انسانی تعلقات کی دنیا مجھے ہمیشہ ایک ایسے باغ کی طرح محسوس ہوئی ہے جس میں رنگ برنگے پھول بھی کھلتے ہیں اور کہیں کہیں کانٹے بھی چبھ جاتے ہیں۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جو لوگ اس باغ کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتے ہیں، جو ہر سوکھتے پتے کو سنبھال لیتے ہیں، جو ہر مرجھاتے پھول کو پانی دیتے ہیں، ایک دن وہی خاموشی سے بیٹھے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آخر ان کی اپنی خوشبو کو کس نے محسوس کیا؟ ان کے دل میں ایک ہلکی سی کسک جنم لیتی ہے کہ کیا ان کی نرمی واقعی اتنی عام تھی کہ اسے خاص سمجھا ہی نہ گیا؟
یہ انسانی مزاج کا خاصہ ہے کہ تسلسل سے ملنے والی چیز کی قدر کم ہونے لگتی ہے۔شروع میں کسی کا خیال رکھنا، اس کا وقت دینا، اس کی بات سن لینا بہت قیمتی لگتا ہے لیکن جب یہی سب کچھ ہر روز، ہر لمحہ ملتا رہے تو وہی قیمتی شے معمول بن جاتی ہے۔ جیسے کسی گھر میں بہتا ہوا پانی۔۔۔جب تک نل چلتا رہتا ہےکوئی اس کی قدر نہیں کرتا مگر ایک دن پانی بند ہو جائے تو سب کو اس کی اہمیت یاد آ جاتی ہے۔ شاید انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ دستیاب نعمتوں کو عام سمجھ لیتا ہے۔
میں نے نرم مزاج انسانوں کو پرکھا ہےوہ ہر آواز پر مدد کو آتے ہیں، ہر بوجھ بانٹ لیتے ہیں اور اپنی تکلیف کو خاموشی سےبرادشت کرجاتے ہیں،انہیں لگتا ہے کہ زیادہ دینا ہی زیادہ محبت ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی محبت دوسروں کی نظر میں ایک توقع بن جاتی ہے۔ شکریہ کے الفاظ آہستہ آہستہ کم ہو جاتے ہیں اور مطالبات بڑھنے لگتے ہیں۔احسان جب معمول سمجھ لیا جائے تو وہ نعمت سے نکل کر ذمہ داری بن جاتا ہے اور ذمہ داری کا بوجھ دل کی آب و تاب کو کم کر دیتا ہے۔
شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی حدیں واضح نہیں کرتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انکار کرنا بد اخلاقی ہے، اپنی تھکن کا ذکر کرنا کمزوری ہے، اپنی ناراضگی بتانا رشتے کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اس خوف میں ہم خاموش رہتے ہیں۔ مگر ہماری یہ خاموشی دوسروں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔ اگر ہم ہر بار ہاں کہتے رہیں تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کبھی انکار کی وجہ نہیں ہوتی۔ اگر ہم اپنی تھکن چھپا لیں تو کون جانے گا کہ ہمارے کندھوں پر بھی بوجھ ہے؟
حد بنانا دراصل دیوار کھڑی کرنا نہیں، بلکہ دروازے پر دستک کا سلیقہ سکھانا ہے۔ جس گھر کا دروازہ ہر وقت کھلا رہے، وہاں آنے والا احتیاط کم کرتا ہے۔ مگر جب اسے معلوم ہو کہ اندر آنے کا ایک وقت اور طریقہ ہے تو وہ ادب سے قدم رکھتا ہے۔ تعلقات بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنی حدود متعین کرتے ہیں تو دراصل ہم دوسروں کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں کیسے برتا جائے۔ احترام اکثر وہیں جنم لیتا ہے ۔۔۔جہاں حد موجود ہو۔
بعض اوقات ہم مہربانی اس امید پر کرتے ہیں کہ ہمیں سراہا جائے گا، ہمیں اہم سمجھا جائے گا۔ جب تعریف کے وہ الفاظ نہیں ملتے جن کی ہمیں امید ہوتی ہے تو دل ٹوٹ سا جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ساری محنت رائیگاں گئی۔ مگر شاید اصل سکون اس بات میں ہے کہ ہم اپنی نیت کو صاف رکھیں۔اگر ہم صرف ستائش کے خواہاں ہوں تو ہر خاموشی ہمیں تکلیف پہنچاتی ہے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ذات کو نظر انداز کر دیں، خود کو فراموش کر دینا ایثار نہیں۔۔۔ خود پر ظلم ہے۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ سچے لوگ آپ کے انکار کو اپنی توہین نہیں سمجھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو شخص اپنی ذات کا خیال رکھتا ہے، وہی دوسروں کا بھی بہتر خیال رکھ سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ صرف فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہی آپ کی حدوں سے ناراض ہوتے ہیں۔ انہیں آپ کی نرمی اچھی لگتی ہے، مگر آپ کی خودداری نہیں۔ ایسے میں فیصلہ ہمیں کرنا ہوتا ہے کہ ہمیں وقتی خوشنودی چاہیے یا دیرپا سکون۔
نرم دل ہونا کمزوری نہیں۔۔۔ کمزوری تو یہ ہے کہ انسان اپنی قدر بھول جائے۔ اگر میں خود اپنے وقت، اپنی توانائی اور اپنے جذبات کی قیمت نہ جانوں تو دوسروں سے کیسے توقع رکھوں کہ وہ انہیں قیمتی سمجھیں؟ خود کو اہم سمجھنا غرور نہیں۔۔۔ یہ خود شناسی ہے۔ جب انسان اپنے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو اس کی آواز میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے، اس کے لہجے میں اعتماد آ جاتا ہے اور اس کی مہربانی بھی وقار کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔
زندگی کا حسن دراصل توازن میں ہے۔ نہ اتنے سخت ہو جائیں کہ کوئی قریب آنے کی ہمت نہ کرے اور نہ اتنے نرم کہ ہر قدم ہم پر رکھا جائے۔ مہربانی اگر وقار کے ساتھ ہو تو طاقت بن جاتی ہے اور وقار اگر نرمی کے ساتھ ہو تو دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔ یہ توازن سیکھنا آسان نہیں۔۔۔ مگر یہی وہ فن ہے جو تعلقات کو بوجھ بننے سے بچاتا ہے۔
اچھا انسان بننا ضروری ہے۔۔۔ مگر اپنے ساتھ اچھا ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اپنی توانائی کو سنبھال کر خرچ کرنا، اپنی حدیں واضح رکھنا اور اپنی مہربانی وہاں بانٹنا جہاں اس کی قدر ہو۔۔۔یہ سب خود غرضی نہیں، بلکہ دانائی ہے۔ کیونکہ اصل طاقت اسی میں ہے کہ انسان نرم بھی رہے اور مضبوط بھی۔ جب یہ دونوں خوبیاں ساتھ چلتی ہیں تو دل بھی سلامت رہتا ہے اور تعلقات بھی۔۔۔ اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت سبق ہے۔


