عجیب اتفاق ہے کہ مختلف خیال اور نظریات کے حامل افراد ایک ساتھ بیٹھنا در کنار ملاقات اور بات چیت سے بھی کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ بالفرض محال جب کبھی مختلف الخیال لوگوں کا ایک جگہ بیٹھنے کا اتفاق ہو تو کسی ایک خیال پر پر سب کا اتفاق ہونا قرین قیاس نہیں ہوتا۔ یہ خیال درست ہے کہ سیاست میں متضاد سوچ رکھنے والے ایک دوسرے سے مونہہ پھیر کر کہتے ہیں کہ ہم نے تم سے بات نہیں کرنی۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضرورتآ ہم خیال گروپ بھی بن جاتے ہیں جو کسی نظرئے کا خیال کئے بغیر خیالوں کی ایسی دنیا میں جا بستے ہیں جہاں انکا مفاد ہو وہاں پھدک پھدک کر اس اتحاد میں جا ملتے ہیں، جہاں انکا خیال رکھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ہم بیک وقت دو دنیاؤں میں رہتے ہیں، ایک حقیقت سے دور خیالوں کی دنیا اور دوسری ہم خیالوں کی دنیا۔
میرا خیال ہے، جب کسی ذہن میں خیالات کی گاڑی آہستگی کے ساتھ رینگتی ہے تو کم رفتاری اور ٹہراؤ, خیالات کو, مضمون، شاعری، نقش نگاری اور فنکار ی کے سانچے میں ڈھال کر تخلیق کی خوبیوں کو آشکار کرتا ہے۔ سوچ میں نکھار اور خیال میں خمار پیدا ہو جاتا ہے۔ تو قف اور دھیما پن ہو تو نقص اور خرابی کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اسکے برعکس خیالات ایک بے ہنگم طوفان کی طرح دماغ میں داخل ہوں اور ذہن کے احاطے میں اکھاڑ پچھاڑ شروع کردیں تو تخیل کی پرواز ہی خطرے میں نہیں پڑتی بلکہ آدرش سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔
خیال اچھا ہو تو انسان کو سرعت کے ساتھ بلندی پر پہنچاتا ہے اور موسیقی شناسوں کا خیال یہ ہے کہ موسیقی میں بھی’ خیال ‘ اور ‘دادرہ’ کے بغیر جان نہیں پڑتی۔خیال ادھورا ہو اور فہم سے عاری ہو تو دماغ ماؤف نہ ہو، ایسا خال خال ہوتا ہے۔ اس خیال میں دو راۓ نہیں ہو سکتیں کہ خیال کے باغیچے میں خوبصورت پھلواری کا جہاں آباد ہو تو وہ انسانی زندگی کو حسن و رعنائی اور خرد و دانائی سے مزین کر دیتا ہے۔ اس لئے سوچ، فکر، سمجھ بوجھ، غور و خوض، توجہ، منشاء، ارادہ، احساس، دھیان و گمان اور تصور کی فوج ظفر موج خیال کے پیچھے پیچھے چلتی ہے اور ایک لپکے میں اسے کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ لوگوں کا گمان ہے کہ خیال کا مرکز دل ہوتا ہے اور یہ کہ خیال کی کونپلیں دل میں ہی پھوٹتی ہیں۔ ہم اردو ادب کے شعر و سخن، افسانوں اور کہانیوں میں موجود اس تاثر کو بے جا نہیں سمجھتے۔ لیکن بڑے ادب سے انکی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ خیال کی پیدائش دل میں ہوتی ہے نہ خیال کی آماجگاہ دل ہوتا ہے۔ “کبھی کبھی میرے دل میں خیال اتا ہے” کے بول، گیت اور شاعری کی حد تک تو ٹھیک ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے محبت، وفا، جفا یاد، خوشی اور غم اور ہجر و وصال جیسے الفاظ و جذبات، جن کا اظہار رومانوی ادب اور شاعری میں کیا جاتا ہے، انہیں بظاہر دل سے نسبت ہوتی ہے۔ اور محبت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ محبت دل و جان سے کی جاتی ہے۔ انکے مطابق جب محبت کے پھول کھلتے ہیں تو دل جھوم اٹھتے ہیں، محبت کے وجود سے ہی دل میں بہار کا سماں ہوتا ہے۔ کیونکہ اسکا تعلق دلی جذبات سے ہوتا ہے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ دل سوچ کے ہیر پھیر میں نہیں پڑتا، وہ فقط دھڑکتا ہے اور حرکت کرتا ہے۔ اس سے کوئی ایسی ویسی حرکت سر زد ہو جائے تو زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں، جبکہ خیال اور سوچ کا منبع و سر چشمہ ذہن اور دماغ ہوتا ہے۔ ماہرین علم الابدان کا بھی یہی خیال ہے کہ دماغ ہی وہ ٹاور ہے کہ جہاں سے ہر طرح کے سگنل پورے بدن کو جاتے ہیں۔
آفرین ہے ایسے خیال پر جو دوسرے کا خیال کرتا ہو اورجو خیال نطق کا روپ دھار کر نرمی و لطافت اور سوچ کی صباحت میں ڈھل جائے، وہ خیال آفریں فکر کی نمو بن جاتا ہے اور اس سے حظ اٹھانے والے آفریں آفریں پکارتے رہتے ہیں۔ نفیس خیال لوگوں کا خیال ہے کہ حسن خیال ایسی چھاؤں کی مانند ہوتا ہے جو سدا ذہن پر چھائی ہوتی ہے۔ یہ فاسد خیالی کی دھوپ سے بھی نجات دلاتی ہے۔ عمومآ خیال کا خیلا پن تدبر کے چراغ گل کر دیتا ہے اور ذہن کی منشاء، ارادے اور احساس کی زرخیزی کو فصل فہم کے لئے ناکارہ بنا دیتا ہے۔ اس صورت حال میں خیال باندھنے کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ہمیں خیال کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے۔اگر ہم کسی کو خیالوں میں گم، کھویا کھویا اور گم سم دیکھتے ہیں، اور اسکی سمجھ میں کچھ نہ آ رھا ہو تو فورآ پلٹ کر اس سے کہتے ہیں کہ ‘پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے’۔ اس سلسلے میں ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ خیال اور دھیان ہر دم ذہن کی کھڑکیوں سے جھانکتا رھتا ہے۔ اس میں خلل آ جاۓ تو خیال ہی نہیں دماغ بھی تھوڑا بہت خراب ہو جاتا ہے۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ سوچ لیں، کہ آپ کے خیال سے کسی اور کے خیال کا اتفاق ہر صورت میں ممکن نہیں۔ یہ صورتحال آپکو پیش آ جاۓ تو آپکا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ کیا کہتے ہیں دانشور حضرات بیچ اس مسئلے پہ؟ بعض لوگوں کے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہےکہ انکو ایسا قیمتی خزانہ مل جاۓ، جو انکے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا تو اس انوکھی صورتحال میں وہ کہہ اٹھتا ہے کہ یہ اسکی محنت کی کمائی ہے۔ حالانکہ یہ اسکی خام خیالی ہوتی ہے۔ بات درست ہے کہ ہر شخص کو اپنے خیال میں مگن رہنے کا حق ہے لیکن خیال کو، بے خیالی میں، خاک آلود ہوجا نے سے بچانے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ شیطان کسی کو بہکانے کے لئے سب سے پہلے خیالات کو پراگندہ کرتاہے اور یہ اسکا آسان ہدف ہوتا ہے۔ شیطان کا یہ وار اسطرح خیال کو اپنے رنگ میں رنگ د یتا ہے کہ خود خیال حیرانگی میں کہہ اٹھتا ہے کہ ‘ میرے خیال نے کیسا صنم تراشا ہے’؟
ہم کھانے پینے کے شوقین ہیں اور پلاؤ بریانی ہماری مرغوب و پسندیدہ غذائیں ہیں، اس شوق کی اثرات ہمارے خیال پر بھی پڑے ہیں۔ وہ اسطرح کہ ہم اکثر خیالی پلاؤ پکاتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ پلاؤ کھانے کے لئے نہیں پکتی دیگچی کا ڈھکن کھولتے ہیں تو خیال کو سخت دھچکا لگتا ہے کیونکہ دیگچی دماغ کی طرح خالی ہوتی ہے۔ خیال کو بہت سےشاعروں نے موضوع سخن بنایا ہے۔ جون ایلیا نے بڑی پتے کی بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ء وہ خیال محال کس کا تھا
آئینہ بے مثال کس کا تھا
سلیم کوثر، خیال اور سوچ کے بارے میں کہتے ہیں، میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے۔۔۔سر آئینہ میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور پے۔
خیال کے بارے میں مزید کچھ اشعار جناب سید ابرار حسین کی معاونت سے ملاحظہ ہوں:
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا
ساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا
(حسرت موہانی)
یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے
(ناصر کاظمی)
خیالِ یار میں ہم پُر بہار رہتے ہیں
خزاں کے غم بھی ہمیں سازگار رہتے ہیں
(ساغر صدیقی)
دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا
حسن خیال یار نے دیوانہ کر دیا
(فنا بلند شہری)
کہیں پہ جسم کہیں پر خیال رہتا ہے
محبتوں میں کہاں اعتدال رہتا ہے
(عالم خورشید)
تو نہیں ہے ترا خیال تو ہے
ایک ہے پر تری مثال تو ہے (راحیل فاروق)


