قصوروار کون: فرد یا ڈھانچہ؟-سائرہ رباب

حالیہ دنوں فاطمہ میڈیکل کالج کی ایک طالبہ کی خودکشی نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وہی بحث چھیڑ دی: طلبہ خودکشی کیوں کر رہے ہیں؟ فوراً نفسیاتی کاؤنسلنگ، موٹیویشنل سیشنز، مذہب سے جڑنے اور “مثبت سوچ” کی باتیں شروع ہو گئیں۔ کبھی معاملے کو ڈارک ویب جیسی سائٹس سے جوڑ دیا جاتا ہے، کبھی اسے محض جذباتی کمزوری قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں مسئلہ زیادہ تر فرد کی ذات تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے سماجی، معاشی اور ساختی اسباب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ذہنی دباؤ کا مسئلہ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی سخت اور بے رحم نظامی دباؤ بھی کارفرما ہے؟
کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی آف لاہور میں بھی اسی نوعیت کے واقعات اور بحث سامنے آئی تھی۔ مگر ہمارے ہاں کسی مسئلے کی تہہ میں اتر کر عملی قدم اٹھانے کے بجائے عموماً وقتی شور، رسمی بیانات اور چند سیمینارز پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ چند روز تک سوشل میڈیا پر افسوس، مذمت اور جذباتی تقاریر کا سلسلہ چلتا ہے، پھر بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ المناکی اپنی جگہ رہتی ہے، اور بے ضابطگی یا لاپرواہی کو کبھی تقدیر، کبھی قدرت کی رضا پر ڈال کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
ایک طرف موٹیویشنل اسپیکرز مسلسل یہ باور کراتے ہیں کہ ہر مشکل نئے راستے کھولتی ہے، ناکامی دراصل کامیابی کی سیڑھی ہے، اور جو ہو گیا اسے بھلا کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔ دوسری طرف بعض جامعات نفسیاتی مراکز قائم کر دیتی ہیں تاکہ ذہنی صحت کی جانچ اور رہنمائی کا تاثر دیا جا سکے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف نفسیاتی کونسلنگ اس مسئلے کا حل ہے، جب اس کے پیچھے سوشو اکنامک دباؤ کی ایک پوری ساخت موجود ہو؟
نفسیاتی مسائل کی وجوہات متعدد ہوتی ہیں، مگر ان میں سب سے بنیادی اور طاقتور عنصر معیشت ہے۔ متوسط یا کم آمدنی والے والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر بچوں کو پرائیویٹ اداروں میں داخل کراتے ہیں۔ شروع میں پیکیج، رعایتیں اور زرق برق ماحول امید دلاتا ہے۔ مارکس کی بنیاد پر دیے جانے والے پیکیجز بظاہر سہولت ہوتے ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ایسا جال بھی ثابت ہو سکتے ہیں جس میں طالب علم اور اس کا خاندان دونوں الجھ جاتے ہیں۔
جب طالب علم اس ماحول کا حصہ بنتا ہے تو والدین کی جیب پر بوجھ بڑھتا ہے اور خود وہ بھی مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔ ہر سمسٹر ایک امتحان بن جاتا ہے…..مارکس کم آئے تو رعایت ختم، حاضری کم ہوئی تو جرمانہ، فیس لیٹ ہوئی تو داخلہ خطرے میں، کارکردگی متاثر ہوئی تو پیکیج منسوخ۔ وہ صرف علم حاصل نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ ہر لمحہ یہ خوف بھی ساتھ لے کر چل رہا ہوتا ہے کہ کہیں وہ اپنے والدین پر بوجھ نہ بن جائے۔ مالی عدم استحکام، ناکامی کا ڈر، ری ایڈمیشن کی پریشانی اور مستقبل کی غیر یقینی.. اور پھر جب ڈگری کے کٹھن پہاڑ سر کر لیتے ہیں، تو عملی میدان میں کوئی تال میل نظر نہیں آتا، خواب و حقیقت میں خلیج ہی خلیج رہ جاتی ہے۔یہ سب مل کر ایک مسلسل ذہنی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔
جب ایسے حالات میں کوئی ٹوٹ جاتا ہے تو ہم فوراً کہہ دیتے ہیں کہ “وہ کمزور تھا” یا “اس میں حوصلہ نہیں تھا۔” یا ” تربیت نہیں ہے “، ” مذھب سے دوری ہے “۔ مگر کیا حوصلہ مالی عدم استحکام کی جگہ لے سکتا ہے؟ کیا مثبت سوچ پالیسی کی سختی کو نرم کر دیتی ہے؟ اگر ڈھانچہ غیر انسانی ہو تو فرد کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، ایک حد کے بعد وہ بھی تھک جاتا ہے۔ خودکشی کوئی اچانک لیا گیا فیصلہ نہیں ہوتا ۔۔۔یہ تل تل مرنے کا عمل ہے۔ یہ بے بسی کا آخری مرحلہ ہے، جس سے پہلے کئی پڑاؤ آتے ہیں۔ ان پڑاؤوں سے گزرتے ہوئے طالب علم کے آس پاس موجود لوگ۔۔۔۔دوست، اساتذہ، انتظامیہ، محلہ اور معاشرہ۔۔۔۔اکثر بے نیاز رہتے ہیں۔
مسئلہ فرد کی کمزوری نہیں ، مسئلہ وہ ڈھانچہ ہے جو انسان کو مسلسل کارکردگی کی مشین میں بدل دینا چاہتا ہے۔ اصل خرابی اس نظام میں ہے جو یونیورسٹی کو دکان اور تعلیم کو پراڈکٹ بنا دیتا ہے۔ یہاں طالب علم “کسٹمر” بھی ہے اور “پرفارمر” بھی۔ اسے فیس بھی ادا کرنی ہے اور رینکنگ بھی برقرار رکھنی ہے۔ استاد کو تحقیق، پبلیکیشن، فنڈنگ اور ایویلیوایشن کے اہداف پورے کرنے ہیں۔ دونوں کو کارکردگی کے پیمانوں میں ناپا جاتا ہے۔ اگر کوئی اس دباؤ میں ٹوٹ جائے تو اسے ذاتی مسئلہ قرار دے دیا جاتا ہے، تاکہ ڈھانچہ خود سوالوں سے محفوظ رہے۔
حقیقی اقدامات کرنے کے بجائے اکثر باتوں کا منجن بیچنے کا بندوبست کر دیا جاتا ہے۔ ایک طرف نفسیاتی کونسلنگ ہے، تو دوسری طرف مالیاتی اور ساختی مسائل کا حل موٹیویشنل اسپیکرز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قاسم علی شاہ جیسے مقررین امید، خواب اور مثبت سوچ کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں، مگر کیا یہ بیانیہ نظامی ناانصافی کا متبادل ہو سکتا ہے؟ موٹیویشن ایک حد تک سہارا دے سکتی ہے، مگر جب اسے کمرشلائز کر کے عقیدت کے نام پر مہنگے سیشنز میں بیچا جائے تو یہ بھی اسی کارپوریٹ منطق کا حصہ بن جاتی ہے جس پر سوال اٹھایا جانا چاہیے۔
اسی طرح واصف علی واصف، بابا یحییٰ، سرفراز شاہ، ممتاز مفتی، اشفاق احمد یا قدرت اللہ شہاب جیسے ادبی و روحانی ناموں کی مارکیٹنگ کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ مضبوط کیا جاتا ہے جو فرد کو اپنی ذات کے اندر اصلاح تلاش کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ صبر، شکر اور مثبت سوچ اپنی جگہ اہم اقدار ہیں، مگر اگر مسئلہ پالیسی، فیس اسٹرکچر اور ادارہ جاتی سختی کا ہو تو صرف “خود کو بدل لو” کہنا دراصل اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ کم ہی پوچھا جاتا ہے کہ اسکالرشپ ایک مارکس سے کیوں ختم ہو جاتی ہے؟ ناکامی کو دوبارہ موقع دینے کے بجائے سزا کیوں بنا دیا جاتا ہے؟ فیسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے کون سی سنجیدہ پالیسی موجود ہے؟
آج نظام کی ایک اور حکمتِ عملی یہ بھی ہے کہ افقی سطح پر الجھاؤ پیدا کیا جائے تاکہ عمودی ڈھانچہ محفوظ رہے۔ کہیں ہیومن رائٹس کے نام پر گروہ بندی، کہیں فیمینزم کے نام پر مرد و عورت کو آمنے سامنے، کہیں Millennials اور Gen Z کے بیانیے۔ حالیہ واقعات میں بعض جگہ طلبہ اور اساتذہ کو بھی ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا گیا، اور اس کی آڑ میں ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جن سے اساتذہ پر بھی غیر ضروری دباؤ بڑھ گیا۔ یوں دونوں فریق دباؤ کا شکار ہیں، مگر جو نظام دونوں کا استحصال کر رہا ہے وہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
اصل حل یہ ہے کہ ہم اس پسِ پردہ طاقت کو پہچانیں، اس سے سوال کریں، اور تعلیم کو دوبارہ انسان کے لیے، انسان کی خاطر ترتیب دینے کا مطالبہ کریں۔ اگر ہم ہر سانحے کو فرد کی کمزوری، ایمان کی کمی یا حوصلے کی شکست سے جوڑتے رہیں گے تو ڈھانچہ کبھی سوالوں کے کٹہرے میں نہیں آئے گا۔ مسئلہ صرف ذہنی صحت کا نہیں، بلکہ ایک ایسے کارپوریٹ تعلیمی نظام کا ہے جو انسان کو کارکردگی کے گراف میں بدل دیتا ہے۔ جب تک ہم اس نظامی جبر کو موضوعِ بحث نہیں بنائیں گے، تب تک سانحات کو صرف وعظ، سیمینار اور وقتی شور سے نہیں روکا جا سکے گا۔
ماخوذ : عبدالستار

اپنا تبصرہ لکھیں