مشرقِ وسطیٰ آج ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی محض علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس بحران کی بنیادی جڑ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے اپنے حق میں موڑنے کی کوششیں ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیاسی اور عسکری برتری قائم رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ فلسطین کے مسئلے سے لے کر خطے میں یکطرفہ فوجی کارروائیوں تک، اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین سے بالاتر عملی آزادی حاصل رہی ہے، جسے امریکہ کی مکمل سفارتی اور عسکری حمایت میسر رہی۔ اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود فلسطینی علاقوں میں جاری کارروائیاں عالمی نظامِ انصاف پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کو بھی اکثر سلامتی کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ رکھنے کی کوششیں ہی تنازع کو بڑھا رہی ہیں۔ ایران پر مسلسل اقتصادی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور عسکری دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف سلامتی نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کا ہے۔
اس عالمی منظرنامے میں روس اور چین کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے۔ روس مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور شام سمیت مختلف معاملات میں مغربی پالیسیوں کی مخالفت کرتا آیا ہے۔ چین، جو توانائی اور تجارت کے عالمی نظام کا بڑا ستون بن چکا ہے، خطے میں استحکام کو اقتصادی ترقی سے جوڑتا ہے اور یکطرفہ پابندیوں اور جنگی حکمت عملی کے بجائے کثیر قطبی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔
دنیا اب سرد جنگ کے بعد کے یک قطبی نظام سے نکل کر ایک نئے عالمی توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ کی بالادستی کو روس، چین اور دیگر ابھرتی طاقتیں چیلنج کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اب صرف مقامی نہیں رہے بلکہ عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک رقابت کا میدان بن چکے ہیں۔
اگر موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال، فوجی اتحادوں اور دباؤ کی سیاست نے خطے میں امن کے امکانات کو کمزور کیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں نے کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔
تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگیں مسئلے حل نہیں کرتیں بلکہ نئے تنازعات کو جنم دیتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قوانین کو طاقتور اور کمزور کے فرق کے بغیر یکساں طور پر نافذ کیا جائے، ریاستی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور مذاکرات کو طاقت پر ترجیح دی جائے۔
مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے انصاف اور توازن کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ بصورتِ دیگر، یہ کشیدگی ایک ایسی وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔


