میرا پیارا شہر علی پور:ایک تاریخی ورثہ /ماریہ بتول

انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اس کی تاریخ ،ثقافت،ادب،محل وقوع ،آب ہوا ،کھانا پینا ،رہن سہن اور آبی ذرائع کے حوالے سے معلومات جاننا چاہتا ہے ۔اس سے انسان کی اس ماحول سے ہم آہنگی اور ربط میں توازن قائم رہتا ہے ۔کرہ ارض پر موجود ہر جگہ کی ایک خاص تاریخی حیثیت ہے۔ایسے ہی ایک خاص تاریخی ورثہ کا حامل میرا پیارا شہر علی پور ہے۔
تحصیل علی پور ضلع مظفرگڑھ ،پنجاب،پاکستان کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل ہے ۔اس تحصیل کا صدر مقام علی پور شہر ہے۔اس میں 20یونین کونسلیں ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ۔1.خیرپورسادات2.فتح پور جنوبی 3.سیت پور 4۔کندائی 5.علی پور میرانی 6.علی پور اربن 7.گھلواں 8.بندے شاہ 9.علی والی 10.بیٹ ملاں والی 11.باز والا 12۔لتی13.مراد پور جنوبی 14.خان گڑھ دوئمہ 15.لنگر واہ 16.مسن کوٹ 17.سلطان پور 18.گبر آرائیں 19.ڈمر والا جنوبی 20. یاکیوالی۔
علی پور تحصیل بہت سی قبائلی برادری پر مشتمل ہے اور بڑے بڑے قبیلے آباد ہیں قابلِ ذکر خان لنگاہ ، آرائیں ،راجپوت،کھوکھر، سید،جٹ،بلوچ،جتوئی،گوپانگ ہیں ۔ملحقہ علاقے خیبر پور سادات ،سیت پور،خان گڑھ دوئمہ ،سلطان پور،گبر آرائیں ،جھگی والا،چوک پرمٹ،شہر سلطان اور بہت سے چھوٹے علاقوں پر مشتمل ہیں ۔
پنجاب کی سب سے زیادہ پرانے تحصیل ہونے کے باوجود پیداوار کا کافی حصہ اس تحصیل سے ملکی پیداوار میں شامل ہوتا ہے ۔90 کی دہائی تک تحصیل جتوئی علی پور کا حصہ تھی ۔تاہم ترقی کے اعتبار ابھی باقی تحصیلوں سے پیچھے اور سیاسی میدان میں سب سے آگے ہے۔متعدر وفاقی وصوبائی منسٹر اس تحصیل سے منتخب ہوتے رہے ہیں ۔مگر ترقی ناپید ہے ۔
اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو علی پور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کے ایک تاریخی قصبہ “سیت ث”کا حصہ ہے ۔ماضی میں یہ ایک ریاست تھی ۔اس کی سرحدیں سندھ میں شکار پور سے ملتی تھی ۔سیت پور ،علی پور سے جنوب میں 20کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔سیت پور زرخیزی کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔سیت پور کی سبزیاں بہت مشہور ہیں ۔سیت پور جو مختلف ادوار میں حکومت کا مرکز رہا ہے سیتارانی کے نام پر آباد ہوا تھا اس کا شمار قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے اور اس کا ذکر ہندؤوں کی مزہبی کتاب رگ وید میں ملتا ہے جس کے مطابق آریائی قوم جن دیوتاؤں کو پوجتے تھے انہی کے ناموں سے شہروں کو منسوب کر دیا جاتا تھا ۔ایک روایت کے مطابق بارہویں صدی میں یہاں کے ہندو راجہ جے پال کی بیٹی سیتا رانیکے نام پر سیت پور کا نام رکھا گیا ۔جے پال کی دوسری بیٹی اوچھا رانی کے نام پر اوچ شریف کا نام رکھا گیا بعد میں محمد بن قاسم نے یہ شہر فتح کیا اور مسلمانوں کے آنے پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی اور طاہر بادشاہ نے بادشاہی مسجد بنوائی جو آج تک آباد ہےاور پوری شان وشوکت سے اپنی تاریخی طرزِ تعمیر پر قائم ہے ساتھ ہی طاہر بادشاہ کا مقبرہ ہے ۔اس کا شمار ملتان کے گورنر بہلول لودھی کے چچا اسلام خان نے ان علاقوں پر حکمرانی کی اس نے سیت پور کو اپنا دارالخلافہ بنایا ۔ڈیرہ غازی خان ،مظفر گڑھ ،کوہ سلیمان کا مشرقی حصہ اور سندھ کے شمالی علاقے اس زیر نگین تھے ۔1816ءمیں رنجیت سنگھ نے اس ریاست کے بچے کھچے علاقوں پر قبضہ کرکے اس کے عروج کو تاراج کیا بلکہ اس کی ساری شان وشوکت چھین کر اسے معمولی قصبہ بنا دیا ۔

تاہم علی پور شہر 1818عیسوی تا 1848عیسوی تک سکھ عملداری میں رہا ۔1849عیسوی میں یہ شہر انگریزوں کے زیر تسلط آگیا ۔1869عیسوی میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دیا گیا ۔1870ء میں گورنمنٹ ہائی سکول کا قیام کیا گیا ۔منٹو مارلے اصلاحات 1909کے بعد 1919میں جیل خانہ تعمیر کیا گیا ۔اسی عرصے میں سول تحصیل ہسپتال قیام کیا گیا اور ڈاکٹر مول چاند پہلے ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر تھے جبکہ ڈاکٹر جمال خان بھٹھ پہلے سول سرجن تھے ۔
اگر معاش و زراعت کی بات کی جائے تو علی پور ایک زرخیز تحصیل ہے ۔شہریوں کے بڑے معاشی ذرائع دو ہی ہیں ایک زراعت اور دوسرا مویشی پالنا ۔70 کی دہائی تک تحصیل علی پور کی بیشتر زرعی زمین سیم اور جنگلات کی وجہ سے بنجر اور ناقابل کاشت رہی ۔علی پور کی زرعی پیداوار میں آم،کپاس،گندم،چنا،چاول اور کماد شامل ہیں ۔ایک شوگر مل لگائی ہے ۔ذراعت کی وجہ سے علی پور کا نہری نظام بھی کافی منظم ہے ۔چودھری برادران کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں نہری نظام بہت مظبوط اور پختہ ہوا ۔اس منصوبے کے تحت علی پور علی پور کی نہر کو بھی پکا اور نالیوں کو پختہ بنایا گیا ۔جس سے پانی ضائع اور چوری ہونے کے امکانات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔علی پور کو مرکزی تین نہریں سراب کرتی ہیں ۔جن میں خان نالہ نہر جو علی پور شہر کے بیچوں بیچ واقع ہے ۔قادرا نالہ جسے ماضی میں غلاظت سے پاک نہر کے طور پر جانا جاتا تھا تاہم اب آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہی نہر کے پانی میں گٹر لائن ڈال دی گئی ہے ۔یہ نہر علی پور شہر کے مغربی جانب واقع ہے ۔تیسری نہر چندر بھان کے نام سے مشہور ہے ۔یہ شہر علی پور کے پنجند سڑک کے مشرقی حصے کی جانب واقع ہے ۔
مزید اگر ملحقہ دریاؤں کی بات کی جائے تو دریائے سندھ جسے انڈس ریور بھی کہا جاتا ہے وہ بھی علی پور کے مغرب خیر پور سادات کی جانب سے آتا ہے اور کندائی کے مغربی جانب سے ہوتا ہوا صوبہ سندھ کی طرف نکل جاتا ہے ۔دریا سندھ بنیادی طور پر ایک چین سے آتا ہے اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا یہ دریا سیت پور کے پاس سے گزرتا ہے سندھ میں ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب یعنی سمندر میں جاگرتا ہے ۔جتوئی کے مغربی جانب دریائے سندھ واقع ہے ۔علی پور کی مشرق جانب دریائے پنجند کے اس پار بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع اور تاریخی و روحانی قصبہ اوچ شریف واقع ہے جبکہ مغرب میں دریائے سندھ کے پار راجن پور ضلع ہے ۔
دونوں دریاؤں کے بیچوں بیچ یہ تحصیل ملکی نظام سے بالکل ہٹ کے ہے ۔علی پور اگر چہ ایک بڑے روٹ کے درمیان واقع ہے تاہم تحصیل کی حدود میں وہ روٹ تو آتا مگر شہر سے دور سے چند کلومیٹر بائی پاس ہوتا ہوا نکل جاتا ہے ۔اگر بہاولپور کی جانب سے کوئی مظفرگڑھ یا ڈیرہ غازی خان جانا چاہیں تو وہ اس روٹ کا استعمال کرتا ہے ۔مگر علی پور سے ہوتے ہوئے پرانا چوک پرمٹ سے ہوتے ہوئے مظفرگڑھ کی جانب نکل جاتا ہے ۔اسطرح اگر شاہ جمال والا روڈ بھی جائیں تو بھی گرڈ چوک سے بغیر کسی اسٹاپ کے گاڑی نکل جاتی ہے ۔البتہ یہ روڈ ون وے کے طور پر اپنی خدمات پیش کررہا ہے ۔اس وجہ سے نہ صرف اس تحصیل کو گم نامی کا سامنا ہے بلکہ کسی معروف روڈ کے نہ گزرنےکی وجہ سے اس تحصیل کو کسی قسم کا کوئی بزنس نہیں ملتا ۔یہ تحصیل اپنی طور پر جو کھیتی باڑی کرتی ہے اس پر ہی تمام نظام زندگی چلتا ہے ۔
جہاں تک روٹ کانیکشن اور ٹرانسپورٹ کا تعلق ہے اگر راجن پور یا ڈیرہ غازی خان کی طرف جانا چاہیے تو ٹرانسپورٹ موجودہ صورت حال میں علی پور شہر سے گزرنے کی بجائے بائی پاس ہوتی ہوئی پہلے مظفرگڑھ جائے گی پھر دریائے سندھ کے پل سے گزرتی ہوئی سیدھی ڈیرہ غازی خان جائے گی ۔اس طرح وہی سے یہ ٹرانسپورٹ سخی سرور اور داجل ،جام پور کی طرف جائے گی ۔اس لحاظ سے یہ روٹ کافی طویل ہو جاتا ہے تاہم کبھی حکومتوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس روٹ کے استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے علی پور سے ایک ڈبل روڈ نکالا جائے جو دریائے سندھ سے ہوتا ہوا سیدھا ڈیرہ غازی خان جائے ۔اگر یہ روٹ نکال لیا جائے تو یقیناً آدھا سفر اور فیول اس روٹ سے بچایا جا سکتا ہے ۔اسطرح سے جتوئی کو بھی ایک اچھا خاصا بزنس مل جاتا ۔مگر جنوبی پنجاب میں موجود تحصیل علی پور کی فلاح اور ترقی کا بھلا کوئی کیوں سوچے گا ۔سب کو روپیہ پیسہ مل جاتا ہے اور اس سے ان کے کام چل جاتے ہیں ۔
اگر اس روٹ کو لودھراں سے نکالا جاتا تو یہ روٹ جلال پور پیر والا سے ہوتا ہوا دریائے جہلم پر پل بنا کر اسے چوک پرمٹ سے گزارتے ہوئے سیدھا علی پور اور جتوئی پھر جتوئی سے دریائے سندھ پر پل گزارتے ہوئے ڈیرہ غازی خان لایا جاتا تو یقیناً آدھے سے بھی کم ٹائم اور فیول میں یہ سفر اس قدر آسان ہو جاتا ہے ۔مگر بات وہیں ہے کہ یہ سب کوئی کیوں کرے گا۔اگر تصور کیا جائے کہ یہ روٹ بن جاتا تو جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والا شہر علی پور ہوتا اور سب سے بہترین روٹس میں سے یہ روٹ ہوتا ۔اب اسی روٹ کو نیشنل یعنی علاقائی سطح سے نکال کر قومی سطح پر دیکھا جائے تو یہ روٹ سندھ کو پنجاب سے گزارتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک رسائی دیتا ۔
ایک دوسرا راستہ علی پور سے سیت پور روڈ خان گڑھ دوئمہ اور کندائی سے دریائے سندھ سے گزرتے ہوئے KLP سڑک بہاولپور اور رحیم یار خان سے سندھ میں جاتا ہے ۔ایک اور سڑک کشتی گبر آرائیں کے ذریعے خیر پور سادات سے جاتا ہے جو راجن پور اور کوٹ مٹھن تک رسائی دیتا یہ نشتر گھاٹ سے ایک مختصر فاصلہ ہے ۔

یہ تو تھی روٹس کی بات اب اگر شہر کی انتظامی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو علی پور میں ترقیاتی کام تو کبھی سننے کو نہیں ملے۔ایک مرتبہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہر میں سیوریج کے نظام پر کچھ کام شروع کیا تو گیا ۔سیت پور روڈ کی اطراف اور بیچوں بیچ کھدائی کر کے وہ کھڈے ویسے کے ویسے اُدھوری حالت میں پڑے رہ گئے اور آج تک سیوریج کا نظام مکمل تو کیا وہ کھڈے بھی واپس بھرنے کوئی نہیں آیا ۔

شہر کے اندرونی اسٹرکچر کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے ہی تاہم سیت پور روڈ کی حالت بھی اپنی کسمپرسی کا رونا رو رہی ہے۔علی پور کی سبزی منڈی بھی کالج روڈ پر واقع ہے ۔کالج روڈ علی پور کے لیے ایک اہم ترین روڈ کے طور پر بینک ،اسکول،کالج کے مرکزی بس اسٹینڈ ،اسسٹنٹ کمشنر آفس،سول ہسپتال کی خدمت پیش کررہا ہے تاہم پہلی بار بننے کے بعد شاید ہی اس پر کبھی کوئی کام ہوا ہو۔تاہم اس پر کراچی ،لاہور اور اسلام آباد کے بڑے بڑے کوچز اور بسیں چل رہی ہیں ۔ایک طرف روڈ کی حالت یہ ہے کہ وہاں پر حادثات کسی بھی وقت ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں اور دوسری بھاری ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔جس پر آج تک نہ تو کسی پرائیویٹ اور نہ سرکاری سطح پر کام کیا گیا اور نہ آئندہ کے کسی پروجیکٹ کا حصہ یہ روڈ ہے۔
اگر سیاحتی مقام کی بات کی جائے تو تحصیل علی پور میں موجود چھوٹے چھوٹے پارکس ،پلےایریا کے علاوہ مین تفریحی مقام ہیڈ پنجند ہے۔جوکہ پنجاب میں ضلع بہاولپور کے انتہائی آخر میں ایک دریا ہے ۔دریائے پنجند پر پنجاب کے دریا یعنی دریائے جہلم ،دریائے چناب،دریائے راوی،دریائے بیاس اور دریائے ستلج کے پانچ دریاؤں کا سنگم قائم ہوتا ہے ۔جہلم اور راوی چناب میں شامل شامل ھوتے ھیں ،بیاس ستلج میں شامل ہوتا ہے اور پھر ستلج اور چناب ضلع بہاولپور سے 10 میل دور شمال میں اب شریف کے مقام پر مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں ۔مشترکہ دریا 45میل کے لیے جنوب مغرب بہتا ہے اور پھر کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے ۔دریائے سندھ بحیرہ عرب کی جانب بہتا ہے ۔پنجند پر ایک بند تعمیر کیا گیا ہے جو پنجاب اور سندھ کے صوبوں کو آبیاشی کے لیے پانی فراہم کرتا ہے ۔
دریائے سندھ اور پنجند کے سنگم کے بعد دریائے سندھ ستند کے طور سے جانا جاتا تھا۔اس میں پنجاب کے پانچ دریا ،سندھ کے علاوہ دریائے سرسوتی بھی شامل تھا جس کا وجود اب ختم ہو چکا ہے ۔

مختصراً تحصیل علی پور ایک قدیم تاریخی شہر ہے جس پر وقتاً فوقتاً مختلف انتظامیہ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں اثرانداز ہوتی رہی ۔مگر وقت اور حالات حاضرہ کی ستم ظریفی کہ موجودہ حکومت اور ادارے جنوبی پنجاب (پاکستان)خاص تحصیل علی پور کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔جس کی وجہ سے یہ تاریخی شہر بہت سے مسائل کا شکار ہے ۔بطور ایک محب الوطن پاکستانی اور تحصیل علی پور کی شہری ہونے کے ناطے میں امید کرتی ہوں کہ موجودہ حکومت اور ادارے ضرور ان مندرجہ بالا مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

اپنا تبصرہ لکھیں