کیا ہم واقعی وہیں کھڑے ہیں؟پاکستان کی سیاسی تاریخ اور دائرے میں سفر کا مغالطہ(2)-محمد عامر حسینی

سڑک، کارخانہ اور درس گاہ: جب عوام نے ایوبی ریاست کو پسپا کیا

اگر پاکستان میں سیاسی جدوجہد واقعی ایک ایسی چکی ہے جس میں ہر نسل کے غریب اور متوسط طبقے کے نوجوان پستے رہتے ہیں اور ریاست اپنی جگہ جوں کی توں قائم رہتی ہے، تو اس مقدمے کا پہلا بڑا امتحان 1968-69ء کی تحریک ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے ان نادر لمحات میں سے تھا جب درس گاہ، کارخانہ، کھیت اور سیاسی جلسہ ایک دوسرے سے جڑنے لگے اور ایک ایسا حکمران، جس نے چند ہی برس پہلے اپنی حکومت کے دس سالہ جشن کو ’’عشرۂ ترقی‘‘ کے طور پر منایا تھا، چند ماہ بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔

لیکن اس واقعے کو ’’عوام جیت گئے‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جانا بھی اتنی ہی سادہ کاری ہوگی جتنی یہ کہنا کہ ’’کچھ نہیں بدلا‘‘۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوامی تحریک نے کیا بدلا، کیا نہ بدل سکی، اور کیوں؟

1958ء میں جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لا نے پاکستان کے پہلے گیارہ برس کے سیاسی بحران کا ایک آمرانہ حل پیش کیا تھا۔ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی سیاست کو نااہلی، بدعنوانی اور انتشار کا منبع قرار دیا گیا اور اس کے مقابلے میں نظم، ترقی اور مضبوط ریاست کا تصور پیش ہوا۔ 1962ء کا آئینی بندوبست، بنیادی جمہوریتوں کا نظام اور صدارتی طرزِ حکومت اسی تصور کی سیاسی شکلیں تھیں۔

اس نظام کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ معاشی ترقی واقعی ہوئی۔ صنعت کاری بڑھی، شہری مراکز پھیلے، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ہوئی اور ایک نئے کاروباری طبقے نے جنم لیا۔ مگر سماجی سائنس کا سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ قومی آمدنی بڑھی یا نہیں؛ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ ترقی کے ثمرات کس کے پاس گئے؟

یہیں ایوبی ترقی کا تضاد سامنے آیا۔

تیز معاشی نمو کے ساتھ دولت کا ارتکاز، علاقائی تفاوت اور طبقاتی نابرابری بھی سیاسی سوال بنتے گئے۔ مشرقی پاکستان میں یہ احساس گہرا ہوا کہ آبادی میں اکثریت رکھنے کے باوجود اسے اقتدار اور وسائل میں متناسب حصہ حاصل نہیں۔ مغربی پاکستان میں مزدور، طالب علم، چھوٹے کسان اور شہری متوسط طبقے کے حصے اپنی اپنی شکایات تھیں۔ گویا جس modernization کو حکومت اپنی کامیابی قرار دیتی تھی، اسی modernization نے ایسے سماجی طبقات بھی پیدا کیے جو اب ریاست سے زیادہ حقوق، نمائندگی اور وسائل مانگ رہے تھے۔

یہ ایک اہم تاریخی paradox ہے: بعض اوقات ترقی آمرانہ نظام کو مستحکم کرنے کے بجائے اس کے خلاف نئی قوتیں پیدا کردیتی ہے۔

1965ء کے صدارتی انتخابات میں فاطمہ جناح کی امیدوار ی نے ایوبی نظام کی سیاسی کمزوری کو مزید نمایاں کیا۔ ریاستی مشینری کے مقابل ایک خاتون کا آمر کے خلاف انتخاب لڑنا بذاتِ خود اہم تھا، مگر اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ حکومت کے ’’قومی اتفاق‘‘ کے دعوے کے نیچے سیاسی اختلاف کی ایک وسیع دنیا موجود تھی۔

1965ء کی جنگ اور اس کے بعد تاشقند معاہدے نے بھی حکومت کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا۔ لیکن حکومتیں صرف ایک جنگ، ایک معاہدے یا ایک انتخاب کی وجہ سے نہیں گرتیں۔ بحران تب پیدا ہوتا ہے جب مختلف شکایات ایک دوسرے سے جڑ کر collective contention میں تبدیل ہوجائیں۔

