سید حامد یزدانی کا نعتیہ کلیات “ گل توصیف” – ایک سیال تجلی تحریر: ذوالفقار فرخ

محترم حامد یزدانی کا حمد و نعت اور منقبت سے مرصع کلیات “گل توصیف” نعت گوئی میں بہت اہم مقام رکھتا ہے ۔

اُن کا یہ ضخیم کلیات نعت گوئی کے تناظر میں اُن کو اقبال، مولانا ظفر علی خان اور مراتب اختر جیسے شعراء کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے ۔
مراتب اختر کا نام ہمارے کچھ دوستوں کے لئے نعت گوئی کے حوالے سے،ممکن ہے ، نیا ہو، مگر آپ اُن کی نعت کا ایک شعرسن لیجے:
اک نور کا ظہور کھجوروں کے جھنڈ میں
اک صبح کی اذان محمد کہیں جسے
حامد یزدانی کی نعت گوئی پر قابل قدر مفصل مضامین لکھے گئے ہیں، جو قابل قدر ہیں ۔
میں چونکہ شاعری سے شغف رکھتا ہوں، میں شاعری میں حامدیزدانی کی نعت گوئی کو ایک “سیال تجلی” تجلی کہوں گا جو اس کلیات کے صفحات پر جا بہ جا چاندنی کی طرح بکھری ہوئی ہے۔
شاعری کی بنیادی صفات اگر چہ “رعد” اور “برق” ہوتی ہیں۔ مگر یہ “سیال تجلی” حامد یزدانی کے آنسوؤں کی وجہ سے سیال ہے۔ مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سیل رواں شاعری کے جوہر میں ڈھلا ہے تو تجلی بنا ہے اور بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بہائے گئے آنسوؤں نے اسے سیال تجلی بنایا ہے۔
————
ذو الفقار فرخ
لاہور پاکستان

”سید حامد یزدانی کا نعتیہ کلیات “ گل توصیف” – ایک سیال تجلی تحریر: ذوالفقار فرخ“ ایک تبصرہ

  1. اللھم صلی علی محمد وآل محمد۔ “گل توصیف” کی جتنی تعریف کی جائے ،کم ہے۔ اجرکم اللہ تعالیٰ

اپنا تبصرہ لکھیں