے، یا کوئی حادثہ ہوتا ہے، تو وہ درد دراصل آپ کو موقع دیتا ہے کہ آپ باہر کی دنیا سے توانائی لینا بند کریں اور اپنی اس مردہ نفسیات کے قبرستان میں بیٹھ کر اس ادھورے پن کا سوگ منائیں۔ جب آپ اس درد کا سامنا کرتے ہیں، اسے محسوس کرتے ہیں اور اپنے ماضی کو قبول کرتے ہیں، تبھی حقیقی شفا (Healing) کا آغاز ہوتا ہے۔
​اگر آپ زندگی بھر خود کو دنیاوی چیزوں یا عارضی رشتوں سے ڈسٹریکٹ کرتے بھی رہیں، تب بھی موت کے بستر (Death Bed) پر چند سیکنڈز کے لیے ہی سہی، آپ کو اپنی اس مردہ نفسیات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ اس لیے شفا کا اصل راستہ یہی ہے کہ بیرونی سہاروں پر انحصار ختم کر کے، اپنے اندر کے اندھیرے کا سامنا خود کیا جائے اور اپنی نفسیات کو خود زندہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں