جب نظریہ آزمائش میں ہو: ایران کا فیصلہ کُن دور/ فاروق نتکانی

مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پر تاریخ ہمیشہ خون اور نظریے کے درمیان لکھی گئی ہے۔ کبھی یہ سرزمین خلافتوں کا مرکز بنی، کبھی استعمار کے نقشوں کا تجربہ گاہ، اور کبھی نظریاتی ریاستوں کی آزمائش گاہ۔ آج اگر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر ہے تو یہ محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کی لرزش ہے ایک ایسا عہد جو انقلاب، مزاحمت اور نظریاتی خود مختاری کے بیانیے پر قائم تھا۔

تاریخ صرف واقعات کا سلسلہ نہیں ہوتی، وہ تہذیبوں کی سانسوں کی آواز ہوتی ہے۔ اور اس لمحے ایران کی سانسیں تیز بھی ہیں اور بوجھل بھی۔

1979ء کا انقلاب صرف شاہِ ایران کا خاتمہ نہیں تھا؛ وہ مغربی سیاسی ڈھانچے کے مقابل ایک مذہبی انقلابی ماڈل کی تشکیل تھی۔ اس ماڈل کی قیادت پہلے امام خمینی کے پاس رہی اور پھر خامنہ ای کے پاس۔ چھتیس برس تک انہوں نے ریاست، نظریہ اور عسکری طاقت کو ایک دھاگے میں پروئے رکھا۔

آج سوال جانشینی کا نہیں، نظریاتی تسلسل کا ہے۔

ایران کا آئین، آرٹیکل 111، عبوری بندوبست فراہم کرتا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان اور دیگر آئینی شخصیات نظام کو سنبھال سکتے ہیں۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آئینی خلا اکثر نظریاتی زلزلے کو نہیں روک پاتے۔ ریاستیں آئین سے چلتی ہیں، مگر قومیں یقین سے۔ اگر یقین متزلزل ہو جائے تو ادارے بھی لرزتے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے زاویے سے یہ واقعہ تین سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے:

1. ریئلسٹ (Realist) زاویہ

ریئلسٹ مفکرین کے نزدیک عالمی سیاست طاقت کے توازن کا کھیل ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل نے یہ کارروائی کی ہے تو یہ “ڈیٹرنس” کو توڑنے کی کوشش ہے یعنی ایران کے جوہری اور علاقائی اثر کو پیشگی ضرب لگانا۔

اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت بیان محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ طاقت کے اظہار کی حکمت عملی ہے۔

2. تعمیراتی (Constructivist) زاویہ

ایران کی ریاست اپنی شناخت “مزاحمت” سے اخذ کرتی ہے۔ اگر قیادت کو شہادت کے بیانیے میں ڈھالا گیا تو داخلی سطح پر اتحاد مضبوط ہو سکتا ہے۔ شناختی سیاست میں موت اکثر تحریک کو کمزور نہیں بلکہ مزید راسخ کر دیتی ہے۔

3. علاقائی طاقت کی حرکیات

Israel Defense Forces کی کارروائیاں اور خلیجی ریاستوں میں کشیدگی اس بات کی علامت ہیں کہ تنازع پراکسی مرحلے سے نکل کر براہِ راست تصادم میں داخل ہو چکا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے تو تیل کی قیمتیں عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہیں۔

جب جنگ کے بادل منڈلاتے ہیں تو سب سے پہلے بازار لرزتے ہیں۔ Emirates، Qatar Airways اور Etihad Airways جیسی ایئر لائنز کی پروازوں کی معطلی محض سفری خلل نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔

توانائی کی سپلائی چین اگر متاثر ہوئی تو یورپ، چین اور جنوبی ایشیا تک مہنگائی کی نئی لہر دوڑ سکتی ہے۔ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں رسک سے گریز کرتے ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ کی آگ ہمیشہ عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

تہران کی سڑکوں پر اگر عوام “شہادت” کے نعرے لگا رہے ہیں تو یہ وقتی اتحاد کی تصویر ہے۔ مگر ایران پہلے ہی معاشی پابندیوں، افراطِ زر اور نوجوان نسل کی بے چینی کا سامنا کر رہا تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ خارجی حملہ وقتی اتحاد پیدا کرتا ہے، مگر طویل بحران داخلی سوالات کو اور گہرا کر دیتا ہے۔

کیا نئی قیادت نظریاتی سختی برقرار رکھے گی؟
یا عالمی دباؤ کے تحت سفارتی لچک اختیار کرے گی؟

یہی وہ موڑ ہے جہاں ایران کا مستقبل طے ہوگا۔

اگر یہ تصادم پھیلتا ہے تو یہ صرف ایران اور اسرائیل کا معرکہ نہیں رہے گا۔ روس، چین، امریکہ اور یورپی طاقتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایک چنگاری عالمی صف بندی کو بدل سکتی ہے قوموں کی تقدیر کبھی کبھی ایک لمحے کے فیصلے میں چھپی ہوتی ہے، مگر اس لمحے کے پیچھے صدیوں کی تاریخ سانس لے رہی ہوتی ہے۔”

آج ایران اسی لمحے میں کھڑا ہے۔

علی خامنہ ای کی ہلاکت تصدیق شدہ حقیقت ایران کے لیے صرف قیادت کا خلا نہیں، بلکہ نظریے کی آزمائش ہے۔ اور اگر یہ بحران عالمی جنگ کی طرف بڑھتا ہے تو دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی باب میں داخل ہو سکتی ہے۔ ریاستیں گرتی نہیں، بدلتی ہیں۔ نظریات مرتے نہیں، نئے قالب اختیار کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایران کس قالب کا انتخاب کرے گا تصادم کا یا توازن کا؟

آنے والے دن صرف ایران کی نہیں، عالمی نظام کی سمت بھی متعین کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں