قیادت صرف فیصلے کرنے کا نام نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے کا عمل ہے۔ ایک لیڈر کے پاس وژن ہو سکتا ہے، مضبوط کردار بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ لوگوں کے ساتھ تعلق قائم نہ کر سکے تو اس کی قیادت دیرپا نہیں رہتی۔ تعلق سازی وہ فن ہے جو مختلف ذہنوں، مزاجوں اور مفادات کو ایک مقصد میں بدل دیتا ہے۔ جب تعلق مضبوط ہو تو اختلاف بھی نقصان نہیں پہنچاتا، اور جب تعلق کمزور ہو تو معمولی مسئلہ بھی بحران بن جاتا ہے۔
تعلق سازی کی بنیاد احترام، مکالمہ اور مشترکہ مفاد پر ہوتی ہے۔ جو لیڈر صرف بولتا ہے وہ وقتی اثر ڈالتا ہے، مگر جو سنتا ہے وہ پائیدار رشتہ قائم کرتا ہے۔ انسان اس کے قریب ہوتا ہے جو اسے اہمیت دے، اس کی بات سنے اور اس کی عزت کرے۔
حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں تعلق سازی کا پہلو نہایت نمایاں تھا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد سب سے اہم قدم مؤاخاتِ مدینہ تھا، جس میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا گیا۔ یہ صرف مذہبی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک گہری معاشرتی حکمت عملی تھی۔ مہاجرین اپنا گھر بار اور وسائل چھوڑ کر آئے تھے، جبکہ انصار مدینہ کے مقامی اور نسبتاً مستحکم باشندے تھے۔ اگر ان کے درمیان معاشی اور سماجی فاصلے برقرار رہتے تو حسد، احساسِ محرومی اور اختلاف پیدا ہو سکتا تھا۔ مگر آپ ﷺ نے انفرادی سطح پر جوڑیاں قائم کر کے عملی بھائی چارہ پیدا کیا۔ اس اقدام نے دو مختلف طبقات کو ایک خاندان میں بدل دیا اور مدینہ کو ایک متحد معاشرہ بنا دیا۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے تعلق کو صرف جذباتی اعلان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی نظام میں ڈھالا۔ بھائی چارہ باہمی تعاون، مالی مدد اور سماجی ذمہ داری کی صورت اختیار کر گیا۔
سبق: لیڈر تعلقات کو محض اتفاق پر نہیں چھوڑتا، بلکہ انہیں باقاعدہ نظام کے ذریعے مضبوط کرتا ہے۔
اسی طرح طائف کا واقعہ تعلق سازی کی اخلاقی بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔ شدید مخالفت، تضحیک اور اذیت کے باوجود جب سزا دینے کی پیشکش ہوئی تو آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔ یہ صرف درگزر نہیں تھا بلکہ مستقبل کے تعلق کا دروازہ کھلا رکھنا تھا۔ اس عمل نے ثابت کیا کہ قیادت انتقام سے نہیں بلکہ اصلاح اور امید سے تعلق قائم کرتی ہے۔
مزید برآں مدینہ میں میثاقِ مدینہ کے ذریعے مسلمانوں، یہودی قبائل اور دیگر گروہوں کے درمیان باقاعدہ معاہدہ قائم کیا گیا۔ اس تحریری معاہدے نے مختلف مذہبی اور قبائلی گروہوں کو ایک سیاسی وحدت میں بدل دیا۔ سب کو حقوق اور ذمہ داریاں دی گئیں۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی تعلق سازی صرف اپنے ماننے والوں تک محدود نہیں تھی بلکہ مختلف عقائد رکھنے والوں کو بھی ایک شہری رشتے میں جوڑنے کی کوشش تھی۔
عالمی سطح پر بھی تعلق سازی قیادت کی بنیادی شرط رہی ہے۔ مثال کے طور پر برازیل کے لولا دا سلوا نے مزدور طبقے اور اشرافیہ کے درمیان مکالمے کی فضا قائم کی۔ وہ خود مزدور پس منظر سے آئے تھے، اس لیے عام آدمی ان سے قربت محسوس کرتا تھا۔ ان کی تقریریں رسمی نہیں بلکہ عوامی زبان میں ہوتی تھیں، جس سے فاصلے کم ہوئے۔
روانڈا کے پال کاگامے نے نسل کشی کے بعد قومی مفاہمت کی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے “گچچا” عدالتوں کے ذریعے مقامی سطح پر مصالحتی عمل شروع کیا تاکہ معاشرہ انتقام کے بجائے بحالی کی طرف بڑھے۔
سبق: قومی زخم صرف طاقت سے نہیں، مفاہمت سے بھرے جاتے ہیں۔
تعلق سازی کی چند بنیادی شرائط ہیں:
سننے کی صلاحیت
اختلاف میں بھی احترام
مشترکہ مقصد واضح کرنا
کمزور طبقات تک رسائی
انا پر قابو
اگر لیڈر صرف اپنے حامیوں تک محدود رہے تو وہ گروہی رہنما بن جاتا ہے، قومی نہیں۔ اصل تعلق سازی تب ہوتی ہے جب مخالف بھی یہ محسوس کرے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے۔
طاقت وقتی اطاعت پیدا کرتی ہے، مگر تعلق مستقل وابستگی پیدا کرتا ہے۔ جو لیڈر تعلق کو ترجیح دیتا ہے وہ بحران میں تنہا نہیں ہوتا۔ لوگ اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں کیونکہ وہ اسے اپنا سمجھتے ہیں۔
“لیڈر بننے کا سفر” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نظریہ جتنا بھی مضبوط ہو، اگر انسانوں کے دل اس کے ساتھ نہ ہوں تو کامیابی ممکن نہیں۔ تعلق سازی ہی وہ قوت ہے جو مختلف افراد کو ایک مقصد میں ڈھال دیتی ہے اور قیادت کو دوام عطا کرتی ہے۔