1968ء میں یہی ہونے لگا۔

طلبہ اس عمل میں فیصلہ کن قوت بن کر سامنے آئے۔ تعلیمی مسائل، فیسوں، ریاستی مداخلت، سیاسی آزادی اور پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج رفتہ رفتہ پورے سیاسی نظام کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہوا۔ راولپنڈی میں طالب علم عبدالحمید کی ہلاکت نے تحریک کو مزید بھڑکایا۔ درس گاہ کا مسئلہ اب درس گاہ تک محدود نہ رہا۔

پاکستانی تاریخ میں طالب علم کی سیاسی حیثیت کو سمجھنا یہاں ضروری ہے۔ وہ صرف امتحان دینے والا نوجوان نہیں تھا۔ یونیورسٹی اور کالج وہ جگہیں تھیں جہاں متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے ایسے نوجوان اکٹھے ہوتے تھے جن کے سامنے تعلیم نے سماجی ترقی کا خواب رکھا تھا، مگر ریاستی اور طبقاتی ڈھانچے انہیں اس خواب کی حدود بھی دکھا رہے تھے۔ یہی تضاد انہیں سیاست کی طرف لے جاتا تھا۔

پھر کارخانہ حرکت میں آیا۔

کراچی اور دوسرے صنعتی مراکز میں مزدور ہڑتالیں اور احتجاج وسیع ہوئے۔ اجرت، کام کے حالات اور یونین سازی کے مطالبات سیاسی آزادی کے سوال سے ملنے لگے۔ جب مزدور کام روک دیتا ہے تو احتجاج صرف علامتی نہیں رہتا؛ وہ پیداوار اور منافع کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مزدور تحریک کسی سیاسی بحران کو معاشی بحران میں تبدیل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتی ہے۔

دیہی علاقوں میں بھی زمین، مزارعت اور طبقاتی طاقت کے خلاف کشمکش جاری تھی۔ کسان تنظیموں اور بائیں بازو کے کارکنوں نے زرعی تعلقات کو سیاسی سوال بنایا۔ اس پورے زمانے میں ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ جیسی زبان کی بعد کی مقبولیت کو بھی اس سماجی پس منظر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

مگر مشرقی پاکستان کے بغیر 1968-69ء کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔

شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات محض ایک سیاسی جماعت کا منشور نہیں رہے تھے۔ وہ مشرقی پاکستان میں ریاستی مرکزیت، معاشی عدم مساوات اور سیاسی محرومی کے خلاف وسیع مطالبے کی شکل اختیار کرچکے تھے۔ اگرتلہ سازش کیس اور مجیب کی گرفتاری نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے مزید مقبول کردیا۔ طلبہ، مزدور اور بنگالی قوم پرستی ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے تھے جہاں پاکستانی ریاست کا موجودہ وفاقی ڈھانچا بنیادی سوال بن گیا تھا۔

یہاں ہمیں پہلی قسط کا سوال دوبارہ پوچھنا چاہیے: کیا عوامی جدوجہد کچھ بدل سکتی ہے؟

جواب 25 مارچ 1969ء کو سامنے آیا، جب ایوب خان نے اقتدار چھوڑ دیا۔

لیکن اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے نہیں ہوا۔ جنرل یحییٰ خان نے حکومت سنبھال لی اور دوبارہ مارشل لا نافذ ہوگیا۔

تو کیا تحریک ناکام ہوگئی؟

اگر ہمارا واحد پیمانہ یہ ہو کہ فوج اقتدار سے مکمل طور پر باہر ہوئی یا نہیں، تو جواب ہاں ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر ہم causation کو مختلف سطحوں پر دیکھیں تو نتیجہ مختلف ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ اقتدار میں رہنے والا حکمران اپنی مرضی سے قائم نہ رہ سکا۔ عوامی mobilization نے اس کی حکومت کو governability crisis میں مبتلا کیا اور اقتدار کی موجودہ شکل ناقابلِ دوام ہوگئی۔

لیکن تحریک حکومت بدلنے کی قوت تو پیدا کرسکی، ریاست کی ساخت بدلنے کی قوت پیدا نہ کرسکی۔

یہ فرق پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ سمجھنے کی کنجی ہے۔

ریاست کے coercive institutions برقرار تھے۔ منظم عوامی قوتوں کے پاس ایسا متبادل institutional arrangement نہیں تھا جو فوجی اقتدار کے خلا کو فوری طور پر پُر کرسکتا۔ نتیجتاً ایوب گیا لیکن اقتدار دوبارہ اسی ادارے کے دوسرے جنرل کے پاس پہنچ گیا۔

اس کے باوجود یحییٰ حکومت کو وہ کرنا پڑا جو ایوبی بندوبست نہ کرسکا تھا: بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات۔

1970ء کے انتخابات نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوامی ووٹ کو فیصلہ کن قومی پیمانے پر آزمایا۔ نتیجہ ریاستی اشرافیہ کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو واضح اکثریت ملی، جب کہ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی بڑی قوت بن کر ابھری۔

یہیں عوامی جدوجہد کی کامیابی اور ریاستی ساخت کی مزاحمت ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔

اگر جمہوری اصول تسلیم کیا جاتا تو اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل ہونا چاہیے تھا۔ ایسا نہ ہوا۔ سیاسی تعطل، فوجی آپریشن، خانہ جنگی، بھارتی مداخلت اور بالآخر دسمبر 1971ء میں بنگلہ دیش کا قیام سامنے آیا۔

یہ سانحہ ہمیں ایک سخت سبق دیتا ہے: انتخاب کرانا اور انتخابی مینڈیٹ قبول کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

1971ء کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں بھٹو اقتدار میں آئے۔ 1973ء کا آئین بنا، پارلیمانی وفاقی نظام پر اتفاق ہوا، بنیادی حقوق کو آئینی صورت ملی اور صوبوں کی نمائندگی کے لیے ایک نیا بندوبست تشکیل پایا۔ یہ معمولی تبدیلیاں نہیں تھیں۔ آج بھی پاکستان کی جمہوری سیاست جب کسی آئینی بنیاد کی طرف واپس جاتی ہے تو بڑی حد تک اسی 1973ء کے آئین کی طرف لوٹتی ہے۔

لیکن یہاں تاریخ پھر سیدھی لکیر بننے سے انکار کرتی ہے۔

بھٹو حکومت جس عوامی ابھار سے طاقت حاصل کرکے نکلی تھی، اسی حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف جبر ہوا، بلوچستان میں فوجی کارروائی ہوئی، بعض مزدور احتجاج سخت ریاستی ردعمل کا شکار ہوئے اور اقتدار بتدریج زیادہ شخصی ہوتا گیا۔

کیا اس سے 1968ء کے طالب علم اور مزدور کی قربانی بے معنی ہوگئی؟

نہیں، مگر اس سے ایک دوسری حقیقت ضرور سامنے آتی ہے: عوامی تحریک سے پیدا ہونے والی حکومت لازماً عوامی تحریک نہیں رہتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’قربانی کارکن دیتا ہے، پھل اشرافیہ کھاتی ہے‘‘ والا اعتراض سنجیدہ تحقیق کا مستحق بنتا ہے۔ عوامی تحریک political opening پیدا کرتی ہے، مگر اس opening پر قبضہ کون کرتا ہے، اس کا انحصار تنظیم، طبقاتی طاقت، اداروں اور قیادت پر ہوتا ہے۔ اگر سڑک کی قوت اپنے لیے پائیدار ادارے پیدا نہ کرسکے تو اس کی پیدا کردہ سیاسی توانائی کو زیادہ منظم قوتیں اپنے اندر جذب کرسکتی ہیں۔

لہٰذا 1968-69ء نہ مکمل فتح تھی، نہ مکمل شکست۔

اس نے ایوبی اقتدار توڑا، عوامی سیاست کو مرکز میں پہنچایا اور انتخابات کا راستہ کھولا۔ مگر وہ فوجی و بیوروکریٹک ریاست کی بنیادی ساخت، طبقاتی طاقت اور مرکز و قومیتوں کے تنازع کو حل نہ کرسکی۔ انہی نامکمل سوالات نے اگلی دہائی کو جنم دیا۔

پاکستان کی تاریخ شاید اسی لیے دائرہ نہیں۔

یہ زیادہ دردناک چیز ہے: ایک spiral، جس میں ایک دیوار گرتی ہے تو اس کے پیچھے دوسری دیوار دکھائی دیتی ہے۔

1968ء کے نوجوانوں نے پہلی دیوار ضرور گرائی تھی۔

یہ کہنا کہ دوسری دیوار باقی رہ گئی، اس لیے پہلی دیوار کبھی گری ہی نہیں تھی، تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں