ایرانی سرکاری ٹی وی پر خبر دینے والے اینکر کا برا حال ہے. وہ اپنے آپ کو سنبھالتا ہے، مگر اس کے پورے وجود سے چیخ نکلتی ہے، ہچکیاں ضبط کے بند توڑ دیتی ہیں، پیچھے سے کیمرا مین بھی اپنے اعصاب پر قابو نہیں پا سکا. سسکیوں کے درمیان میں خبر نکلتی ہے : امام خامنہ ای نہیں رہے، وہ شہید ہو چکے!!
28 فروری کو تاریخ نے ایک ایسا موڑ لے لیا ہے جس کی بازگشت آنے والی کئی دہائیوں تک سنائی دے گی۔ یہ دن تہران کے لیے قیامت صغریٰ ثابت ہوا جب امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے وہ کر دکھایا جسے برسوں سے ناممکن سمجھا جا رہا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قلعہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور سیٹلائٹ تصاویر گواہی دے رہی ہیں کہ وہاں اب کچھ بھی سلامت نہیں بچا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے اس دوسرے دور میں ایک ایسا جوا کھیلا ہے جس نے بش، اوباما اور بائیڈن کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس نے خامنہ ای کو تاریخ کا بدترین انسان قرار دیتے ہوئے تہران میں 48 سالہ اقتدار کے خاتمے کا بگل بجا دیا ہے۔
یہ غیر معمولی حملہ رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ بھری دوپہر میں کیا گیا، جو کہ ماضی کی تمام فضائی کارروائیوں سے قطعی مختلف اور زیادہ تباہ کن تھا۔ ٹرمپ نے صرف عمارتوں کو نہیں بلکہ ایران کی پوری اعلیٰ قیادت کو ایک ہی دھماکے سے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
ٹارگٹ کوئی انفراسٹرکچر یا میزائل بیٹری نہیں تھی، بلکہ ٹارگٹ ایک ’ملاقات‘ تھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اکثر تجزیہ کاروں کی نظر سے اوجھل ہے۔ ماضی کے تمام حملے، چاہے وہ جون 2025 کا ‘آپریشن مڈ نائٹ ہیمر’ ہو یا اکتوبر 2024 کی ضرب، سب اندھیرے میں کیے گئے۔ ایران کا پورا دفاعی نظام اسی مفروضے پر قائم تھا کہ اسرائیل رات میں حملہ کرے گا۔ مگر آج کی ضرب اس وقت آئی جب لوگ دفاتر کی طرف جا رہے تھے۔ اسرائیل نے دن کی روشنی کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ اسے میزائلوں سے زیادہ ان مہروں کی تلاش تھی جو ایک ہی کمرے میں جمع تھے۔ مہینوں کی انٹیلیجنس اور ہزاروں گھنٹوں کی نگرانی کا حاصل وہ ایک لمحہ تھا جب سپریم لیڈر، صدر اور پوری فوجی کمان ایک جگہ موجود تھے۔ اور وہ لمحہ آج صبح آ پہنچا تھا۔
اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کے اس مشترکہ وار میں ایران کے قصرِ اقتدار کے ستون گر چکے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق درج ذیل اہم شخصیات اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں:
جنرل محمد پاکپور: پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ، وزیرِ دفاع امیر ناصر زادہ, علی شمخانی: خامنہ ای کے سینئر مشیر اور دفاعی کونسل کے سیکرٹری, غلام حسین محسنی ایجئی: ایران کے چیف جسٹس بشریٰ خامنہ ای, سپریم لیڈر کی صاحبزادی اور ان کے شوہر بھی اسی بمباری کا شکار ہوئے ہیں، جو اس حملے کی ذاتی اور خاندانی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
اس حملے سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا وہ کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہ تھا۔ ٹرمپ نے سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو فون کر کے حملے کی آخری تفصیلات طے کیں اور پوچھا کہ ایران کے جوابی وار سے کتنے امریکی جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ٹرمپ کا وژن واضح تھا کہ یہ ‘رجیم چینج’ کا وہ سنہری موقع ہے جو صدیوں میں ایک بار آتا ہے۔ اس کے نزدیک وینزویلا میں نکولس مادورو کا حالیہ سقوط اس بات کی دلیل تھا کہ امریکی فوجی طاقت ایک ایسی ‘بائبلی قوت’ ہے جو ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ اس نے ٹرتھ سوشل پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی حکومت پر قبضہ کر لو، یہ تمہارے پاس نسلوں میں شاید واحد موقع ہے۔
