سوال باقی ہے(2) – علی عبداللہ

سوال کا باقی رہ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ہم سوال اس لیے نہیں کرتے کہ ہمیشہ ان کا جواب مل جائے۔ بعض سوال شاید اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے ہٹا دیں جہاں ہم اپنے بارے میں بہت زیادہ مطمئن ہو چکے ہوتے ہیں۔ سوال آدمی کو بے یقینی میں ڈالتا ہے، مگر شاید فہم کی ابتدا بھی اسی بے یقینی سے ہوتی ہے۔

رات کے اس پہر مجھے تنقید کا خیال آ رہا ہے- ہم عموماً تنقید کو فیصلے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ اچھا ہے، یہ برا ہے؛ یہ محبت ہے، یہ محبت نہیں؛ یہ درست ہے، یہ غلط ہے۔ جیسے ہر تجربے کے آخر میں ایک مہر لگانا ضروری ہو۔ اسی عادت نے ہمیں سوال سے زیادہ جواب کا عادی بنا دیا ہے- لیکن اگر سوال ہی ٹھیک نہ ہو تو جواب کیا معنی رکھتا ہے؟

ممکن ہے کسی فن پارے، کسی کتاب، کسی انسان یا کسی تجربے کو سمجھنے کا پہلا مرحلہ یہ نہ ہو کہ ہم اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں، بلکہ یہ ہو کہ ہم اپنے سوال کو دیکھیں۔ ہم جو پوچھ رہے ہیں، آخر وہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ اس سوال کے پیچھے ہماری کون سی خواہش، کون سا خوف، کون سا تعصب یا کون سی عادت کام کر رہی ہے؟

ناصر عباس نیر کے ہاں نقاد فیصلہ سنانے والے شخص سے زیادہ ایک ایسے قاری کی طرح دکھائی دیتا ہے جو متن کے سامنے اپنی رائے کو کچھ دیر روک سکتا ہے۔ وہ دوبارہ دیکھتا ہے، سوال کرتا ہے، اپنی قرأت کو بھی شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ خیال محبت تک آتے آتے اور بھی الجھ جاتا ہے۔

ہم محبت کے بارے میں بھی کچھ پہلے سے طے شدہ باتیں جانتے ہیں۔ قربت ہونی چاہیے۔ اعتماد ہونا چاہیے۔ باتیں چھپنی نہیں چاہییں۔ دوسرے کو سمجھا جانا چاہیے۔ اور شاید یہی آخری خواہش سب سے زیادہ مشکل ہے; ہم دوسرے کو سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ ہم اس کے اندر جانا چاہتے ہیں۔ اس کے خیال، اس کے خوف، اس کی خاموشی، اس کی خواہش؛ سب کچھ جان لینا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی محبت کے نام پر اس جگہ تک بھی پہنچنا چاہتے ہیں جہاں صرف اس کا اپنا حق ہے۔ لیکن اگر محبت کا مطلب دوسرے کو مکمل طور پر سمجھ لینا نہ ہو تو؟ اگر اس میں یہ گنجائش بھی ہو کہ دوسرا ہمارے لیے کچھ دیر نامعلوم رہے؟ پہلے میں پوچھ رہا تھا، محبت کیا ہے؟

اب سوال کچھ بدل گیا ہے، میں محبت سے کیا چاہتا ہوں؟ یہ معمولی تبدیلی نہیں۔ پہلے میری نظر دوسرے پر تھی۔ اب کچھ دیر کے لیے خود پر ہے۔

اسی لیے رلکے کی باتیں بار بار یاد آتی ہیں۔ اس کے خطوط پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے سوالوں کو جلدی سے بند نہیں کرتا۔ وہ انہیں ہمارے سامنے رکھتا ہے اور شاید خود بھی ان کے ساتھ کچھ دیر بیٹھتا ہے۔ جبکہ ناصر عباس نیر کی تنقید کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے یہی بات اہم لگتی ہے کہ قرأت شاید صرف متن کو سمجھنے کا نام نہیں؛ کبھی کبھی اپنی نظر کو دیکھنا بھی قرأت کا حصہ ہوتا ہے۔

اگر محبت کو بھی اسی طرح پڑھا جائے تو شاید زندگی کے کچھ جملے دوبارہ پڑھنے پڑیں۔ کچھ تعلقات جنہیں میں نے محبت سمجھا، شاید وہ میری اپنی ضرورت تھے۔ کچھ فاصلے جنہیں میں نے بے وفائی سمجھا، شاید وہ دوسرے انسان کی آزادی تھے۔ کچھ خاموشیاں جنہیں میں نے عدم محبت سمجھا، شاید وہ صرف خاموشیاں تھیں۔ اور کچھ قربتیں جنہیں محبت سمجھتا رہا، شاید ان کے اندر تنہائی کا خوف چھپا ہوا تھا۔ یہ سوچ کر آدمی کچھ دیر اپنے ہی سامنے اجنبی سا ہو جاتا ہے۔

ہم دوسروں کو پڑھنے میں بہت جلدی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ دوسرے کو ایک معنی دے دینا آسان ہے۔ مشکل یہ ماننا ہے کہ وہ معنی بدل بھی سکتا ہے۔ آدمی شاید اپنی ہی زندگی میں ایک ایسا متن ہے جسے وہ ہر بار نئے سرے سے پڑھتا ہے۔ کل جس بات کا مطلب کچھ اور تھا، آج کچھ اور ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی آدمی خود بھی اپنے پچھلے معنی سے آگے نکل جاتا ہے اور اسے خبر دیر سے ہوتی ہے۔

یہ بات عجیب ہے۔ ہم قربت چاہتے ہیں اور پھر اسی قربت میں دوسرے کی آزادی سے گھبرا جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا ہمیں سب کچھ بتائے، مگر شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کے اندر کچھ دروازے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا بند رہنا کسی بے وفائی کی علامت نہیں۔ محبت کا ایک اخلاقی پہلو یہ ہے کہ ہم دوسرے انسان کو اپنی تعبیر میں مکمل طور پر قید نہ کریں۔

چاند اب بھی سامنے ہے۔ صحن میں اس کی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔ کچھ دیر پہلے میں اسے دیکھتے ہوئے زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اب بھی دیکھ رہا ہوں، مگر اس کا کوئی مطلب تلاش کرنے کی خواہش نہیں رہی۔ رات خاموش ہے۔۔۔ اور اس خاموشی میں کچھ ایسا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پھر اپنے سوال کی طرف لوٹتا ہوں۔ محبت کیا ہے؟ یا شاید اس سے بھی پہلے؛ میں محبت سے کیا چاہتا ہوں؟

مجھے معلوم نہیں۔۔۔
رات گزر رہی ہے۔
سوال باقی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں