جھوٹ کے درمیان سسکتا ہوا سچ/ڈاکٹر محمد شافع صابر

میں یہ تحریر بحیثیت میڈیا و انفارمیشن سیکریٹری وائے ڈی اے سر گنگارام ہسپتال / فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور نہیں بلکہ بحثیت ایک ڈاکٹر کے لکھ رہا ہوں، جو کہ اس دن آن کال ڈیوٹی پر تھا اور اس بچی کے علاج پر معمور critical ٹیم کا حصہ تھا۔ جب وہ بچی ہمارے پاس ایمرجنسی میں لائی گئی میں تب سے لیکر اس کی وفات تک ہر لمحہ وہاں موجود تھا ۔
میں اس بچی کی تفصیلات ہرگز نہیں لکھوں گا اور نا ہی کھبی کسی کو بتاؤں گا کیونکہ وہ میری پروفیشنل ازم اور میرے اوتھ کے خلاف ہے۔ فائنل ائیر کی اس معصوم بچی کو ایمرجنسی میں اٹینڈ کرنے والے اولین ڈاکٹرز میں سے ایک میں تھا اور مجھے ابھی تک اسکے سبھی وائٹلز تک یاد ہیں۔
اس افسوناک ترین واقعہ کو لیکر جس طرح میڈیا میں جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی، ہماری وائے ڈی اے کی ٹیم نے اسے ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی۔
چند ویوز کے لئے ایک افسوناک واقعہ کو بنیاد بنا کر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن اس سب کے باوجود ہم نے اس بچی کی کوئی بھی شناخت اور ویڈیو میڈیا پر نہیں آنے دی کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا کسی بھی مہزب معاشرے کے شایانِ شان نہیں ۔
کچھ نام نہاد صحافیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ بچی کو مردہ حالت میں ایمرجنسی لایا گیا جو کہ سراسر جھوٹ اور حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب وہ لائی گئی زندہ تھی اور ہیڈ انجری اور سپائن کے ایشو کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے cervical collar (گردن کے گرد کالر) خود لگایا۔
جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ اسکے علاج معالجے کو شروع کرنے میں دیر کی گئی،جو کہ ایک جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ یونیورسٹی کی جانب سے ایک پانچ رکنی میڈیکل بورڈ فی الفور تشکیل دیا گیا تاکہ بچی کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں ۔
جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے کوئی موقع پر موجود نہیں تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس افسوسناک خبر سننے کے بعد وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سب سے پہلے وہاں پہنچے اور بحثیت ایک سرجن کے انہوں نے اس بچی کا خود معائنہ کیا اور انہوں نے فوراً میڈیکل بورڈ کی تشکیل کا حکم دیا۔
جھوٹی خبر چلائی گئی کہ بچی کی ورثاء کی اجازت کے بغیر یونیورسٹی انتظامیہ نے مرحومہ کا پوسٹ مارٹم کروایا جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوسٹ مارٹم پولیس کی مدعیت میں لواحقین کی اجازت اور موجودگی میں میو ہسپتال میں ہوا۔ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے میو ہسپتال کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ مرحومہ کا پوسٹ مارٹم خاتون ڈاکٹر سے کیا جائے تاکہ اس کی باپردگی قائم رہے۔
جھوٹ بولا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بچی کے والدین سے یہ حادثے کی خبر چھپائی۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ جب بچی ایمرجنسی لائی گئی،تو اسکے فون کی گھنٹی بجی تو اسکا فون ہاسٹل کی اسسٹنٹ وارڈن نے اُٹھایا اور اسکے والد کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔
