آبنائے ہرمز سے تہران تک: جنگ کا پھیلتا دائرہ/سید مہدی بخاری

ایران اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ جب کوئی ریاست یہ طے کر لے کہ اب معاملہ وجود کی بقا کا ہے تو پھر ردِعمل کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ایسے مرحلے پر حکمتِ عملی اور خودکشانہ جرات کے درمیان فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں بھی براہِ راست ایرانی میزائلوں کی زد میں آ چکی ہیں۔
متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں قائم امریکی اڈوں پر میزائل داغے گئے اور بعض نے اپنے اہداف کو نشانہ بھی بنایا۔ ریاض کی جانب داغے گئے میزائلوں کو سعودی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کیا۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خطہ اب مکمل جنگی کیفیت میں ہے۔ آبنائے ہرمز جو خلیجی ممالک کی معاشی شہ رگ ہے عملاً بند ہو چکی ہے۔ عالمی منڈیوں کا استحکام خطرے میں ہے اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عالمی معیشت کو شدید جھٹکا دے سکتا ہے۔
ایران بھر میں پانچ سو اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ قیادت کو بھی ہدف بنایا گیا۔ تہران میں اس کمپاؤنڈ پر حملہ ہوا جہاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای قیام کرتے تھے۔ نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ سپریم لیڈر حملے میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق وہ پہلے حملے کا مرکزی ہدف تھے ٹرمپ نے ایرانی عوام کو پیغام دیا ہے “جب ہم ختم کریں گے تو اپنی حکومت سنبھال لینا، یہ تمہاری ہو گی۔”
یہ بیان رجیم چینج پالیسی کا اعلان ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی حملہ داخلی بغاوت کو جنم دے گا؟ یا قوم پرستی کی لہر ایرانی رجیم کو مزید مضبوط کر دے گی؟۔ تاریخ دونوں مثالیں پیش کرتی ہے۔ طویل جنگیں اور معاشی تباہی عوام کو نظام کے خلاف کھڑا کرتی ہیں مگر بیرونی جارحیت اکثر اندرونی صفوں کو متحد بھی کر دیتی ہے۔ ایران میں سپریم کونسل اور ریاستی ڈھانچے کی موجودگی میں چین آف کمانڈ برقرار ہے۔ اگر قیادت جاں بحق بھی ہو جائے تو متبادل قیادت فوری طور پر سامنے آ سکتی ہے۔ ایسے میں بیرونی فوجی مداخلت کے بغیر رجیم چینج آسان دکھائی نہیں دیتا اور امریکا زمینی افواج اتارنے کے لیے فی الحال تیار نظر نہیں آتا۔اصل جنگ اعصاب کی ہے۔ ایرانی عوام کے لیے بھی اور امریکا کے لیے بھی۔امریکہ کھل کر رجیم چینج کی خواہش ظاہر کر چکا ہے اور ایران کے پاس کوئی آپشن موجود نہیں رہا۔
امریکا چاہتا تھا کہ ایران نہ صرف یورینیم افزودگی روکے بلکہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی رینج دو ہزار کلومیٹر سے کم کر کے تین سو کلومیٹر تک محدود کر دے اور خطے میں پراکسی گروپس کی حمایت بھی ختم کرے۔اطلاعات کے مطابق ایران آخری مرحلے میں افزودگی روکنے پر آمادہ ہو گیا تھا، مگر میزائل رینج کم کرنا اس کے لیے قومی سلامتی کے بنیادی ستون کو توڑنے کے مترادف تھا۔ ایران کے دفاعی نظریے میں میزائل پروگرام ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جنگ کے میدان تک کا سفر ناگزیر ہوتا چلا گیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی سپلائی کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔ اگر یہ صورتحال طول پکڑتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی تجارت، شپنگ انشورنس، اور سرمایہ کاری سب متاثر ہوں گے۔پاکستان اس بحران سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ اگر ایران میں نظام بدلتا ہے یا خانہ جنگی جنم لیتی ہے تو اس کے اثرات بلوچستان تک پہنچ سکتے ہیں۔ سرحد پار عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت یا پراکسی سرگرمیوں میں اضافہ پاکستان کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے معاشی دھچکا ہو گا۔ پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت مزید مشکلات میں گھر سکتی ہے۔
آج سے دو سال قبل جب حماس نے اسرائیل پر آتش بازی کی تھی اس وقت لکھا تھا اور ویڈیو میں بھی کہا تھا کہ حماس کا یہ قدم غزہ کو ہڑپ کروا جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب حماس نے آتش بازی کی اسرائیل نے محدود نقصان اٹھایا اور اس کی آڑ میں مزید زمین پر قابض ہو گیا۔کمنٹس میں سخت جملے موصول ہوئے۔ لوگ اسے حماس کے “دلیرانہ اقدام” کے طور پر دیکھتے تھے۔ بہادری اور بیوقوفی کے درمیاں پتلی لکیر ہوا کرتی ہے۔
آج دو سال بعد غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ پچھہتر ہزار فلسطینی جوان، بزرگ، عورتیں بالخصوص بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حزب اللہ، حماس ، یمنی حوثیوں کی قیادت جاں بحق ہو چکی ہے اور یہ مسلح تنظیمیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ ایران اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے۔ریاستوں کے جذبات نہیں ہوتے، ان کے مفادات ہوتے ہیں، نقصانات ہوتے ہیں۔ ریاستیں انسانی بدن نہیں ہوتیں وہ فیصلہ سازوں کی اجتماعی دانش کا نام ہوتی ہیں۔جنگیں صرف نظریاتی ٹکراؤ یا آئیڈیالوجی وار نہیں ہوتیں۔ وہ ٹیکنالوجی، عسکری صلاحیت، انٹیلی جینس، دوستوں دشمنوں، سیاسی حکمتِ عملی اور معیشت کا حساب کتاب بھی ہوتی ہیں۔جو ریاستیں اپنے مفاد کا درست حساب نہ لگا سکیں وہ نقصان اُٹھاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں