امریکی اور صیہونی جنگی مشین ایک بار پھر ایران پر بم برسا رہی ہے۔ ہر انقلابی کو اس سامراجی جارحیت کی مذمت بلا تامل کرنی چاہیے۔ لیکن یہ یاد رہنے کہ جارحیت کی مذمت کا مطلب متاثرہ کی توثیق ہرگز نہیں ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران ایک سفاک مذہبی آمریت ہے۔ یہ مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کو پھانسی دے رہی ہے۔ یہ ان عورتوں کو کچلتی ہے جو “عورت، زندگی، آزادی” کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ یہ کمیونسٹوں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں کو قید کررہی ہے جو کہ خودمختار تنظیم سازی کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ نظام ایرانی محنت کشوں کا طبقاتی دشمن ہے، جو اعمال اور افعال میں شاہی قصابوں کے نئے ایڈیشن سے مختلف نہیں۔ تہران کے “نظام” کے لیے آنسو بہانا ان ہزاروں مظاہرین کے خون سے غداری ہے جنہیں حالیہ بغاوتوں میں پولیس نے قتل کیا۔
ایرانی ریاست اس معنی میں سامراج مخالف نہیں ہے جس معنی میں ہم سامراج مخالف ہیں۔ یہ ایک سرمایہ دار ریاست ہے جو عوام کے استحصال کو چھپانے کے لیے مزاحمت کی زبان استعمال کرتی ہے۔ یہ مغرب سے اس لیے نہیں لڑتی کہ انسانیت کو آزاد کرائے، بلکہ علاقائی سرمائے اور تیل کی دولت میں اپنا حصہ یقینی بنانے کے لیے لڑتی ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک ستون ہے، اس کا متبادل نہیں۔
لیکن تہران میں موجود نظام کی سفاکیت امریکی بم کو آزادی کا ہتھیار نہیں بناتی۔ امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ آزادی کا ہاتھ نہیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو 1953 میں سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے برطانوی اور امریکی اجارہ داروں کے لیے ایرانی تیل چوری کرنے کے لیے شاہ کی آمریت نصب کی تھی۔ آج امریکہ اور اسرائیل “جمہوریت” کی باتیں کرتے ہیں جبکہ خلیج کی ہر دوسری سفاک بادشاہت کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور خطے کی تباہی میں سہولت کار ہیں۔ ٹرمپ کی ایرانیوں سے “اپنی حکومت سنبھالنے” کی اپیل جھوٹ ہے، جو ایرانی وسائل لوٹنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ سامراج کا کوئی دوست نہیں ہوتا، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ اگر امریکہ جیت گیا تو ایران آزاد نہیں ہوگا، بلکہ ایک نئی نوآبادی بن جائے گا۔
اس جنگ میں صرف ایک طبقاتی مؤقف ہے: نہ واشنگٹن، نہ تہران!
ہم ملاوں کے ساتھ نہیں، ایرانی محنت کش طبقے کے ساتھ ہیں۔ ہم حجاب اتارنے والی عورتوں کے ساتھ ہیں۔ ہم ان مزدوروں کے ساتھ ہیں جنہوں نے “عورت، زندگی، آزادی” تحریک میں ہڑتال کی۔
ایرانی محنت کشوں کو پینٹاگون کے “نجات” کی ضرورت نہیں۔ انہیں ایک انقلابی سوشلسٹ پروگرام کی ضرورت ہے۔ ایرانی مزدور کا دشمن صرف امریکی بمبار پائلٹ نہیں، وہ ایرانی سرمایہ دار ہے جو محنت کشوں کا خون نچوڑ رہا ہے، اور وہ اسلامی پولیس اہلکار ہے جو مظاہرین کو مار رہا ہے۔
ہم امریکی اور صیہونی سامراجی منصوبے کی شکست چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے بھی حامی ہیں۔ ایرانی عوام اپنا مستقبل خود طے کریں، مذہبی آمریت کے پنجرے سے آزادی اور سامراج کے پنجرے سے آزادی.
حل سی آئی اے کی “ریجیم چینج” نہیں، حل سماجی انقلاب ہے۔ مشرق وسطیٰ کے محنت کش طبقے کا متحدہ جدوجہد، تمام سرحدوں، تمام مذہبی آمریتوں اور تمام سرمایہ دار ریاستوں کو توڑنے کے لیے۔
ملاوں کی زنجیریں توڑو، سامراج کے بم توڑو، سرمایہ داری کا پنجرا توڑو۔
محنت کش طبقے کی بین الاقوامی یکجہتی زندہ باد!