جھوٹ بولا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے سچ چھپانے کے لیے کالج و یونیورسٹی اور ہاسٹل کو بند کیا۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ اس افسوناک حادثے کے بعد انڈر گریجویٹ اسٹوڈنٹس شدید صدمے کی حالت میں تھیں، کچھ کو تو پینک اٹیکس بھی آئے۔ اسی وجہ سے انتطامیہ نے یونیورسٹی انتطامیہ نے چھٹیاں دی تاکہ بچوں کی مینٹل ہیلتھ متاثر نا ہو ۔ انہی چھٹیوں کے دوران ہاسٹل میں حفاظتی انتظامات مزید بہتر کیے گئے ۔
جھوٹ بولا گیا کہ انتظامیہ سچ سامنے نہیں آنے دے رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فی الفور ایک انٹرنل انکوائری کمیٹی تشکیل دی تاکہ واقعے کے تحقیقات کی جا سکیں،بعد میں یونیورسٹی نے ایک ایکسٹرنل انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس میں سول سوسائٹی،میڈیا،ماہر نفسیات و فرنزاک ایکسپرٹ کو شامل کیا گیا تاکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔
جھوٹ بولا گیا کہ یونیورسٹی تحقیقات سے بھاگ رہی ہے،جبکہ سچ یہ ہے کہ یونیورسٹی نے پولیس سمیت تمام تحقیقاتی ٹیمز سے ہر قسم کا تعاون کیا اور کر رہی ہے۔
اس افسوسناک حادثے کی بعد مجھ سمیت فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی پوری کمیونٹی ایک شاک میں تھی اور ابھی تک صدمے میں ہے،تب کچھ شرپسند عناصر نے اس حادثے کی بنیاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ کرنا شروع کر دیا، جنکو یہ احساس تک نا ہوا کہ ایک انٹرنیشنل میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف گمراہ کن کمپین کے نقصانات کا اثر کتنے لوگوں پر پڑے گا ( اس جھوٹے پروپیگنڈے پر بات پھر کھبی سہی).
کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے افسوناک واقعات کے بعد جھوٹی افواہیں نہیں پھیلائی جاتی، ٹکرز نہیں چلائے جانے ، جھوٹے بیانیے نہیں بنائے جاتے، لیکن وطن عزیز میں گنگا الٹی بہتی ہے، یونیورسٹی آف لاہور میں بھی ایسا واقعہ ہوا، اس بے شرم میڈیا نے اس بچی کی لائیو ویڈیو تک چلا دی تاکہ ریٹنگ مل سکے کیا اس سے زیادہ دردناک کوئی اور ازیت اور کوئی ہو سکتی ہے ؟؟
ہماری کابینہ کے موقع پر موجود تینوں ارکان کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ ہم نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی اس بچی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونے دینا۔ میری،ڈاکٹر عثمان ظفر اور صدر ڈاکٹر عثمان گجر کی باقاعدہ میڈیا نمائندوں سے منہ ماری ہوئی جب انکو جھوٹا بیانیہ بنانے کے لئے کوئی خبر نا ملی۔
ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا چاہئے کہ ہم آخر ایک تماش بین ہجوم کیوں بن کر رہ گئے ہیں؟؟ کیوں ہمیں سنسنی پھیلائے بغیر سکون نہیں ملتا؟ کیوں ہم چند ویوز کی خاطر اتنا گر جاتے ہیں کہ زندگی و موت کی کشمکش میں ترپتے لوگوں کو کیش کروانے سے بھی نہیں ڈرتے؟ آخر اس سب کی وجہ کیا ہے؟؟ جواب میں آپ سب پر چھوڑتا ہوں۔ مایوسی بس مایوسی۔۔
اللہ سے اس بچی کی مغفرت کے لئے دعا گو ہوں اور شاید کھبی زاتی انتقام کے لئے بنائے گئے پیکا ایکٹ کی بجائے ایک ایسا پیکا ایکٹ بھی لایا جائے جس میں جھوٹی خبر دینے والے صحافیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا تاکہ باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔

(مضمون نگار،اس وقت سر گنگارام ہسپتال/ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں آرتھوپیڈک سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینگ کر رہے اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سر گنگارام ہسپتال / فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے میڈیا و انفارمیشن سیکریٹری بھی ہیں)۔

اپنا تبصرہ لکھیں