زندگی ایک مسلسل بہاؤ کا نام ہے، جس میں انسان کبھی خوشی کے کناروں سے ٹکراتا ہے اور کبھی آزمائشوں کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ اس بہاؤ کے بیچ اگر کوئی ایک جگہ ایسی ہے جہاں انسان خود کو محفوظ، مطمئن اور بے خوف محسوس کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کا گھر ہے۔ گھر محض اینٹوں، دیواروں اور چھت کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات، اعتماد، راز داری اور سکون کا نام ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم اسی گھر کے سکون کو سب سے پہلے خود اپنے ہاتھوں سے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
انسان فطرتاً بات کرنے والا ہے۔ اسے اپنے دکھ سنانے ہیں، اپنی الجھنیں بانٹنی ہیں، اپنی تکلیف کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب گھر کے اندر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو پہلا خیال یہی آتا ہے کہ کسی کو بتایا جائے، کسی سے مشورہ لیا جائے، کسی کے سامنے دل کھولا جائے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر سننے والا ہمدرد نہیں ہوتا اور ہر ہمدرد دانا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ سن کر سمجھتے نہیں، صرف فیصلہ کرتے ہیں اور کچھ فیصلہ کرنے کے بعد بات کو وہیں دفن کرنے کے بجائے آگے بڑھا دیتے ہیں۔
گھریلو معاملات نازک شیشے کی مانند ہوتے ہیں۔ ایک ہلکی سی ضرب بھی انہیں چکنا چور کر سکتی ہے۔ جب یہ معاملات گھر کی چار دیواری سے نکل کر رشتہ داروں، جاننے والوں اور غیر ضروری حلقوں میں پہنچتے ہیں تو ان کی نازکی مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک بات جو صرف سمجھنے کے لیے کہی گئی تھی، وہ تبصرے کا موضوع بن جاتی ہے۔ ایک شکایت جو وقتی تھی، وہ مستقل الزام میں بدل جاتی ہے اور یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے اپنی جڑیں مزید گہری کر لیتا ہے۔
ہم اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ رشتہ دار تو اپنے ہوتے ہیں، وہی تو کام آئیں گے۔ بات اپنی جگہ درست، مگر ہر اپنا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ اپنے دل سے خیر چاہتے ہیں اور کچھ اپنے انداز سے۔ کچھ کی نیت اچھی ہوتی ہے مگر زبان بے احتیاط اور کچھ کی زبان میٹھی مگر نیت میں کھوٹ۔ جب ہم بلا سوچے سمجھے اپنے گھر کی باتیں سب کے سامنے رکھ دیتے ہیں تو ہم دراصل اپنے سکون کو ایک غیر یقینی فیصلے کے حوالے کر دیتے ہیں۔
خاموشی محض لفظوں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ خاموشی وہ وقفہ ہے جس میں انسان خود سے بات کرتا ہے، حالات کو سمجھتا ہے اور ردِعمل کے بجائے عمل کا راستہ چنتا ہے۔ گھریلو زندگی میں یہ خاموشی اور بھی قیمتی ہو جاتی ہے۔ ہر بات کا جواب دینا، ہر اعتراض کو فوراً رد کرنا، ہر شکایت کو سب کے سامنے رکھ دینا، یہ سب بظاہر جرات لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ بے احتیاطی ہے۔
فاصلے بھی اسی بے احتیاطی کے علاج کی ایک صورت ہیں۔ فاصلے کا مطلب تعلق توڑنا نہیں بلکہ حدود متعین کرنا ہے۔ جیسے دریا کناروں میں بہتا ہے تو خوبصورت لگتا ہے، مگر اگر کنارے ٹوٹ جائیں تو وہی دریا تباہی بن جاتا ہے۔ رشتوں میں بھی کنارے ضروری ہیں۔ اگر ہر رشتہ دار کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ گھر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے، رائے دے اور فیصلہ سنائے تو گھر ایک پناہ گاہ کے بجائے ایک کچہری بن جاتا ہے۔
انسان کی نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ہم بار بار اپنے مسائل دوسروں کو سناتے ہیں تو ہم لاشعوری طور پر خود کو کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے، ہمیں ہر قدم پر کسی سہارے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس، جب ہم مسائل کو محدود دائرے میں رکھ کر خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے اندر اعتماد اور خود انحصاری پیدا ہوتی ہے۔ ہم سیکھتے ہیں کہ اختلاف کو کیسے سلجھانا ہے، ناراضی کو کیسے برداشت کرنا ہے اور غلطی کو کیسے درست کرنا ہے۔
میاں بیوی کا تعلق اس معاملے میں سب سے زیادہ حساس ہے۔ یہ رشتہ راز داری کی بنیاد پر قائم رہتا ہے۔ جب ایک فریق یہ محسوس کرے کہ اس کی باتیں، اس کی کمزوریاں اور اس کی لغزشیں دوسروں تک پہنچ رہی ہیں تو اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔ پھر بات صرف ایک جھگڑے کی نہیں رہتی بلکہ اس احساس کی ہو جاتی ہے کہ میرا اپنا مجھے محفوظ نہیں سمجھتا۔ یہ احساس آہستہ آہستہ محبت کو خاموش کر دیتا ہے۔
آج کے دور میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا نے نجی اور ذاتی زندگی کے درمیان موجود سرحد کو تقریباً مٹا دیا ہے۔ لوگ اپنے گھریلو اختلافات، شکوے اور دکھ ہزاروں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ چند لمحوں کی توجہ اور وقتی ہمدردی کے بدلے وہ اپنی زندگی کے مستقل سکون کو قربان کر دیتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک بار کہی گئی بات ہمیشہ کے لیے ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔
خاموشی کا مطلب ظلم سہنا نہیں اور فاصلے کا مطلب بے حسی نہیں۔ بعض اوقات بات کرنا، مدد مانگنا اور رہنمائی لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر اس میں بھی حکمت شرط ہے۔ ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے قابل نہیں ہوتا۔ہمیں کس پر بھروسا کرنا چاہیے یا ہمیں کس حد تک بھروسا کرنا چاہیے۔ زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ ہر بات کہی جا سکتی ہے، مگر ہر بات کہنا ضروری نہیں ہوتا۔ اپنے گھر کا امن، اپنی ذات کا سکون اور اپنے رشتوں کی حرمت اتنی سستی نہیں کہ انہیں ہر فضول مداخلت کے بدلے بیچ دیا جائے۔
گھر کی راز داری وہ خاموش دولت ہے جو نظر نہیں آتی مگر محسوس ضرور ہوتی ہے۔ یہی دولت گھر کو گھر بناتی ہے، ورنہ دیواریں تو ہر جگہ ہوتی ہیں۔ اگر ہم اس دولت کی قدر سیکھ لیں، خاموشی کی حکمت کو سمجھ لیں اور فاصلے کی حفاظت کو قبول کر لیں تو شاید ہم نہ صرف اپنے گھروں کو بچا سکیں بلکہ خود کو بھی بہت سی غیر ضروری اذیتوں سے محفوظ رکھ سکیں۔۔۔ یہی شعور، یہی احتیاط اور یہی فہم ایک پُرسکون زندگی کی بنیاد بن سکتی ہے۔