مگر کیا تہران میں قیادت کی تبدیلی اتنی ہی آسان ہے جتنا ٹرمپ کو لگتا ہے؟ وائٹ ہاؤس کے اندر اس فیصلے پر شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس، چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ڈین کین اور پینٹاگون کے اہم عہدیدار ایلبرج کولبی نے اس آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جنرل کین کا خیال تھا کہ صرف فضائی حملے ایرانی حکومت کی جڑیں نہیں ہلا سکتے۔ ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز نے اگرچہ براہِ راست مخالفت نہیں کی لیکن انہوں نے صدر کو ان غیر متوقع نتائج سے ضرور خبردار کیا جو کسی نئی غیر ملکی جنگ کے نتیجے میں برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ریپبلکن اسٹریٹجسٹ بھی پریشان ہیں کہ معیشت پر توجہ دینے کے بجائے ان مہم جوئیوں سے ووٹر کہیں بدظن نہ ہو جائیں۔
سفارت کاری کے دروازے بھی آخری وقت تک کھلے رہے مگر ان کا انجام ناکامی پر ہوا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے نائب صدر وینس سے ملاقات کر کے حملے روکنے کی آخری کوشش کی لیکن جنیوا مذاکرات میں تعطل برقرار رہا۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات تباہ کرے، سارا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے اور کسی قسم کی رعایت کی امید نہ رکھے۔ ٹرمپ کے مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کو یقین تھا کہ مزید بات چیت فضول ہے کیونکہ ایران ان شرائط پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے اس امریکی جلد بازی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا کہ مذاکرات کو مزید وقت کیوں نہیں دیا گیا۔
میدانِ جنگ میں ایران نے جوابی میزائل تو داغے مگر ان میں سے بیشتر کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔ خلیجی ریاستوں میں متحدہ عرب امارات میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے لیکن مجموعی طور پر ایران کا جواب تاحال اتنا موثر ثابت نہیں ہوا جتنا خدشہ تھا۔ اصل چیلنج اب یہ ہے کہ کیا ایرانی عوام واقعی باہر نکلیں گے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام غیر مسلح ہیں اور ان کی سیکیورٹی فورسز، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC)، اس قدر منظم ہیں کہ وہ کسی بھی عوامی بغاوت کو کچلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ٹرمپ کو نیتن یاہو اور لنڈسے گراہم جیسے لوگوں نے یقین دلایا ہے کہ خامنہ ای کی موت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے نچلے درجے کے لوگ، جو کٹر نظریاتی ہونے کے بجائے کاروباری ذہن رکھتے ہیں، امریکہ کے ساتھ تعاون پر راضی ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دن انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ مہم جوئی طویل ہوئی تو خطہ ایک ایسی افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے جس کا تصور بھی ہولناک ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گی اور مہاجرین کا بحران خلیجی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ سابق دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اگلی بار جب ہم ایران کے ساتھ بیٹھیں گے تو وہ برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک فاتح اور مفتوح کا مکالمہ ہونا چاہیے۔ علی خامنہ ای کے ساتھ ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد، ان کے مشیر آیت اللہ گولپائگانی اور جنرل اسماعیل قاآنی کی شہادت کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں جو ایرانی قیادت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ٹرمپ نے اپنا داؤ کھیل دیا ہے لیکن یہ تاریخ ہی بتائے گی کہ اس نے تہران کو آزاد کروایا ہے یا اسے ایک ایسے لامتناہی جہنم میں دھکیل دیا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔


